میں روزی کمانے میں اتنا مصروف ہوں کہ میری نمازیں اور اللہ سے تعلق مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ فل ٹائم کام کرتے ہوئے میں اُس کے قریب کیسے رہوں؟
Kaam ki masrufiyat aur Allah se taalluq
جو بات آپ کو کھٹک رہی ہے، اصل میں وہی آپ کے کام آئے گی۔ جسے دوری کا احساس باقی ہے، وہ راستے سے ہٹا نہیں۔ روزی کمانا رکاوٹ نہیں، وہ خود عبادت ہے، شرط یہ ہے کہ کاروبار نماز کی جگہ نہ لے لے۔ قرآن میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جو بازار ہی کے آدمی تھے، دن بھر خرید و فروخت میں لگے رہتے تھے، مگر اذان ہوتی تو کوئی سودا اُنہیں روک نہ پاتا تھا:
”ایسے مرد جنہیں نہ تجارت غافل کرتی ہے اور نہ خرید و فروخت، اللہ کی یاد سے، اور نماز قائم کرنے سے، اور زکوٰۃ ادا کرنے سے۔“
قرآن، سورۃ النور ۲۴:۳۷ · مفہوم
دیکھیے، اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ اُنہوں نے تجارت چھوڑ دی تھی۔ روایات بتاتی ہیں کہ اذان کی آواز آتی تو وہ سودا وہیں رکھ دیتے، اپنے رب کے سامنے حاضر ہوتے، اور نماز کے بعد لوٹ کر کام سنبھال لیتے۔ کام کبھی دشمن نہیں تھا، بس اُس نے نماز کی جگہ نہیں لی۔ اصل بات یہی ہے، اور یہ آپ کی پہنچ میں ہے۔ نماز کو اُس کا وقت دے دیجیے، اِس کے بعد اتنا ہی مطلوب ہے کہ باقی دن اللہ کی یاد کو پورا نگل نہ جائے۔ مال اور اولاد نعمت ہیں، مگر یہی نعمتیں دینے والے سے غافل کر دیں تو نقصان اپنا ہے، اور رب نے یہ بات صاف کہہ دی:
”اے ایمان والو، تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں، اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“
قرآن، سورۃ المنافقون ۶۳:۹ · مفہوم
یہ ڈانٹ نہیں، سنبھالنا ہے۔ اور اگر کبھی لگے کہ تعلق کمزور پڑ گیا ہے تو مایوسی کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ واپسی کے ایک قدم کا صلہ رب کیا رکھتا ہے، یہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب کا پیغام سنا کر بتا دیا:
”اور جو میری طرف چل کر آتا ہے، میں اُس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں۔“
نبی کریم ﷺ، حدیثِ قدسی، صحیح بخاری (۷۴۰۵) · مفہوم
قدم آپ کا، دوڑ اُس کی۔ اِس لیے سب کچھ ایک ہی دن میں بدلنے کی کوشش نہ کیجیے۔ پہلے ہر نماز کو اُس کا وقت دیجیے، چاہے دن کی روانی کے چند منٹ خرچ ہو جائیں۔ پھر جو وقفے پہلے سے آپ کے پاس ہیں، سفر کے لمحے، چائے کی بریک، ایک میٹنگ سے دوسری تک کے چند قدم، اُن میں ذکر کے چھوٹے چھوٹے دانے ٹانکتے جائیے، کہیں سبحان اللہ، کہیں استغفار۔ جو لوگ ذکر کو اپنے روز کے معمولات سے جوڑ لیتے ہیں، اُن کا بھرا ہوا شیڈول ذکر کا دشمن نہیں رہتا، اُسی کی جالی بن جاتا ہے۔ نماز کو کام میں رکاوٹ نہ سمجھیے، دن بھر کی دوڑ میں سستانے کا سایہ سمجھیے۔
ایک چھوٹا قدم: آج کی کسی ایک نماز کے لیے کام سے دو منٹ پہلے اٹھ جائیے، اطمینان سے وضو کیجیے اور بغیر جلدی کے وہ نماز ادا کیجیے۔
