Falah · Naqshbandi Mujaddidi

سالک کے معمولات

راہ پر چلنے والے کے روزانہ کے معمولات، اُن کا مطلب، اور اُن کے کرنے کا طریقہ

01وقوفِ قلبی

وقوف کے معنی اپنے دل کی مسلسل نگہبانی کرنے کے آتے ہیں۔ وہ روحانی دل، قلب جو احساسات اور سوچوں کا مرکز ہے۔ پس اِس قلب کی توجہ اور دھیان اللہ رب العزت کی طرف مسلسل رکھنے کا نام وقوفِ قلبی ہے۔

وقوفِ قلبی حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

اِس مقام کو پانے کا طریقہ یہ ہے کہ سالک ہمیشہ اِس بات کا خیال رکھے کہ اللہ جل شانہ اُسے دیکھ رہے ہیں اور اُس کی حرکات و سکنات سے باخبر ہیں۔ لہٰذا سالک کو چاہیے کہ اپنے قلبِ روحانی کی توجہ کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رکھے۔

کیا وقوف کی مشق کرنا ضروری ہے؟

انسان کی فطرت ہے کہ روزمرہ کی زندگی اور معمولات میں مشغولیت کے باعث بہت سے فضول اور بے جا خیالات اور اَفکار اُس کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔ وقوفِ قلبی کی یہ مشق باقاعدگی سے کرنے سے دل و دماغ کی اِن غلط فکروں کو مٹایا جا سکتا ہے اور ذکرِ اللہ میں مداومت حاصل ہو سکتی ہے۔

اگرچہ شروع میں یہ کام انتہائی مشکل لگتا ہے، لیکن روزانہ مشق کرنے سے بہت آسان ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ سالک وہ مقام پا لیتا ہے کہ بظاہر وہ اپنے روزمرہ کے کاموں، مثلاً نوکری، کھانا وغیرہ، میں مصروف ہوتا ہے لیکن اُس کا دل مسلسل اللہ رب العزت کی یاد میں مشغول رہتا ہے۔

02مراقبہ

مراقبہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر مسلسل نگہبان ہے، اِس لیے ہمیں بھی اپنی حرکات و سکنات پر نگران رہنا ہوگا۔

مراقبہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

سلسلہ نقشبندیہ میں مراقبہ کرنے کا طریقۂ کار یہ ہے:

  1. سالک اپنے روزانہ کے معمول میں سے کوئی خاص وقت متعین کر لے، ایسا وقت جب کوئی دوسرا اُسے پریشان نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ سالک کو اُس وقت موبائل فون بند کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
  2. اُس کا پیٹ کم از کم ایک یا دو گھنٹے سے خالی ہو۔
  3. مراقبے کے لیے ابتدا میں ۲۵ سے ۳۰ منٹ متعین کر لے، اور چند ہفتوں میں آہستہ آہستہ اِسے بڑھا کر ۴۵ منٹ تک لے جائے۔
  4. باوضو ہو کر، چوکڑی مار کر یا سنت طریقے سے، قبلہ رو ہو کر بیٹھ جائے۔
  5. اپنی آنکھیں اور منہ بند کر لے، اور زبان کو اوپر کے تالو سے لگا لے تاکہ حرکت نہ کرنے پائے۔
  6. اپنے دل کو تمام خیالات سے خالی کر کے، پوری توجہ اور نہایت ادب کے ساتھ، اپنے خیالات کی توجہ کو دل کی طرف اور دل کی توجہ کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف کر لے۔
  7. سالک اِس بات کی طرف دھیان دے کہ اللہ جل شانہ ہر چیز پر قادر ہیں، اور تمام صفاتِ کاملہ کے حامل اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہیں۔
  8. اِنہی خیالات کے ساتھ آنکھیں بند کر کے یہ خیال کرے کہ اللہ کے نور کا فیض نبی اکرم ﷺ کے قلبِ مبارک سے، مشائخِ نقشبندیہ کے توسل سے، اُس کے دل میں آ رہا ہے، اور اُس کا دل اِس نور کی برکت سے ہر قسم کی ظلمت، کدورت اور سیاہی سے پاک ہو رہا ہے، اور اُس کا دل کہہ رہا ہے اللہ، اللہ، اللہ، اور وہ اُسے سن رہا ہے۔

اِس نور کا سالک کے قلب میں آنا، یہ کیفیت محض شروع کے چند سیکنڈ تک کے لیے ہے۔

توجہ کہاں رکھنی ہے؟

لطائفِ سبعہ قلب کے وہ مقامات ہیں جن پر سالک کو توجہ رکھنی ہوتی ہے۔ ذیل کے خاکے میں ہر لطیفے کا مقام دکھایا گیا ہے، تاکہ جب اُس کا سبق عطا ہو تو سالک کو معلوم ہو کہ توجہ کہاں کرنی ہے۔

سینے پر ہر فاصلہ دو اُنگل، یعنی تقریباً چار سینٹی میٹر ہے۔ لطیفۂ سِر اور لطیفۂ خفی پستان سے دو اُنگل کے فاصلے پر، مرکز کی جانب ہیں۔ لطیفۂ قلب اور لطیفۂ روح پستان سے اِتنے ہی فاصلے پر، ترچھے رُخ نیچے اور باہر کی طرف ہیں۔ لطیفۂ اخفیٰ دونوں پستانوں کے عین درمیان ہے۔ لطیفۂ نفس پیشانی کے وسط میں ہے، اور لطیفۂ قالبیہ سر کی چوٹی پر۔

7 6 4 5 3 2 1
  • لطیفۂ قلب1
  • لطیفۂ روح2
  • لطیفۂ سِر3
  • لطیفۂ خفی4
  • لطیفۂ اخفیٰ5
  • لطیفۂ نفس6
  • لطیفۂ قالبیہ7

لطیفۂ قالبیہ کو سلطان الاذکار بھی کہا جاتا ہے۔ لطائف کے اسباق شیخ سے ایک ایک کر کے لیے جاتے ہیں، اور اُن کی اجازت کے بغیر اِن میں مشغول نہیں ہونا چاہیے۔

کیا مراقبہ کرنا ضروری ہے؟

تصوف کی راہ میں، خاص کر سلسلہ نقشبندیہ میں، مراقبہ ایک انتہائی اہم اور لازمی جزو ہے۔ وجہ اِس کی یہ ہے کہ نقشبندیہ سلسلے میں درجات اِسی کی وجہ سے پروان چڑھتے ہیں، اور سالک یہ سفر طے کرتے ہوئے اللہ کا قرب پا لیتا ہے۔

03تین تسبیحات

ذیل میں دی گئی یہ تین تسبیحات روزانہ سو سو مرتبہ پڑھنے کا اہتمام کرے، یعنی ایک تسبیح برابر ایک سو مرتبہ۔ یہ دن میں ایک مرتبہ پڑھے، فجر سے لے کر مغرب کے درمیان کسی بھی وقت، اور رات میں ایک مرتبہ پڑھے، مغرب کے بعد سے فجر کے درمیان کسی بھی وقت۔

کوشش کرے کہ یہ تینوں تسبیحات ایک ہی وقت مقرر کر کے پڑھ لے، البتہ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو دن میں کسی بھی وقت پورا کر لے۔

استغفار

سو مرتبہ

اَسْتَغْفِرُ اللهَ تعالىٰ رَبِّىْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوبُ اِلَيْهِ

درود شریف

سو مرتبہ

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلىٰ آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ

تیسرا کلمہ

سو مرتبہ

سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ

تیسرا کلمہ سو مرتبہ مکمل کرنے کے بعد ایک مرتبہ

آخر میں ایک مرتبہ

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِ

نوٹ: یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پانچوں نمازوں کی پابندی اور قرآنِ کریم کی تلاوت سالک کے روزمرہ کے معمول میں شامل ہونا لازمی ہے۔ اپنی زندگی میں سنتوں کا اہتمام کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ سب سالک کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ارکان ہیں۔

ایک گزارش: معمولات اور اسباق اپنے شیخ کی رہنمائی اور اجازت سے شروع کیجیے۔ یہ صفحہ یاد دہانی کے لیے ہے، شیخ کی جگہ لینے کے لیے نہیں۔

04شجرہ شریف

شجرہ شریف میں اکتالیس نام ہیں۔ اصل نسخے کی گنتی ۴۲ تک جاتی ہے، کیونکہ اُس میں نمبر ۹ موجود نہیں۔

شجرہ شریف، صفحہ ۱
صفحہ ۱ · نمبر ۱ تا ۷
شجرہ شریف، صفحہ ۲
صفحہ ۲ · نمبر ۸ تا ۲۱
شجرہ شریف، صفحہ ۳
صفحہ ۳ · نمبر ۲۲ تا ۳۵
شجرہ شریف، صفحہ ۴
صفحہ ۴ · نمبر ۳۶ تا ۴۲

مکمل شجرہ شریف، اصل تحریر میں، شجرہ شریف کے صفحے پر موجود ہے۔

05رابطۂ شیخ

رابطۂ شیخ، یعنی اپنے شیخ سے رابطے میں رہنا، سالک کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ سالک اپنے شیخ سے مستقل رابطے میں رہے، اور اپنے ہر معاملے میں، دینی ہو یا دنیوی، شیخ سے مشورہ کرے، اور اپنی کیفیات اور معمولات کی اطلاع اپنے شیخ کو کم از کم پندرہ دن میں ایک بار ضرور کرے۔

نوٹ: سالک کو چاہیے کہ اپنے شیخ کو ہر اچھی اور بری کیفیت سے آگاہ کرے، اور کچھ نہ چھپائے یا بڑھائے۔ اِس بات کی شدید تنبیہ کی جاتی ہے کہ سالک خود اپنا طبیب یا شیخ نہ بنے، اور خود سے کوئی حل اپنے لیے تجویز نہ کرے۔

06آدابِ شیخ

شیخ کا مقصد درحقیقت سالک کا اللہ تعالیٰ سے رابطہ جوڑنا ہے۔ لہٰذا سالک یاد رکھے کہ طریقت کا یہ راستہ، نفسِ نفیس خود سے اکیلا نہیں کر سکتا۔ محض صوفی طریقے میں داخل ہو جانے سے کوئی اللہ کا مقرب نہیں بن سکتا۔ لہٰذا سالک کو چاہیے کہ شیخ کی کامل اتباع کرے اور اُس کے احکام مان کر اُن پر چلے، کیونکہ وہ سالک کا رہنما، معلم اور سرپرست ہے۔ پس سالک و مرید کے دل میں اپنے شیخ اور اُس کے گھر والوں کے لیے حد درجہ کا احترام اور ادب ہونا لازمی امر ہے۔

مشورہ اور رہنمائی

  • سالک کو چاہیے کہ ہر دینی و دنیوی معاملے میں شیخ کی اتباع کرے، اور صبر سے کام لے اور پریشان نہ ہو۔
  • اگر اُس کا شیخ اُسے کسی معاملے میں ایسی بات کا مشورہ دے جو اُس، یعنی سالک، کی منشا کے خلاف ہو، پھر بھی اُسے چاہیے کہ شیخ کے حکم کی تعمیل کرے، اور اُس سے اِس بات کے منفی اور مثبت پہلو کے بارے میں سوال نہ کرے۔
  • سید علی مرتضیٰ رحمہ اللہ فرماتے تھے: مرید کو چاہیے کہ اپنے شیخ کی اجازت کے بغیر کسی وظیفے یا ہنر میں مشغول نہ ہو۔
  • سالک کو چاہیے کہ اپنی کوئی کیفیت اور حالت شیخ سے نہ چھپائے، کیونکہ سالک حق اور باطل کا فیصلہ خود سے نہیں کر سکتا۔
  • سالک کسی معجزے اور کرامت کی توقع نہ کرے۔

شیخ کی مجلس میں

  • شیخ کے سامنے سالک کو اپنے بہترین رویے میں رہنا چاہیے، اور غور سے اُس کی بات سننی چاہیے۔
  • شیخ کے سامنے سالک کو چاہیے کہ دوسروں کے ساتھ گفتگو سے اجتناب کرے، اور غور سے شیخ کی بات کو توجہ سے سنے۔
  • شیخ کی موجودگی میں سالک کو چاہیے کہ خاموش رہے، اور پوری طرح سے شیخ کی طرف متوجہ رہے، خواہ اُس کا شیخ کوئی بات بیان کر رہا ہو یا خاموش بیٹھا ہو، کیونکہ خاموشی کے باوجود بھی شیخ کے قلب سے فیض سالک کے قلب میں منتقل ہو رہا ہوتا ہے۔
  • سالک کو چاہیے کہ اپنے شیخ کے سامنے، نہ آگے چلے، نہ ہی اُن کی طرف اپنی پیٹھ کرے۔
  • شیخ کی موجودگی میں سالک کو نوافل عبادات اور ذکر میں اُن کی اجازت کے بغیر مشغول نہیں ہونا چاہیے۔
  • سالک کو چاہیے کہ شیخ سے فضول سوالات کرنے سے پرہیز کرے۔

ادب و احترام

  • آپ کے شیخ محض آپ کے رہنما اور اُستاد ہیں، بلکہ آپ کے سرپرست بھی ہیں۔ لہٰذا اُن کا حق ہے کہ آپ ہر وقت اُن کا احترام کریں، خواہ وہ موجود ہوں یا نہ ہوں۔
  • سالک کو اپنے ادب و احترام کا محور محض اپنے شیخ کو نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اُس پر لازم ہے کہ شیخ کے اہل و عیال، اساتذہ اور شیوخ کا بھی احترام کرے۔
  • سالک کو چاہیے کہ کبھی بھی شیخ کو آواز نہ دے، کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی بے ادبی اور بدتمیزی ہے۔
  • سالک کو چاہیے کہ ہر چیز میں اور ہر طریقے میں شیخ کی اتباع کرے، مثلاً اُن کے لباس، ہیئت اور عبادت وغیرہ میں۔
  • کوئی بھی سالک مشائخِ کرام کی محبت، خدمت اور ادب کے بغیر اچھی حالت پر نہیں پہنچا۔

یہ چند آداب ہیں۔ مکمل فہرست، مشائخِ کرام کے ارشادات کے ساتھ، کتاب میں موجود ہے۔

سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ غفوریہ · falah.org