Falah · Naqshbandi Mujaddidi

شیخ شہزاد عارف

دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کے قریب ہونے کا راستہ

ہم میں سے اکثر یہی سمجھتے آئے ہیں کہ اللہ سے تعلق جوڑنے کے لیے دنیا چھوڑنی پڑتی ہے۔ کہ ذکر و فکر اُن لوگوں کا کام ہے جنہیں فرصت میسر ہو۔ شیخ شہزاد عارف کی ساری محنت اِسی گرہ کو کھولنے پر ہے: دل اللہ ﷻ کی طرف متوجہ رہے، اور ہاتھ اپنے کام میں لگے رہیں۔

اُنہوں نے برسوں کاروبار اور اداروں کی قیادت میں گزارے، اور اِسی دوران اپنی تربیت بھی جاری رکھی۔ یہی سبب ہے کہ وہ اُس آدمی کی بات سمجھتے ہیں جو صبح دفتر نکلتا ہے، شام بچوں کے ساتھ گزارتا ہے، اور رات تھکا ہوا سوتا ہے۔ اُن کی بات کتابی نہیں، تجربے کی ہے۔

راستہ وہی پرانا ہے: تزکیۂ نفس، احسان، اور حضور نبی کریم ﷺ کی سنت۔ نئی بات صرف یہ ہے کہ اِسے آج کی مصروف زندگی میں کیسے اُتارا جائے۔

نسبت اور اجازت

تصوف سنی سنائی بات نہیں، اور نہ کسی کی ذاتی رائے۔ یہ ایک امانت ہے جو اجازت کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ شیخ شہزاد عارف کو یہ اجازت حضرت شیخ ہمایوں حنیف مجددی مدظلہ العالی سے حاصل ہے، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں۔

یہ وہی سلسلہ ہے جو سینے سے سینے تک چلتا ہوا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حضور نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ اِسی اَٹوٹ نسبت سے بات میں وزن آتا ہے، اور راہ محفوظ رہتی ہے۔

مجددی نسبت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے، جن کی ساری کوشش دو ہی چیزوں پر رہی: سنت کا احیاء، اور دل کی صفائی۔

دین اور دنیا، ایک ساتھ

بات سیدھی ہے، اور بھاری بھی۔ آپ کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کو چُننے کی ضرورت نہیں۔ جو مجاہدہ دل کو صاف کرتا ہے، وہی آدمی کو اپنے کام میں زیادہ کھرا، زیادہ حاضر اور زیادہ بہتر بنا دیتا ہے۔

آپ کاروبار چلاتے ہوں، اسپتال میں ہوں، کلاس میں پڑھاتے ہوں، یا گھر سنبھالتے ہوں، معاملہ ایک ہی ہے: کام میں احسان، اور دل میں اللہ۔

یہی فلاح ہے۔ دنیا میں احسان کے ساتھ جینا، اور آخرت میں کامیابی پانا۔

تعارف · فلاح