میں اعتراف کرتا ہوں کہ باہر لوگوں کے سامنے میں گرم جوش اور فراخ دل چہرہ دکھاتا ہوں، مگر گھر میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ بے صبرا اور تلخ ہوں۔ میں یہ خلا کیسے پاٹوں؟
Bahar narmi aur ghar mein sakhti
جس خلا کا آپ نے ذکر کیا ہے، وہ واقعی موجود ہے، اور صرف آپ ہی اس سے نہیں گزرتے۔ بہت سے شریف اور نیک لوگ اسی مقام پر ٹھوکر کھاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آپ نے اسے پہچان لیا، اور اصلاح کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے۔ آئیے دیکھیں کہ اس کی جڑ کہاں ہے اور یہ کیسے پُر ہوتا ہے۔
باہر ہم لوگوں کی نظروں میں ہوتے ہیں۔ وہاں عزت کا خیال رہتا ہے، اس لیے مزاج قابو میں رہتا ہے۔ گھر میں نہ کوئی دیکھنے والا ہے، نہ کوئی ناپنے تولنے والا، اور شام تک تھکن بھی اپنا حساب مانگتی ہے۔ سو گھر میں جو کچھ سامنے آتا ہے، وہ ہمارا اصل اور بےتکلف مزاج ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے آدمی کی پرکھ کا پیمانہ ٹھیک اسی جگہ رکھا ہے۔
”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں تم سب میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“
نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۳۸۹۵) · مفہوم
غور کیجیے، بڑائی کی نشانی بازار کی محفل نہیں، گھر کا دسترخوان ہے، اور وہ لہجہ ہے جو ہم اُن لوگوں کے ساتھ رکھتے ہیں جو ہمیں چھوڑ کر کہیں جا نہیں سکتے۔ اور جہاں تلخی اُبھرتی ہے، خاص طور پر تھکن کی گھڑی میں، وہاں آپ ﷺ نے طاقت کا مفہوم ہی بدل دیا۔
”طاقتور وہ نہیں جو کُشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو پا لے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۱۱۴ / مسلم ۲۶۰۹) · مفہوم
یعنی جو ضبط آپ گاہکوں اور اجنبیوں کے سامنے دکھا لیتے ہیں، وہ آپ کے پاس پہلے سے موجود ہے، کمی اُس کی نہیں۔ اسے صرف اُس طرف موڑنا ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور اجر بھی سب سے بڑھ کر۔ گھر میں جب غصہ اُبھرے اور آپ ایک گہری سانس لے کر زبان تھام لیں، تو یہ ہار نہیں، یہی اصل مردانگی ہے۔
اور یہ محض اخلاق کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے گھر والوں کو ہمارے ہاتھ میں ایک امانت کے طور پر دیا ہے۔
”اے ایمان والو، اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔“
قرآن، سورۃ التحریم ۶۶:۶ · مفہوم
گھر والوں کو آگ سے بچانے کی ابتدا وہیں سے ہوتی ہے، اُس لہجے سے جو ہم اُن کے ساتھ رکھتے ہیں۔ سخت گھر بچوں کے دل سخت کر دیتا ہے، اور نرم گھر اُن کے دلوں میں ایمان کی جڑیں گہری کرتا ہے۔ سو یہ خلا پاٹنا آپ کی عبادت سے الگ کوئی کام نہیں، اسی کا حصہ ہے۔
تبدیلی آہستہ آہستہ لائیے۔ گھر میں داخل ہونے سے پہلے دروازے پر ایک لمحہ ٹھہر جائیے اور دن بھر کا بوجھ وہیں اُتار دیجیے، تاکہ اندر وہی آدمی داخل ہو جو دوپہر کو باہر والوں کو ملا تھا۔ گھر والوں کا حق یہ نہیں کہ سب کے بانٹ لینے کے بعد جو نرمی بچے، وہی اُنہیں ملے۔
ایک چھوٹا قدم: آج گھر میں داخل ہونے سے پہلے دروازے پر ایک لمحہ رک کر تین گہری سانسیں لیجیے، دل میں طے کر لیجیے کہ گھر والوں کو اپنا بہترین چہرہ دیں گے، پھر جو پہلا فرد سامنے آئے، اُسے مسکرا کر اور نرم لفظ کے ساتھ سلام کیجیے۔
