راہنمائے سالک
حضرت شیخ محمد ہمایوں حنیف نقشبندی مجددی دامت برکاتہم العالیہ
سالک کے معمولات، وقوفِ قلبی، مراقبہ، تین تسبیحات، شجرہ شریف، رابطۂ شیخ، آدابِ شیخ، صاحبِ نسبت، اور سلسلۂ نقشبندیہ کے سات اسباق۔
معمولات اور اسباق اپنے شیخ کی رہنمائی اور اجازت سے شروع کیجیے۔ یہ صفحہ یاد دہانی کے لیے ہے، شیخ کی جگہ لینے کے لیے نہیں۔
۱
سالک کے معمولات
- وقوفِ قلبی
- مراقبہ
- تین تسبیحات
- شجرہ
- رابطۂ شیخ
- آدابِ شیخ
۲۔ معمولات کا مطلب اور اُن کی اہمیت
اِن معمولات میں سے ہر ایک کا اپنا مطلب ہے اور اپنی جگہ ہے۔ آگے اِنہیں ایک ایک کر کے بیان کیا جا رہا ہے۔
۱
وقوفِ قلبی
وقوف کے معنی اپنے دل کی مسلسل نگہبانی کرنے کے آتے ہیں۔ وہ روحانی دل، قلب جو احساسات اور سوچوں کا مرکز ہے۔ پس اِس قلب کی توجہ اور دھیان اللہ رب العزت کی طرف مسلسل رکھنے کا نام وقوفِ قلبی ہے۔
وقوفِ قلبی حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
اِس مقام کو پانے کا طریقہ یہ ہے کہ سالک ہمیشہ اِس بات کا خیال رکھے کہ اللہ جل شانہ اُسے دیکھ رہے ہیں اور اُس کی حرکات و سکنات سے باخبر ہیں۔ لہٰذا سالک کو چاہیے کہ اپنے قلبِ روحانی کی توجہ کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رکھے۔
کیا وقوف کی مشق کرنا ضروری ہے؟
انسان کی فطرت ہے کہ روزمرہ کی زندگی اور معمولات میں مشغولیت کے باعث بہت سے فضول اور بے جا خیالات اور اَفکار اُس کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔ وقوفِ قلبی کی یہ مشق باقاعدگی سے کرنے سے دل و دماغ کی اِن غلط فکروں کو مٹایا جا سکتا ہے اور ذکرِ اللہ میں مداومت حاصل ہو سکتی ہے۔
اگرچہ شروع میں یہ کام انتہائی مشکل لگتا ہے، لیکن روزانہ مشق کرنے سے بہت آسان ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ سالک وہ مقام پا لیتا ہے کہ بظاہر وہ اپنے روزمرہ کے کاموں، مثلاً نوکری، کھانا وغیرہ، میں مصروف ہوتا ہے لیکن اُس کا دل مسلسل اللہ رب العزت کی یاد میں مشغول رہتا ہے۔
۲
مراقبہ
مراقبہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر مسلسل نگہبان ہے، اِس لیے ہمیں بھی اپنی حرکات و سکنات پر نگران رہنا ہوگا۔
مراقبہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
سلسلہ نقشبندیہ میں مراقبہ کرنے کا طریقۂ کار یہ ہے:
- سالک اپنے روزانہ کے معمول میں سے کوئی خاص وقت متعین کر لے، ایسا وقت جب کوئی دوسرا اُسے پریشان نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ سالک کو اُس وقت موبائل فون بند کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
- اُس کا پیٹ کم از کم ایک یا دو گھنٹے سے خالی ہو۔
- مراقبے کے لیے ۲۵ سے ۳۰ منٹ متعین کر لے۔
- باوضو ہو کر، چوکڑی مار کر یا سنت طریقے سے، قبلہ رو ہو کر بیٹھ جائے۔
- اپنی آنکھیں اور منہ بند کر لے، اور زبان کو اوپر کے تالو سے لگا لے تاکہ حرکت نہ کرنے پائے۔
- اپنے دل کو تمام خیالات سے خالی کر کے، پوری توجہ اور نہایت ادب کے ساتھ، اپنے خیالات کی توجہ کو دل کی طرف اور دل کی توجہ کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف کر لے۔
- سالک اِس بات کی طرف دھیان دے کہ اللہ جل شانہ ہر چیز پر قادر ہیں، اور تمام صفاتِ کاملہ کے حامل اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہیں۔
- اِنہی خیالات کے ساتھ آنکھیں بند کر کے وہ یہ خیال کرے کہ اللہ کے نور کا فیض نبی اکرم ﷺ کے قلبِ مبارک سے، مشائخِ نقشبندیہ کے توسل سے، اُس کے دل میں آ رہا ہے، اور اُس کا دل اِس نور کی برکت سے ہر قسم کی ظلمت، کدورت اور سیاہی سے پاک ہو رہا ہے، اور اُس کا دل کہہ رہا ہے اللہ، اللہ، اللہ، اور وہ اُسے سن رہا ہے۔
اِس نور کا سالک کے قلب میں آنا، یہ کیفیت محض شروع کے چند سیکنڈ تک کے لیے ہے۔
کیا مراقبہ کرنا ضروری ہے؟
تصوف کی راہ میں، خاص کر سلسلہ نقشبندیہ میں، مراقبہ ایک انتہائی اہم اور لازمی جزو ہے۔ وجہ اِس کی یہ ہے کہ نقشبندیہ سلسلے میں درجات اِسی کی وجہ سے پروان چڑھتے ہیں، اور سالک یہ سفر طے کرتے ہوئے اللہ کا قرب پا لیتا ہے۔
۳
تین تسبیحات
ذیل میں دی گئی یہ تین تسبیحات روزانہ سو سو مرتبہ پڑھنے کا اہتمام کرے، یعنی ایک تسبیح برابر ایک سو مرتبہ۔ یہ دن میں ایک مرتبہ پڑھے، فجر سے لے کر مغرب کے درمیان کسی بھی وقت، اور رات میں ایک مرتبہ پڑھے، مغرب کے بعد سے فجر کے درمیان کسی بھی وقت۔
کوشش کرے کہ یہ تینوں تسبیحات ایک ہی وقت مقرر کر کے پڑھ لے، البتہ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو دن میں کسی بھی وقت پورا کر لے۔
استغفار
سو مرتبہ
اَسْتَغْفِرُ اللهَ تعالىٰ رَبِّىْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوبُ اِلَيْهِ
درود شریف
سو مرتبہ
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلىٰ آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ
تیسرا کلمہ
سو مرتبہ
سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ
تیسرا کلمہ سو مرتبہ پڑھ لیں تو ایک مرتبہ
آخر میں ایک مرتبہ
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِ
نوٹ: یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پانچوں نمازوں کی پابندی اور قرآنِ کریم کی تلاوت سالک کے روزمرہ کے معمول میں شامل ہونا لازمی ہے۔ اپنی زندگی میں سنتوں کا اہتمام کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ سب سالک کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ارکان ہیں۔
۴
شجرہ
اَلسِّلْسِلَةُ الشَّرِيْفَةُ بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِيْن
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلىٰ آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ بِعَدَدِ كُلِّ شَىْءٍ مَّعْلُومٍ لَّكَ
شجرہ شریف کے اکتالیس بزرگوں کے نام اور اختتامی دعا، ہر نام سے پہلے اِلٰہی بِحُرْمَةِ پڑھتے ہوئے، اصل نسخے کے صفحات میں ذیل میں دیے جا رہے ہیں۔




آخری دعا میں پڑھنے والا اپنا نام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے کمالاً فی مرتبۃ الاحسان مانگتا ہے، یعنی احسان کے مقام میں کمال۔ یہی اِس پوری راہ کا مقصود ہے۔
۵
رابطۂ شیخ
رابطۂ شیخ، یعنی اپنے شیخ سے رابطے میں رہنا، سالک کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ سالک اپنے شیخ سے مستقل رابطے میں رہے، اور اپنے ہر معاملے میں، دینی ہو یا دنیوی، شیخ سے مشورہ کرے، اور اپنی کیفیات اور معمولات کی اطلاع اپنے شیخ کو کم از کم پندرہ دن میں ایک بار ضرور کرے۔
نوٹ: سالک کو چاہیے کہ اپنے شیخ کو ہر اچھی اور بری کیفیت سے آگاہ کرے، اور کچھ نہ چھپائے یا بڑھائے۔ اِس بات کی شدید تنبیہ کی جاتی ہے کہ سالک خود اپنا طبیب یا شیخ نہ بنے، اور خود سے کوئی حل اپنے لیے تجویز نہ کرے۔
۶
آدابِ شیخ
شیخ کا مقصد درحقیقت سالک کا اللہ تعالیٰ سے رابطہ جوڑنا ہے۔ لہٰذا سالک یاد رکھے کہ طریقت کا یہ راستہ، نفسِ نفیس خود سے اکیلا نہیں کر سکتا۔ محض صوفی طریقے میں داخل ہو جانے سے کوئی اللہ کا مقرب نہیں بن سکتا۔ لہٰذا سالک کو چاہیے کہ شیخ کی کامل اتباع کرے اور اُس کے احکام مان کر اُن پر چلے، کیونکہ وہ سالک کا رہنما، معلم اور سرپرست ہے۔ پس سالک و مرید کے دل میں اپنے شیخ اور اُس کے گھر والوں کے لیے حد درجہ کا احترام اور ادب ہونا لازمی امر ہے۔
ذیل میں کچھ اہم نکات درج کیے جاتے ہیں، جن میں سالک کو احتیاط برتنی چاہیے۔
- سالک کو چاہیے کہ ہر دینی و دنیوی معاملے میں شیخ کی اتباع کرے، اور صبر سے کام لے اور پریشان نہ ہو۔
- اگر اُس کا شیخ اُسے کسی معاملے میں ایسی بات کا مشورہ دے جو اُس، یعنی سالک، کی منشا کے خلاف ہو، پھر بھی اُسے چاہیے کہ شیخ کے حکم کی تعمیل کرے، اور اُس سے اِس بات کے منفی اور مثبت پہلو کے بارے میں سوال نہ کرے۔
- سالک کو اپنے ادب و احترام کا محور محض اپنے شیخ کو نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اُس پر لازم ہے کہ شیخ کے اہل و عیال، اساتذہ اور شیوخ کا بھی احترام کرے۔
- شیخ کے سامنے سالک کو اپنے بہترین رویے میں رہنا چاہیے، اور غور سے اُس کی بات سننی چاہیے۔
- شیخ کی موجودگی میں سالک کو چاہیے کہ خاموش رہے، اور پوری طرح سے شیخ کی طرف متوجہ رہے، خواہ اُس کا شیخ کوئی بات بیان کر رہا ہو یا خاموش بیٹھا ہو، کیونکہ خاموشی کے باوجود بھی شیخ کے قلب سے فیض سالک کے قلب میں منتقل ہو رہا ہوتا ہے۔
- سالک کو چاہیے کہ اپنے شیخ کے مشورے پر اپنی کوئی رائے نہ رکھے، نہ ہی اُن پر کوئی بہتان لگائے یا سب و شتم کرے۔ اگر وہ شیخ صادق ہے تو اُن کا فیض و برکات سالک تک ضرور پہنچے گا۔ پھر اگر غلطی اُن کے حصے پر ہو تو بھی اللہ تعالیٰ سالک کی نیت کا ثواب اُسے عطا کریں گے۔
- شیخ کے سامنے سالک کو چاہیے کہ دوسروں کے ساتھ گفتگو سے اجتناب کرے، اور غور سے شیخ کی بات کو توجہ سے سنے۔
- سالک کو چاہیے کہ اپنے شیخ کے سامنے، نہ آگے چلے، نہ ہی اُن کی طرف اپنی پیٹھ کرے۔
- سالک کو چاہیے کہ شیخ سے فضول سوالات کرنے سے پرہیز کرے۔
- آپ کے شیخ محض آپ کے رہنما اور اُستاد ہیں، بلکہ آپ کے سرپرست بھی ہیں۔ لہٰذا اُن کا حق ہے کہ آپ ہر وقت اُن کا احترام کریں، خواہ وہ موجود ہوں یا نہ ہوں۔
- شیخ کی موجودگی میں سالک کو نوافل عبادات اور ذکر میں اُن کی اجازت کے بغیر مشغول نہیں ہونا چاہیے۔
- سالک کو چاہیے کہ اپنے شیخ کے ہر حکم کی تعمیل کرے، اور فرض، واجب اور سنت عبادات کے علاوہ اُن کی موجودگی میں کسی اور عمل میں مشغول نہ ہو۔
- سالک کو چاہیے کہ اپنے شیخ کے مصلے پر قدم نہ رکھے۔
- سالک کو چاہیے کہ وہ برتن، گلاس، چمچ وغیرہ، جو شیخ کے ذاتی استعمال کے لیے ہوں، اُن کو استعمال نہ کرے۔
- شیخ کی غیر موجودگی میں اُن کی آرام گاہ پر آرام نہ کرے۔
- سالک کو چاہیے کہ ہر چیز میں اور ہر طریقے میں شیخ کی اتباع کرے، مثلاً اُن کے لباس، ہیئت اور عبادت وغیرہ میں۔
- سالک کسی معجزے اور کرامت کی توقع نہ کرے۔
- سالک کو چاہیے کہ اپنی کوئی کیفیت اور حالت شیخ سے نہ چھپائے، کیونکہ سالک حق اور باطل کا فیصلہ خود سے نہیں کر سکتا۔
- شیخ سے بات کرتے ہوئے سالک اپنا لہجہ نرم رکھے اور ادب سے بات کرے۔
- سالک کو چاہیے کہ کبھی بھی شیخ کو آواز نہ دے، کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی بے ادبی اور بدتمیزی ہے۔
- جب بھی سالک کو فیض یا برکت یا ترقی حاصل ہو تو وہ اِس بات کا کامل یقین رکھے کہ یہ محض اُس کے شیخ کی طرف سے ہے۔ اگر بالفرض اُسے یہ فیض یا فائدہ کسی اور شیخ کی صورت میں حاصل ہو تو بھی وہ اِسی بات کا خیال کرے کہ یہ اُس کے شیخ کی برکات ہیں۔ یہ خیال کرنا کہ یہ فیض کسی دوسرے شیخ کی مرہونِ منت ہے، سنگین غلطی ہوگی۔
- کوئی بھی سالک مشائخِ کرام کی محبت، خدمت اور ادب کے بغیر اچھی حالت پر نہیں پہنچا۔
- جو شخص بغیر شیخ و مرشد کے طریقت کا دعویٰ کرے، اُس کا شیخ ابلیس ہوگا۔ اور اگر اُس کے ساتھ عجیب و غریب واقعات ظاہر ہوں تو وہ استدراج، یعنی شیطان کی طرف سے، ہوں گے۔
- حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جو شخص بغیر کسی مقتدا کے اِس راہ میں قدم رکھے گا وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔ جو شخص مشائخ کا ادب و احترام چھوڑ دے گا، اللہ تعالیٰ اُسے اپنے بندوں کی نظروں میں ناپسندیدہ بنا دے گا۔
- حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: من لم يعتقد فى شيخه الكمال لا يفلح على يديه ابدا، یعنی جو شخص اپنے شیخ کے کمال کا اعتقاد نہ رکھے گا وہ کبھی کامیاب نہ ہوگا۔
- حضرت ابو علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جو شخص اپنے شیخ کی صحبت میں آئے اور پھر اُس پر اعتراض کرے، بلا شبہ اُس کی بیعت ٹوٹ گئی، اُس پر واجب ہے کہ تجدیدِ بیعت کرے۔
- مرید پر لازم ہے کہ وہ اپنے شیخ کو لفظِ کیوں نہ کہے، ورنہ طریقت میں کامیاب نہ ہوگا۔
- شیخ عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جو شخص اپنے نفس کو اپنے شیخ یا پیر بھائیوں کی محبت سے روگردانی کرنے والا پائے، وہ سمجھ لے کہ اب اُس کو اللہ تعالیٰ کے دروازے سے دھتکارا جا رہا ہے۔
- مرید اپنے شیخ کی ہزاروں برس خدمت کرے اور اُس پر لاکھوں روپے خرچ کرے، تو بھی دل میں یہ خیال نہ لائے کہ میں نے شیخ کا حق ادا کر دیا۔ ایسا کرے گا تو طریقت سے خارج ہو جائے گا۔
- مرید کا اپنے شیخ کی صحبت کو لازم پکڑنا، بعض اوقات مکہ مکرمہ کے نفلی سفر سے بھی افضل ہوتا ہے۔ شیخ مرید کو بیت اللہ کے مالک تک پہنچاتا ہے، جو کہ بیت اللہ سے افضل ہے۔ گویا شیخ ذریعۂ مقصود کی بجائے حقیقی مقصود تک پہنچاتا ہے۔
- مرید پر حق ہے کہ شیخ کی خدمت میں ہر وقت سچائی کے ساتھ آئے، اگرچہ روزانہ ہزار بار آنا نصیب ہو۔
- جس شخص نے بغیر شیخ کے کمال حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو وہ راستے سے بھٹک گیا، کیونکہ میوہ اپنی گٹھلی کے بغیر کامل نہیں ہوتا۔
- مرید پر حق ہے کہ جب اُس کا شیخ اُس کے پیر بھائی کو اُس سے آگے بڑھائے تو یہ اُس پر حسد نہ کرے، ورنہ اُس کے جمے ہوئے پاؤں پھسل جائیں گے اور وہ اپنے مقام سے نیچے گر پڑے گا۔
- جب سالک کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے جسمانی باپ کو چھوڑ کر کسی اور طرف نسبت کرے، تو یہ کہاں جائز ہوگا کہ اپنے روحانی باپ، یعنی شیخ، کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی طرف نسبت کرے۔
- مرید اپنے دل میں یہ یقین رکھے کہ مرشد وہ آنکھ ہے جس سے اللہ تعالیٰ میری طرف رحمت سے دیکھتا ہے، یعنی شیخ کی رضا سے اللہ تعالیٰ راضی اور شیخ کی ناراضگی سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔
- مرید اپنے شیخ کے ظاہر پر نظر نہ کرے، بلکہ اُس باطنی نعمت پر نظر رکھے جو اُس کے دل میں ہے۔
- مرید اپنی ظاہری عبادات کے احوال کو اپنے شیخ کے حال پر قیاس نہ کرے، بلکہ یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شیخ کا ایک دن مرید کے ہزار دنوں پر فضیلت رکھتا ہے۔
- حضرت علی بن وفا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ شیخ مرید کے لیے آئینے کی مانند ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ کسی مرید نے حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ سے عرض کیا، اے میرے سردار! آج رات میں نے آپ کے چہرے کو خنزیر کا چہرہ دیکھا۔ آپ نے فرمایا، بیٹے! میں تیرا آئینہ ہوں، تو اپنے نفس کو خنزیروں کی صفت سے پاک کر لے، پھر میری طرف دیکھ، تجھے اپنا اصلی چہرہ نظر آئے گا۔
- مرید کو چاہیے کہ اپنے دل کو ہر وقت شیخ کے دل کے ساتھ مضبوطی سے ملائے رکھے، اور سمجھے کہ اُسے جو بھی باطنی نعمت پہنچے گی وہ شیخ ہی کے واسطے سے پہنچے گی، اگرچہ ظاہر میں کسی اور کی طرف سے فیض آتا دیکھے۔
- مرید کو چاہیے کہ شیخ کی خفگی سے دل تنگ نہ ہو۔ اگر شیخ دھتکار بھی دے تو بھی جدا نہ ہو۔ جان لے کہ بزرگانِ دین کسی مسلمان کو ایک سانس کے برابر لمحہ کے لیے بھی ناپسند نہیں کرتے۔ جو کچھ کرتے ہیں، مریدین کی تعلیم کی غرض سے کرتے ہیں۔
- مرید کو زیب نہیں دیتا کہ اپنے شیخ کے مقام کو جاننے کی فکر میں لگے۔ بس اپنے کام سے کام رکھے، کیونکہ مقصد پھل کھانے سے ہے، درخت گننے سے نہیں۔
- مرید پر لازم ہے کہ وہ شیخ کے کلام کو اپنی عقل کے ترازو میں نہ تولے۔ اگر شیخ مرید کو کسی خطیب یا عالم کی صحبت میں بیٹھنے سے روکے تو مرید فوراً رُک جائے، ورنہ نقصان اٹھائے گا۔
- شیخ کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہنے والے مریدین اپنے آپ کو دوسروں سے افضل نہ سمجھیں۔ کیا نہیں دیکھتے کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ دور سے آئے اور واصل ہوئے، جبکہ ابو جہل و ابو لہب قریب رہ کر بھی مردود ہوئے۔
- حضرت یوسف عجمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جو مرید بلا عذر کسی محفلِ ذکر سے پیچھے رہ جائے تو اُسے چاہیے کہ اپنے پیر بھائیوں کے سامنے اپنے آپ کو ملامت کرے اور اپنے نفس کو ذلیل کرے۔
- مرید کو چاہیے کہ وہ اپنے باپ دادا کی بزرگی پر اِکتفا نہ کرے، جیسا کہ اکثر مشائخ کی اولاد کا حال ہے۔ یاد رکھے کہ بزرگی ورثے میں نہیں ملتی، طلب و مجاہدے سے ملتی ہے۔
- سلف صالحین اپنے مریدین سے کہتے تھے: اُمْحُ لَوْحَكَ وَتَعَالُ، یعنی تو اپنے دل کی تختی کو صاف کر لے، پھر ہمارے پاس آ جا۔ جس طرح لکھی ہوئی تختی پر لکھا نہیں جاتا، اُسی طرح ماسوا سے بھرے ہوئے دل میں کچھ فیض نہیں آتا۔
- مرید کو چاہیے کہ اگر شیخ اُس پر ناراض ہو تو فوراً اُسے راضی کرنے کی کوشش کرے، اگرچہ اُسے اپنے گناہ کا پتہ نہ چلے۔
- مرید کو چاہیے کہ شیخ کی نیند کو اپنی عبادت سے افضل سمجھے۔
- مرید کو چاہیے کہ شیخ کی بیوی کو اپنی والدہ کا درجہ دے۔ وَاَزْوَاجُهُ اُمَّهَاتُهُمْ، یعنی اُس کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں، اِس کی دلیل ہے۔
- مرید کو چاہیے کہ شیخ کو اپنی طرف چل کر آنے کی تکلیف نہ دے۔ سید علی مرتضیٰ رحمہ اللہ کا ایک مرید حج سے واپس آیا تو چاہا کہ شیخ میرے پاس تشریف لا کر مبارک باد دیں۔ جب ایسا نہ ہوا تو وہ شیخ سے بدظن ہوا۔ پس موت سے پہلے اُس کے تمام کمالات سلب ہو گئے۔
- مرید کو چاہیے کہ اپنے شیخ کی اولاد اور عیال کی ضروریات کو ہر چیز پر مقدم رکھے۔ اگر اپنا تمام مال بھی خرچ کرنا پڑے تو یہ گمان کرے کہ میں نے شیخ کے سکھائے ہوئے ایک ادب کا بھی حق ادا نہیں کیا۔
- مرید کو چاہیے کہ ہر وقت اپنے شیخ کے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھے، جہاں تک ہو سکے نظریں جھکائے رکھے۔ البتہ کبھی کبھی چہرے کو دیکھنے کی لذت لیتا رہے۔
- سید علی مرتضیٰ رحمہ اللہ فرماتے تھے: مرید کو چاہیے کہ اپنے شیخ کی اجازت کے بغیر کسی وظیفے یا ہنر میں مشغول نہ ہو۔
- جب شیخ مرید کو اپنا جبہ، نعلین، ٹوپی یا مسواک وغیرہ عطا کرے تو مرید کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اِن اشیاء کو دنیوی مقصد کے لیے استعمال کرے، یعنی بیچ ڈالے۔ بعض اوقات اِن چیزوں میں شیخ کا فیض شامل ہوتا ہے۔
- اگر تائیدِ الٰہی سے کوئی مرید اپنے شیخ کے برابر ہو جائے اور شیخ تصدیق بھی کر دے، تو بھی مرید اپنے شیخ کے ادب کو لازم رکھے۔ اُسے جو کچھ ملا اپنے شیخ کی برکت سے ملا۔
- مرید پر حق ہے کہ وہ شیخ کو ہر بات میں سچا سمجھے۔ اگر سمجھ میں نہ آئے تو اپنی سمجھ کا قصور جانے۔
- جس طرح انسان کے لیے دو معبود نہیں، عورت کے لیے بیک وقت دو شوہر نہیں، اُسی طرح مرید کے لیے دو شیخ طریقت نہیں۔ جو سالک ایک وقت میں کئی مشائخ سے واسطہ رکھے گا کبھی کامیاب نہ ہوگا۔
- سید علی خواص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مرید اپنے شیخ کے دوستوں کو دوست اور دشمنوں کو دشمن جانے، ورنہ شیطان کا لقمہ بن جائے گا۔
- حضرت سید علی بن وفا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مرید اپنے شیخ کی نرمی سے دھوکہ نہ کھائے، بلکہ ڈرتا رہے۔ اور شیخ کی سختی پر رنجیدہ ہونے کی بجائے خوش ہو کہ میری اصلاح ہو رہی ہے۔
- شیخ کو حق حاصل ہے کہ وہ مرید کو ایک وظیفے سے ہٹا کر دوسرے کو اختیار کرنے کا حکم دے۔ مرید کو چاہیے کہ فوراً تعمیل کرے، اگرچہ اُسے پہلے وظیفے میں فائدہ نظر آتا ہو۔
- اگر شیخ کبھی مرید کے سامنے خوش خوش متبسم نظر آئے تو بھی مرید شیخ کے ادب میں غفلت نہ کرے، کیونکہ شیخ کبھی بارش اور رحمت کی صورت میں، اور کبھی تلوار اور آزمائش ہوتا ہے۔
- مرید کو چاہیے کہ اپنے شیخ کی ہر بات کو حق جانے، اگرچہ وقتی طور پر مصلحت سمجھ میں نہ آئے۔
- مرید کو چاہیے کہ وہ اپنے شیخ کی صریحاً یا اشارۃً اجازت کے بغیر اِس زمانے کے کسی بھی بزرگ کی زیارت نہ کرے، اگرچہ وہ بزرگ اُس کے شیخ کے بڑے دوستوں میں سے ہوں۔ اِس سے دلجمعی میں انتشار کا اندیشہ ہے۔
- مرید کو چاہیے کہ جب اُس کے شیخ کے شہر میں کوئی دوسرا بزرگ آئے تو اُس کی طرف، شیخ کے علاوہ اور بہت سے لوگ اگر متوجہ ہوں تو وہ مرید ہرگز متوجہ نہ ہو، ورنہ نقصان اٹھائے گا۔
۷
صاحبِ نسبت
بیعت کا حقیقی مقصد نسبت کا حصول ہے۔ یہ وہ حالت ہے کہ جب انسان کو مستقل طور پر تعلق مع اللہ حاصل ہو جاتا ہے، یعنی ہر حال میں اللہ کے ساتھ رابطہ ہونا۔
تصویری خاکہ برائے مراقبہ
لطائف
- لطیفۂ قلب1
- لطیفۂ روح2
- لطیفۂ سِر3
- لطیفۂ خفی4
- لطیفۂ اخفیٰ5
- لطیفۂ نفس6
- لطیفۂ قالبیہ7
لطیفۂ قالبیہ کو سلطان الاذکار بھی کہا جاتا ہے۔
۸
نقشبندیہ سلسلے کے اسباق
نقشبندیہ سلسلے میں کل پینتیس اسباق ہیں، جو سالک کو اُس کے درجۂ ترقی کے مطابق شیخ تجویز فرماتے ہیں۔
نوٹ: یہ بات جان لینا بہت ضروری ہے کہ یہ اسباق کسی مستند اور کامل شیخ کی زیرِ تربیت سیکھنا ضروری ہے۔ کوئی بھی سالک شیخ کی اجازت کے بغیر خود سے اِن اسباق کی مشق ہرگز نہ کرے۔
ذیل میں نقشبندیہ سلسلے کے سات اسباق درج ہیں، جو شیخ کی زیرِ نگرانی کیے جاتے ہیں۔
سبق نمبر ۱
لطیفۂ قلب
انسان کا روحانی قلب بائیں پستان سے دو انگل نیچے پہلو کی جانب دائیں طرف واقع ہے۔ سالک اپنے شیخ سے یہ سبق سیکھنے کے بعد اسمِ ذات، یعنی اللہ رب العزت کا ذاتی نام، کا ذکر اللہ، اللہ، اللہ اپنے قلب سے مراقبے کے ذریعے شروع کرتا ہے۔ اِس ذکر میں وہ اپنی زبان کو حرکت نہیں دیتا اور زبان استعمال نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اِس بات کی تلقین کی جاتی ہے کہ سالک اپنی زبان کو تالو سے لگا لے تاکہ حرکت نہ کرنے پائے۔
سالک کو چاہیے کہ اِس ذکر کے دوران اپنے دماغ سے تمام غیر ضروری خیالات ہٹا لے اور اللہ کی طرف متوجہ ہو۔
ابتدا میں اِس ذکر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ خیالات و سوچیں پریشان کریں گی۔ لیکن آہستہ آہستہ مشق کے ساتھ اور شیخ کی دعاؤں کی برکت سے دل پر یہ ذکر اِس خوبی سے جاری ہو جائے گا کہ اتنی محنت درکار نہ ہوگی۔ یہ سانس کے نظام، یعنی نظامِ تنفس، کی طرح خود کار طریقے سے ہونے لگے گا۔
یہ بات یاد رہے کہ اصل مقصود دل کی حرکت کی آواز سننا نہیں ہے۔ پس سالک اِس بات پر توجہ دے کہ اُس کا دل اللہ کی محبت اور چاہت میں سرشار ہو کر اپنے اللہ کو پکار رہا ہے۔
اِس سبق کے مکمل ہو جانے کی نشانی یہ ہے کہ مرید کا دل دنیا کی محبت اور حرص سے پاک ہو جاتا ہے، اور حقیقی محبت اور سنت کی طرف چلنے لگتا ہے۔ کھانے کی حوس پر قابو پانا اُس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
سبق نمبر ۲
لطیفۂ روح
لطیفۂ روح دائیں پستان سے دو انگل نیچے پہلو کی جانب واقع ہے۔ مرید کو چاہیے کہ وہ اسمِ ذات، اللہ اللہ اللہ، کا ذکر اپنے لطیفۂ روح کے ذریعے مراقبے کی حالت میں کرے۔
اِس سبق کے مکمل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ سالک میں صبر و برداشت پیدا ہونے لگتا ہے، اور وہ اپنے غصے پر قابو پانے لگتا ہے۔
سبق نمبر ۳
لطیفۂ سِر
لطیفۂ سِر کا مقام بائیں پستان سے دو انگل کے فاصلے پر سینے کی جانب ہے۔ اِس مقام کا ذکر اسمِ ذات اللہ کی یاد اِس لطیفۂ سِر سے کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
اِس لطیفۂ سِر کو پا لینے کی نشانی یہ ہے کہ سالک کے دل سے لالچ و طمع ختم ہو جاتی ہے، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اُس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
سبق نمبر ۴
لطیفۂ خفی
لطیفۂ خفی کا مقام دائیں پستان سے دو انگل کے فاصلے پر سینے کی جانب ہے۔ یہ ذکر بھی مشق اور شیخ کی برکت سے آہستہ آہستہ آسان ہو جاتا ہے۔
اِس کے حاصل ہونے کی علامت یہ ہے کہ حسد و بخل کے منفی خیالات زائل ہو جاتے ہیں۔
سبق نمبر ۵
لطیفۂ اخفیٰ
اِس کا مقام سینے کے وسط میں ہے۔ سالک کو چاہیے کہ اِس مقام پر اسمِ ذات اللہ، اللہ، اللہ کا ذکر کرے۔
اِس کے مکمل ہونے کی علامت یہ ہے کہ منفی اثرات زائل ہو جاتے ہیں، مثلاً تکبر اور عُجب وغیرہ۔
سبق نمبر ۶
لطیفۂ نفس
نفس پیشانی کے وسط میں واقع ہے۔ اِس کا ذکر بھی مراقبے کی صورت میں ہوتا ہے۔ تکبر اور نفس کی بیماری اِس سے ختم ہو جاتی ہے۔
سبق نمبر ۷
لطیفۂ قالبیہ
یہ لطیفہ درحقیقت انسان کے چاروں عناصر، یعنی زمین، آگ، پانی اور ہوا، کی عکاسی کرتا ہے۔ اِس کا مقام سر کے درمیان میں ہے۔ اِس کا دوسرا نام سلطان الاذکار ہے۔ اِس میں سالک یہ خیال کرے کہ اُس کا پور پور اور بال بال ذکر میں مشغول ہے۔
اِس کے مکمل ہونے کی علامت یہ ہے کہ جسم کا ہر ایک حصہ ذکر ہی میں گم ہو جاتا ہے۔ اُس کا خون، ہڈی، بوٹی، الغرض کہ سب کچھ اپنے رب کی یاد میں مگن ہو جاتا ہے۔
سند بیعت
مسمّٰی ………… کو بوقت ………… یوم …………
بتاریخ ………… ماہ ………… سنہ بمقام …………
داخل طریقہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ غفوریہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اِس عاجز و صاحبِ موصوف در جملہ اہلِ اسلام کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھے، اور اپنی رضا و بقاءِ ابدی سے شرف بخشے، آمین۔
دستخط شیخ: …………
خلیفہ مجاز حضرت مولانا شمس الرحمٰن العباسی مدظلہ العالی
گر ہمی خواہی کہ گردی دردِ عالم ارجمند
دائماً باشی غلامِ خاندانِ نقشبند
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ غفوریہ
