دل کے سوال

فجر میری سب سے مشکل نماز ہے، یا تو میں سوتا رہ جاتا ہوں یا آدھی نیند میں بغیر کسی احساس کے پڑھ لیتا ہوں۔ جس نماز تک میرا جسم بمشکل پہنچتا ہے، اس میں دل کیسے لاؤں؟

Fajr ki namaz mein sustee

فجر تقریباً ہر نمازی کو بھاری لگتی ہے، اس لیے پہلی بات یہ دل سے نکال دیجیے کہ اس دشواری کا مطلب ایمان کی کمی ہے۔ جو نماز نفس کو سب سے زیادہ مہنگی پڑتی ہے، اس کا وزن بھی سب سے بھاری ہوتا ہے۔ بوجھل آنکھوں کے ساتھ آپ جو ایک ایک صبح اٹھ کر پڑھتے ہیں، وہ بے حساب نہیں جاتی، آدھی نیند میں پڑھی ہوئی بھی نہیں۔

اللہ نے اس وقت کی نماز کو خاص شرف دیا اور اس گھڑی کا نام لے کر فرمایا کہ یہ حاضری کا وقت ہے۔

”اور فجر کا قرآن (پڑھو)، بے شک فجر کا قرآن (فرشتوں کی) حاضری کا وقت ہے۔“

قرآن، سورۃ الاسراء ۱۷:۷۸ · مفہوم

اور اس سے پہلے کی جو دو مختصر رکعتیں ہیں، ان کا مول حضور ﷺ نے یوں بتایا کہ ساری دنیا ان کے سامنے ہیچ ہے۔

”فجر سے پہلے کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۷۲۵a) · مفہوم

اب اصل سوال، کہ جہاں جسم بمشکل پہنچتا ہے وہاں دل کیسے حاضر ہو۔ دل قدموں کے پیچھے پیچھے آتا ہے، اسے صرف سنبھلنے کی مہلت چاہیے۔ رات کچھ جلدی سو جائیے تاکہ نیند پوری ہو، اٹھتے ہی منہ پر پانی کے چھینٹے ماریے، اور الارم بند کرنے کے بعد ایک لمحہ بستر پر بیٹھ کر یاد کر لیجیے کہ کس کے بلانے پر اٹھ رہے ہیں۔ اتنی سی دیر دل کو جسم کے ساتھ ملا دیتی ہے۔ اور اگر پھر بھی نماز میں دھیان بکھرے تو ہمت نہ ہاریے، اٹھ کر کھڑا ہو جانا ہی کم بات نہیں، حضوری آہستہ آہستہ اترتی ہے۔

اور یہ وعدہ سامنے رکھیے، جو اس وقت اٹھ کر نماز پڑھ لیتا ہے، وہ ایسی پناہ میں آ جاتا ہے جو کوئی اور نہیں دے سکتا۔

”جس نے فجر کی نماز پڑھ لی، وہ اللہ کی امان اور پناہ میں آ گیا۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۶۵۷a) · مفہوم

ایک چھوٹا قدم: آج رات معمول سے پندرہ منٹ پہلے سو جائیے، اور الارم بستر سے ذرا دور رکھ دیجیے۔ جب وہ بجے تو ایک لمحہ بیٹھ کر اپنے مالک کا نام لیجیے، پھر وضو کے لیے اٹھ جائیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔