سب کی اصلاح کی فکر ہے، اپنی اصلاح کی فکر نہیں؛ آئینہ اب تک منتظر ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اردگرد کے سارے لوگ ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ہمیں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔
اگر ہم میں کوئی خامی ہے تو سب سے پہلے اسی خامی پر کام کرنا ہے، اس سے پہلے کہ ہم کسی دوسرے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں۔
آج آئینے کے سامنے ایک منٹ کھڑے ہوں اور اپنی ایک خامی کا نام لیں۔
میثاق سیریز، دوسرا لیکچر، شیخ شہزاد عارف۔
