کتنا پیسہ 'کافی' ہوتا ہے؟ میں جتنا بھی کماتا ہوں، ہدف بس اور دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
Kitna paisa kafi hota hai
ہدف اگر آگے سرکتا چلا جا رہا ہے تو اس میں حیرت کی بات نہیں، اس کی فطرت ہی سرکنا ہے۔ آمدنی جتنی بڑھتی ہے، ‘کافی’ کا پیمانہ بھی اتنا ہی آگے ہٹ جاتا ہے۔
دل کچھ ایسا وسیع بنایا گیا ہے کہ سونے چاندی کے انبار بھی اسے نہیں بھرتے۔ یہ آپ کی کوئی خرابی نہیں، بنانے والے نے انسان کو ایسا ہی بنایا ہے۔ آقا ﷺ نے یہی بات صاف لفظوں میں فرما دی۔
”اگر آدم کے بیٹے کے پاس سونے سے بھری ایک وادی ہو تو وہ دوسری کی خواہش کرے گا، اور اس کا منہ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی، اور جو توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۴۳۹) · مفہوم
یہاں ڈانٹ نہیں، صرف تشخیص ہے، اور ساتھ ہی توبہ اور رجوع کا دروازہ بھی کھول دیا گیا۔ اس لیے باہر کے ہندسے سے یہ توقع چھوڑ دیجیے کہ وہ کبھی ‘بس، اتنا کافی ہے’ کہے گا۔ لوگوں کی کمائی پر جو تحقیق ہوئی ہے، وہ بھی یہی بتاتی ہے، آمدنی جتنی بڑھتی جائے، لوگ ‘کافی’ کا عدد بھی اتنا ہی اوپر بتانے لگتے ہیں۔ ماپنے والا بہی کھاتہ نہیں، ماپنے والا دل ہے، اسی لیے پیمانہ ایک جگہ ٹھہرتا نہیں۔
قرآن نے دکھایا کہ یہ گنتی اگر پوری زندگی پر چھا جائے تو کہاں لے جاتی ہے۔
”زیادہ حاصل کرنے کی ہوس نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا، یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔“
قرآن، سورۃ التکاثر ۱۰۲:۱-۲ · مفہوم
تو پھر وہ ٹھہری ہوئی جگہ کون سی ہے جو ہدف کے بھاگتے رہنے پر بھی اپنے مقام پر قائم رہتی ہے؟ قناعت۔ وہ دولت جو اندر رہتی ہے اور جگہ نہیں بدلتی۔ آقا ﷺ نے اصل کسوٹی ہمارے ہاتھ میں دے دی۔
”مالداری سازوسامان کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ اصل مالداری تو دل کا غنی ہو جانا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۱۰۵۱) · مفہوم
کمانا چھوڑنے کی ضرورت نہیں، اور محنت کی لگن میں کوئی برائی نہیں۔ کماتے رہیے، گھر والوں کا خیال رکھیے، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیے۔ بس دل کا ٹھکانا اگلا ہندسہ نہ ہو، شکر ہو۔ جو ملی ہوئی چیز پر ‘الحمد للہ، یہ کافی ہے’ کہہ لیتا ہے، وہ اس جگہ پہنچ چکا ہے جہاں باقی لوگ ابھی دوڑ رہے ہیں۔
ایک چھوٹا قدم: آج رات سونے سے پہلے، اپنی زندگی کی تین ایسی نعمتیں دل میں گنیے جو پیسوں سے نہیں خریدی جا سکتیں، اور ہر ایک پر آہستہ سے ‘الحمد للہ’ کہیے۔
