کیا آپ کو بھی کبھی یہ لگا ہے کہ دنیا میں آگے بڑھنا ہے تو دین کو تھوڑا پیچھے رکھنا پڑے گا؟ کہ کیریئر، کاروبار، اچھا گھر، یہ سب ایک طرف ہیں اور آخرت دوسری طرف، اور ہمیں کسی ایک کو چننا ہے؟ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے یہی سوچ لیا ہے کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی ایک ساتھ نہیں مل سکتی۔ میں آپ سے یہی بات کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ یہ سوچ ہی غلط ہے۔

کامیابی آتی کہاں سے ہے؟

ہماری شخصیت اور ہمارے رویے، اور ان کی وجہ سے زندگی میں جو کامیابی یا ناکامی ہوتی ہے، وہ عام طور پر ہمارے ماحول سے بنتی ہے۔ ہم ترقی کے لیے شخصیت پر کتابیں پڑھتے ہیں، سیلف مینجمنٹ، ٹائم مینجمنٹ، شکر گزاری، مختلف مصنفین کی کتابیں۔ لیکن جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ماحول میں سب سے بڑا حصہ ہمارے گھر کا ہے۔ گھر کا ماحول سازگار ہو تو ہم اچھے ٹیم پلیئر، اچھے لیڈر، کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔ گھر کا ماحول ہماری ترقی کی بنیاد ہے۔

اور گھر میں ہمارے فیصلے کہاں سے آتے ہیں؟ ہر ایک نے اپنا مطالعہ کیا ہوتا ہے، اپنا تجزیہ کیا ہوتا ہے، اور وہ تجزیہ معلومات سے بنتا ہے۔ معلومات عام طور پر سوشل میڈیا سے، ڈراموں سے، دوستوں سے ملتی ہیں۔ اب جیسی معلومات ملیں، ویسے ہی فیصلے کر لیے۔ انسانوں کی دی ہوئی معلومات پر جو فیصلہ ہوگا وہ مثالی فیصلہ نہیں ہوتا، کبھی ٹھیک ہوگا، کبھی نہیں۔ انہی فیصلوں سے ہم گھر کا ماحول، آفس کا ماحول، کیریئر اور کاروبار ٹھیک کرنے نکلتے ہیں، اور پھر ناکامیاں آتی ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم تو سب کے ساتھ اچھا سلوک کر رہے ہیں، ہمارے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کر رہا۔

اللہ تعالیٰ کی تعریف

کامیابی کی تعریف وہی سچی ہے جو اس نے بتائی جس نے یہ سارا سافٹ ویئر لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں سات قسمیں کھا کر کہا ہے کہ جو اپنے نفس کو پاک کرے گا وہی کامیاب ہوگا (مفہوم: سورہ شمس 9)۔ اسی سے اندازہ کیجیے کہ نفس کو پاک کرنا کتنا اہم ہے۔

اور جب اللہ تعالیٰ کامیابی کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو وہ کامیابی صرف آخرت کی نہیں ہے، وہ اس دنیا کی بھی ہے۔ وہ کامیابی گھروں میں سکون کی صورت میں آتی ہے، رشتوں میں محبت کی صورت میں، کیریئر میں، نوکری میں، کاروبار میں ترقی کی صورت میں۔ کیوں؟ کیونکہ حکم اسی کا ہے جس نے سارا سافٹ ویئر بنایا ہے، سارا سافٹ ویئر لکھا ہے۔ جب اس نے بتا دیا کہ یہ کمانڈ دو گے تو یہ نتیجہ آئے گا، تو ہمیں اس پر یقین ہونا چاہیے۔ اور جب کامیابی اسی میں ہے، تو کامیابی کے لیے سب سے پہلے اپنے نفس کو نفسِ امارہ کی حالت سے نکالنا ہے۔ جو اپنے نفس کو نفسِ امارہ سے نفسِ لوامہ، اور نفسِ لوامہ سے ہوتے ہوئے نفسِ مطمئنہ بنا لے گا، اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتے ہیں، اس کا انتظار کرتے ہیں۔ یہی حالت ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔

دنیا اور آخرت کی کامیابی ایک ہی راستے پر

ہم لوگوں نے یہ سوچ لیا ہے کہ دنیا حاصل کریں گے تو آخرت نہیں ملے گی، آخرت حاصل کرنی ہے تو دنیا چھوڑنی پڑے گی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ آخرت کی کامیابی اور دنیا کی کامیابی ایک ہی راستے پر ہیں۔

یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کر کے دکھائی ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ امیر ترین شخصیات میں تھے۔ اور اس کے ساتھ عشرہ مبشرہ میں بھی تھے، ان دس لوگوں میں جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے دنیا میں ہی بتا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں لے کر جائیں گے (مفہوم: ترمذی 3747)۔ وہ دنیا میں بھی کامیاب تھے اور آخرت میں بھی۔

تو آج کے ماحول میں ادھر ادھر سے سن کر ہم نے اپنے ذہن میں جو بنا لیا ہے، اس پر تھوڑا سوچنے کی ضرورت ہے، بلکہ اسے مٹا کر نئے سرے سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا ہدف بنائیں گے۔ ذہن میں یہ بالکل نہیں آنا چاہیے کہ دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے آخرت چھوڑنی پڑے گی یا آخرت کے لیے دنیا۔ ہاں، ایک شرط ہے: اس دنیا کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں اور سنت کے مطابق گزارنا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے نہ ہمیں کاروبار کرنے سے منع کیا ہے، نہ اچھا رزق حاصل کرنے سے۔ سب چیزیں حاصل کریں، سنت کے دائرے میں رہ کر۔

اور اسی طرح گھر میں بھی۔ ہمارا جو بھی رول ہے، باپ، بیٹا، بہو، بیٹی، ساس، اس رول کو نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزاریں۔ اسی میں برکتیں ہیں، اسی میں سکون ہے۔

نیت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے

ایک بات ذرا الگ ہے، لیکن ضروری ہے۔ ہم عام طور پر کہتے ہیں کہ میں تو سب کے ساتھ اچھا سلوک کر رہا ہوں، میرے ساتھ کوئی نہیں کرتا۔ ذرا نیت دیکھیے۔ اگر ہم کسی کے ساتھ، وہ بیٹا ہے یا بیٹی، اس کا دل رکھنے کے لیے، اس کو خوش کرنے کے لیے، یا اپنے آپ کو اچھا کہلوانے کے لیے اچھا سلوک کر رہے ہیں، تو اس کا معاوضہ تو وہیں مل گیا۔ ہم اچھا کہلوانا چاہتے تھے، اس نے شکریہ کہہ دیا، حساب برابر۔

لیکن اگر آپ وہی عمل اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، نبی کریم ﷺ کی سنت ہے، اور اولاد کے ساتھ، بہن بھائیوں کے ساتھ، والدین کے ساتھ، بیوی یا شوہر کے ساتھ کوئی بھی اچھا کام نیک نیتی سے اس نیت کے ساتھ کریں کہ میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کر رہا ہوں، تو اللہ تعالیٰ کسی کی نیکی ضائع نہیں کرتے۔

آج ایک کام کیجیے۔ اپنے ہدف والے کاغذ پر، چاہے وہ ذہن میں ہی ہو، دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی ایک ہی سطر میں لکھیے۔ الگ الگ نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں یہ بات سمجھنے کی، اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، سب سے پہلے مجھے، پھر ہم سب کو۔ آمین۔

پوری ویڈیو:
https://youtu.be/vdrAAnO6WIY

یہ تحریر انگریزی میں:
https://falah.org/?p=4037

اس سلسلے کی پہلی تحریر «اپنی اصلاح کیسے کریں» بھی پڑھیے:
https://falah.org/ur/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba-%d9%88%db%81-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%81-%d8%ac%d8%b3%db%92-%d8%a2%d9%be/

واٹس ایپ چینل پر ہم سے جڑیں:
https://falah.org/newsletter

آدھی سنت، شہزاد عارف آدھی سنت، پشتی سرورق

آدھی سنت · اردو ناول · شہزاد عارف

Share this with someone
WhatsApp Facebook X Telegram