ہم نے کتنی بار سوچا ہے کہ گھر میں بس ایک بندہ ٹھیک ہو جائے تو سکون لوٹ آئے؟ کبھی وہ بندہ بھائی ہوتا ہے، کبھی بہن، کبھی شوہر یا بیوی، کبھی ساس سسر۔ ہم سب کے ذہن میں ایک فہرست ہوتی ہے کہ کس کس کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ اور اس فہرست میں ایک نام عام طور پر نہیں ہوتا: ہمارا اپنا۔
میں آپ سے اسی ایک نام پر بات کرنا چاہتا ہوں۔
ہماری شخصیت، ہمارے رویے، اور ان کی وجہ سے زندگی میں جو کامیابی یا ناکامی آتی ہے، وہ زیادہ تر ہمارے ماحول سے بنتی ہے۔ اور ماحول میں سب سے بڑا حصہ گھر کا ہے۔ ہم ترقی کے لیے شخصیت پر کتابیں پڑھتے ہیں، سیلف مینجمنٹ اور ٹائم مینجمنٹ کی کتابیں پڑھتے ہیں، شکر گزاری پر کتابیں پڑھتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ، لیکن اگر گھر کا ماحول ہمارے لیے سازگار ہو تو ہم اچھے ٹیم پلیئر بن سکتے ہیں، اچھے لیڈر بن سکتے ہیں، کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔ گھر کا ماحول ہماری شخصیت اور ہماری ترقی کی بنیاد ہے۔ باہر کچھ ٹھیک کرنا ہے تو کام گھر سے شروع ہوگا۔
ہر رشتے میں ایک چہرہ مشترک ہے
ہم سب کی ایک بنیادی عادت ہے۔ جب بھی ہم کسی سے بات کرتے ہیں، چاہے وہ ہمارے جاننے والے ہوں یا نہ جاننے والے، ہمیں ان کی خامیاں جلدی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پھر بہن بھائیوں سے، دوستوں سے، بڑوں سے بات کرتے ہوئے ہم ان کی خامیوں کو دیکھتے ہوئے کبھی ان کا مذاق بھی اڑا دیتے ہیں۔ اور جو بات ہم بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہی خامیاں ہم میں بھی ہو سکتی ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اردگرد کے سارے لوگ ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ہمیں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔
اب ایک بات غور سے دیکھیے۔ رشتہ ہمیشہ دو لوگوں کا ہوتا ہے۔ دو بھائیوں کا، بہن بھائی کا، میاں بیوی کا، ساس بہو کا۔ اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے سارے رشتے ٹھیک نہیں، بھائی کو بھی اصلاح کی ضرورت ہے، بہن کو بھی، شوہر یا بیوی کو بھی، ساس سسر کو بھی، تو ان سارے رشتوں میں ایک چیز مشترک ہے۔ وہ مشترک چیز ہم خود ہیں۔ ہم درمیان میں کھڑے ہیں۔ تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں بھی اصلاح کی ضرورت ہو۔
اور یہاں ایک بات میں بڑے یقین سے کہتا ہوں۔ آپ کسی دوسرے کی اصلاح کے لیے جو بھی کوشش کریں گے، وہ کام آئے گی یا نہیں، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ لیکن اگر آپ اپنی اصلاح میں مخلص ہو جائیں، اور نیت کر لیں کہ پہلے میں نے اپنی اصلاح کرنی ہے، اپنے عمل کو بھی اور اپنی سوچ کو بھی نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق لے کر آنا ہے، تو یہ کام آپ سو فیصد کر سکتے ہیں۔ اس میں ذرہ برابر شک نہیں۔
نمونہ ایک ہی ہے
اصلاح کرنی ہے تو سوال یہ ہے کہ اپنے آپ کو بنانا کیسا ہے؟ ہم نے ایلون مسک جیسا بننا ہے، بل گیٹس جیسا، کسی فٹبالر جیسا، کسی کرکٹر جیسا؟ یا نبی کریم ﷺ جیسا؟ اللہ تعالیٰ نے تو نبی کریم ﷺ کو بہترین نمونہ قرار دیا ہے (مفہوم: سورہ احزاب 21)۔ اس کائنات میں سب سے مثالی رول ماڈل، جس کی ہم پیروی کر سکتے ہیں، نبی کریم ﷺ ہیں۔ اور صرف ظاہری اعمال نہیں، ان کی سوچ، ان کی نیت، ان کا اخلاص بھی اپنی ذات میں لانا ہے۔ سنت کو ظاہری طور پر بھی اپنانا ہے اور باطنی طور پر بھی۔
یہ بات اس لیے ضروری ہے کہ گھر میں جب بھی بات ہوتی ہے، ہر ایک کو یہی لگتا ہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہی سچ ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہر ایک نے اپنا مطالعہ کیا ہوتا ہے، اپنا تجزیہ کیا ہوتا ہے، اور وہ تجزیہ معلومات سے بنتا ہے۔ اور معلومات کہاں سے آئیں؟ سوشل میڈیا سے، ڈراموں سے، دوستوں سے۔ انسانوں کی دی ہوئی معلومات پر جو فیصلہ ہوگا وہ کبھی ٹھیک ہوگا، کبھی نہیں ہوگا۔ انہی فیصلوں سے ہم گھر، آفس اور کاروبار ٹھیک کرنے نکلتے ہیں، اور جب ناکامی ہوتی ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ میں تو سب کے ساتھ اچھا کر رہا تھا، میرے ساتھ کوئی اچھا نہیں کر رہا۔
آپ ایک وقت میں کئی رول میں ہوتے ہیں۔ بیٹے بھی، داماد بھی، بھائی بھی، بہنوئی بھی، کبھی سسر بھی۔ یہ سارے رول آپ ہی کے پاس ہیں، اور ان سب کو ادا کرنے کا بہترین طریقہ ایک ہی ہے: نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی۔
گھر کا سکون اور نفس کا امتحان
ہم لیڈرشپ کی کتابیں پڑھتے ہیں، اچھا ٹیم ممبر بننا سیکھتے ہیں۔ یہ ساری اچھی باتیں ہم کاروبار اور کیریئر میں اپنانا چاہتے ہیں، اخلاق دوستوں کے ساتھ اپنانا چاہتے ہیں۔ اور جیسے ہی گھر کے دروازے سے داخل ہوتے ہیں، لیڈرشپ والی کتابیں ایک طرف چلی جاتی ہیں، اخلاق والی ساری باتیں باہر رہ جاتی ہیں۔ جو ہنسی، جو نرمی دوستوں کے ساتھ ہوتی ہے، گھر میں آ کر نہیں ہوتی۔ وہاں ہم بالکل مختلف انسان بن جاتے ہیں۔
میں صاف کہتا ہوں: جب تک ہم باہر اور اندر، مسجد میں اور گھر میں ایک جیسا رویہ اختیار نہیں کریں گے، ایک جیسا انسان نہیں بنیں گے، گھر میں سکون نہیں آئے گا۔
اس کا ایک آسان امتحان ہے، اور آپ آج رات ہی کر سکتے ہیں۔ گھر میں کسی سے بحث ہو رہی ہو اور ہم آواز اونچی کر لیں، کسی کی توہین کر دیں، بحث جیتنے کے لیے پہلے سے تیاری کر کے بہت اچھی دلیل دیں، اور اندر سے پتا بھی ہو کہ ہم غلط کر رہے ہیں۔ اگر اس سب کا احساس بھی نہیں ہے، تو یہ ہمارے نفس کی سب سے بری حالت ہے۔ اس حالت کو نفسِ امارہ کہتے ہیں۔
نفس کی دوسری حالت وہ ہے جس میں غلطی تو ہو جاتی ہے، ہم نے کسی کو ڈانٹ دیا، کسی سے بدتمیزی کر لی، لیکن بعد میں احساس ہو جاتا ہے، دل ہی دل میں شرمندگی ہوتی ہے۔ یہ نفسِ لوامہ ہے، ملامت کرنے والا نفس۔ اب ہمارا ضمیر زندہ ہو گیا۔ یہ پہلی حالت سے بہتر ہے۔ اور تیسری حالت نفسِ مطمئنہ ہے: ایسا نفس جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہو جائے۔
کامیابی کی تعریف کس نے بتائی؟
ہم کامیابی کی تعریف ادھر ادھر سے سن کر بنا لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں سات قسمیں کھا کر کہا ہے کہ جو اپنے نفس کو پاک کرے گا وہی کامیاب ہوگا (مفہوم: سورہ شمس 9)۔ سوچیے، ایک بات کہنے سے پہلے اپنی بڑی بڑی مخلوقات کی سات قسمیں۔ اسی سے اندازہ کیجیے کہ نفس کو پاک کرنا کتنا اہم ہے۔
اور یہ کامیابی صرف آخرت کی نہیں۔ ہم نے یہ سوچ لیا ہے کہ دنیا حاصل کریں گے تو آخرت نہیں ملے گی، آخرت چاہیے تو دنیا چھوڑنی پڑے گی۔ ایسا کچھ بھی نہیں۔ آخرت کی کامیابی اور دنیا کی کامیابی ایک ہی راستے پر ہیں۔ ہاں، اس دنیا کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں اور سنت کے مطابق گزارنا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے نہ کاروبار سے منع کیا ہے، نہ اچھا رزق حاصل کرنے سے۔
تو میرا پیغام یہ ہے: اگر گھر میں سکون لانا ہے تو ہمارا جو بھی رول ہے، باپ، بیٹا، بہو، بیٹی، ساس، اس رول کو نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزاریں۔ اسی میں برکتیں ہیں، اسی میں سکون ہے۔
آج ایک کام کیجیے۔ گھر میں اپنے نفس کا جائزہ لیجیے کہ وہ کس حالت میں ہے۔ کسی اور کا نہیں، اپنا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو وہ سکون عطا فرمائے جو اپنی اصلاح سے شروع ہوتا ہے۔ آمین۔
پوری گفتگو ویڈیو میں:
https://youtu.be/UWC8cPBmF6Q
یہ تحریر انگریزی میں:
https://falah.org/peace-at-home-begins-with-the-person-in-the-mirror/
اس سلسلے کی تحریر «اپنی اصلاح کیسے کریں» بھی پڑھیے:
https://falah.org/ur/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba-%d9%88%db%81-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%81-%d8%ac%d8%b3%db%92-%d8%a2%d9%be/
اگلی گفتگو سب سے پہلے ہمارے واٹس ایپ چینل پر:
https://falah.org/newsletter
