نفسِ مطمئنہ کیا ہے؟ اطمینان اس نفس کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہو جائے۔

نفس کی تیسری حالت نفسِ مطمئنہ ہے۔ سورۃ الفجر کی وہ آیت جو امام صاحب فجر کی نماز میں اکثر تلاوت کرتے ہیں، اس کا مفہوم ہے: اے اطمینان والے نفس، اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ (مفہوم: سورہ فجر 27-28)

یعنی ایسا نفس جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہو جائے۔ یہ ہے نفسِ مطمئنہ، اور یہ ہے وہ کامیابی۔

اللہ ﷻ ہمیں نفسِ مطمئنہ عطا فرمائے۔

میثاق سیریز، دوسرا لیکچر، شیخ شہزاد عارف۔

آدھی سنت، شہزاد عارف آدھی سنت، پشتی سرورق

آدھی سنت · اردو ناول · شہزاد عارف

Share this with someone
WhatsApp Facebook X Telegram