میں بار بار وہی گناہ کرتا ہوں، پھر توبہ کرتا ہوں، پھر اسی میں جا گرتا ہوں۔ کیا سویں بار کے بعد میری توبہ اللہ کے نزدیک ایک مذاق بن کر نہیں رہ جاتی؟
Baar baar wohi gunah aur tauba
آپ کے ذہن میں ایک حساب کی کتاب ہے اور یہ گمان ہے کہ اتنی بار لوٹنے کے بعد اب اللہ آپ سے بیزار ہو چکا ہو گا۔ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ توبہ مذاق تب بنتی جب واپسی کا دروازہ بند ہوتا، اور یہ دروازہ کبھی بند ہوا ہی نہیں۔
سنیے، رب اپنے گرتے سنبھلتے بندے کے ساتھ کیا معاملہ فرماتا ہے۔
”ایک بندے نے گناہ کیا، پھر کہا، اے میرے رب، مجھے میرا گناہ بخش دے۔ اللہ نے فرمایا، میرے بندے نے گناہ کیا، پھر اُس نے جان لیا کہ اُس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے۔ (یہ تین بار ہوا، پھر اللہ نے فرمایا،) اب تُو جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا۔“
حدیثِ قدسی، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۷۵۰۷ / مسلم ۲۷۵۸b) · مفہوم
غور کیجیے، بات گناہ کی گنتی کی نہیں ہو رہی، بات اُس دل کی ہو رہی ہے جو ہر بار پھر اسی دروازے پر آ گیا۔ اہلِ علم اس آخری جملے کی وضاحت بڑی احتیاط سے کرتے ہیں، اور یہ وضاحت حدیث کے الفاظ کا حصہ نہیں بلکہ اُن کی اپنی ہے، کہ ”جو چاہے کر“ گناہ کی اجازت نہیں، مطلب یہ ہے کہ جب تک بندہ لوٹ لوٹ کر توبہ کرتا رہے گا، بخشش کا یہ دروازہ اُس کے لیے کھلتا رہے گا۔ جو بار بار لوٹ آتا ہے، وہی جانتا ہے کہ اُس کا کوئی رب ہے، اور یہی جاننا اللہ کے ہاں قدر رکھتا ہے۔ سویں بار کی توبہ مذاق نہیں، اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان کا چراغ ابھی بجھا نہیں۔
ایک پھندا البتہ یہاں ضرور ہے، اور انسانی عادتوں پر کام کرنے والوں نے اسے نام بھی دیا ہے۔ ذرا سی پھسلن کے بعد آدمی سوچتا ہے کہ اب تو سب کچھ ضائع ہو گیا، اور پوری محنت چھوڑ بیٹھتا ہے۔ مگر سفر پھسلن سے نہیں ٹوٹا تھا، اُس مایوسی سے ٹوٹا جو بعد میں آئی۔ پھسلنا لڑکھڑانا ہے، اور مایوسی راستے میں بیٹھ جانا اور آگے چلنے سے انکار کر دینا ہے۔
اور اسی بیٹھ جانے سے بچانے کے لیے خود رب نے پکار کر فرمایا،
”کہہ دیجیے، اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر حد سے بڑھ کر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے کے سارے گناہ بخش دیتا ہے۔“
قرآن، سورۃ الزمر ۳۹:۵۳ · مفہوم
تو گرنا آپ کی پہچان نہیں، اُٹھنا آپ کی پہچان ہے۔ جب بھی آپ لوٹتے ہیں، وہی کرتے ہیں جس کی دعوت آپ کے رب نے خود دی ہے۔ لوٹنا نہ چھوڑیے، اور اللہ کے فضل سے ایک دن اس عادت کی گرفت خود ڈھیلی پڑ جائے گی۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی بار پھسلن ہو تو کوئی دوسرا خیال جمنے سے پہلے صرف ایک بار دل سے کہیے، “یا رب، میں لوٹ آیا ہوں”، اور ایک لڑکھڑانے کو یہ نہ کہنے دیجیے کہ اب چلنا ہی چھوڑ دو۔
