گھر میں کس کو بدلنا ہے؟ یہ سوال ہم روز اپنے آپ سے پوچھتے ہیں، اور جواب ہمیشہ کوئی اور ہوتا ہے۔ بھائی، بہن، شوہر یا بیوی، ساس سسر۔ ہم مہینوں اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ وہ بندہ بدل جائے، اور وہ بندہ بدلتا نہیں۔ پھر تھک کر ہم کہتے ہیں کہ میں تو سب کے ساتھ ٹھیک ہوں، میرے ساتھ کوئی ٹھیک نہیں۔ اپنی اصلاح کیسے کریں، یہ سوال ہم نے کبھی پوچھا ہی نہیں۔
میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں جو آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ آسان اس لیے کہ اس کے لیے کسی اور کی اجازت نہیں چاہیے۔ مشکل اس لیے کہ اس کا رخ ہماری اپنی طرف ہے۔
خامیاں ڈھونڈنے کی عادت
ہم سب کی ایک بنیادی عادت ہے۔ جب بھی ہم کسی سے بات کرتے ہیں، چاہے وہ ہمارے ساتھی ہوں، جاننے والے ہوں یا نہ جاننے والے، ہم ان کے اندر خامیاں نکالنے لگتے ہیں۔ اور اگر خامیاں نکالتے نہیں بھی، تو ان کی کمزوریاں ہمیں جلدی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پھر بہن بھائیوں سے، دوستوں سے، بڑوں سے بات کرتے ہوئے ہم انہی خامیوں کو دیکھتے ہوئے ان کا مذاق اڑا دیتے ہیں، تضحیک کر دیتے ہیں۔
جو بات ہم بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہی خامیاں ہم میں بھی ہو سکتی ہیں۔ اور اگر ہم میں کوئی خامی ہے تو سب سے پہلے اسی پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کہ ہم کسی دوسرے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں، اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔
آج کل ہمارے ہاں یہ عادت بہت عام ہو گئی ہے کہ ہم سب کی اصلاح کی فکر میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اردگرد کے سارے لوگ ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ہمیں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔
اپنی اصلاح کیسے کریں؟ پہلے دیکھیں کون درمیان میں کھڑا ہے
رشتہ ہمیشہ دو لوگوں کا ہوتا ہے۔ دو بھائی ہیں تو ان کے درمیان ایک رشتہ ہے، بہن بھائی ہیں تو ایک رشتہ، میاں بیوی ہیں تو ایک رشتہ، ساس بہو ہیں تو ایک رشتہ۔ اب اگر ہمارے سارے رشتے ٹھیک نہیں ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سارے رشتوں کی اصلاح ہو، تو ایک چیز دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان سارے رشتوں میں ایک قدرِ مشترک ہے۔ ایک چیز مشترک ہے۔ اور وہ مشترک چیز ہم خود ہیں۔
اگر ہمیں لگتا ہے کہ بھائی کو بھی اصلاح کی ضرورت ہے، بہن کو بھی، شوہر یا بیوی کو بھی، ساس سسر کو بھی، تو ذرا دیکھیے کہ ان سب کے درمیان کون کھڑا ہے۔ ہم خود۔ تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں بھی اصلاح کی ضرورت ہو۔
اور یہیں وہ بات ہے جو مجھے سب سے زیادہ امید والی لگتی ہے۔ آپ کسی دوسرے کی اصلاح کے لیے جو بھی کوشش کریں گے، وہ کارآمد ہوگی یا نہیں، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ لیکن اگر آپ اپنی اصلاح میں مخلص ہو جائیں، اور نیت کر لیں کہ میں نے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہے، اپنے عمل کو بھی اور اپنی سوچ کو بھی نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق لے کر آنا ہے، تو یہ چیز آپ سو فیصد کر سکتے ہیں۔ اس میں ذرہ برابر شک نہیں۔ دوسروں کے بدلنے کی ضمانت نہیں، اپنے بدلنے کی پوری گنجائش ہے۔
نمونہ کون ہے؟
اصلاح کرنی ہے تو اپنے آپ کو بنانا کیسا ہے؟ یہاں ہمارے پاس ایک ہی رول ماڈل ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو ایلون مسک جیسا بنانا ہے، بل گیٹس جیسا بنانا ہے، کسی فٹبالر جیسا، میسی یا رونالڈو جیسا، کسی کرکٹر جیسا؟ یا نبی کریم ﷺ جیسا؟ اللہ تعالیٰ نے تو نبی کریم ﷺ کو بہترین نمونہ قرار دیا ہے (مفہوم: سورہ احزاب 21)۔ اس کائنات میں سب سے مثالی رول ماڈل، جس کی ہم پیروی کر سکتے ہیں، نبی کریم ﷺ ہیں۔
اور یہ پیروی صرف ظاہری اعمال کی نہیں۔ ان کی سوچ، ان کی نیت، ان کا اخلاص، یہ سب اپنی ذات میں لے کر آنا ہے۔ سنت کو ظاہری طور پر بھی اپنانا ہے اور باطنی طور پر بھی۔
یہ بات اس لیے ضروری ہے کہ ایک وقت میں آپ کے پاس ایک سے زیادہ رول ہوتے ہیں۔ آپ بیٹے بھی ہیں، داماد بھی ہیں، بھائی بھی ہیں، کسی کے بہنوئی بھی ہیں، بعض اوقات سسر بھی ہیں۔ یہ سارے رول آپ ہی کے پاس ہیں۔ اور ان سب کو ادا کرنے کا بہترین طریقہ ایک ہی ہے: نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی کر کے۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ ہر رشتے میں ہم اپنی بات کو ہی سچ سمجھتے ہیں، کیونکہ ہر ایک نے اپنا تجزیہ کیا ہوتا ہے، اور وہ تجزیہ ان معلومات پر کھڑا ہے جو سوشل میڈیا سے، ڈراموں سے، دوستوں سے آئی ہیں۔ ایسے فیصلے کبھی ٹھیک ہوتے ہیں، کبھی نہیں۔ اور ہر بات میں ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ بحث جیت جائیں۔
دروازے کے اندر وہی انسان
کتابیں تو ہم پڑھتے ہیں: اچھا ٹیم ممبر کیسے بننا ہے، اچھا لیڈر کیسے بننا ہے۔ یہ ساری اچھی باتیں ہم کاروبار اور کیریئر میں اپنانا چاہتے ہیں، اخلاق دوستوں کے ساتھ اپنانا چاہتے ہیں۔ اور جیسے ہی گھر کے دروازے سے داخل ہوتے ہیں، لیڈرشپ والی کتابیں ایک طرف چلی جاتی ہیں۔ جو ہنسی، جو اخلاق دوستوں کے ساتھ ہوتا ہے، گھر میں آ کر نہیں ہوتا۔ وہاں ہم بالکل مختلف انسان بن جاتے ہیں۔
جب تک ہم باہر اور اندر، مسجد میں اور گھر میں ایک جیسا رویہ اختیار نہیں کریں گے، ایک جیسا انسان نہیں بنیں گے، گھر میں سکون نہیں آئے گا۔
اس کا ایک آسان امتحان ہے۔ گھر میں کسی سے بحث کرتے ہوئے ہم آواز اونچی کر لیتے ہیں، کسی کی توہین کر دیتے ہیں، جیتنے کے لیے پہلے سے تیاری کر کے بہت اچھی دلیل دیتے ہیں، اور اندر سے پتا بھی ہوتا ہے کہ ہم غلط کر رہے ہیں۔ اگر اس چیز کا احساس تک نہیں، تو یہ ہمارے نفس کی سب سے بری حالت ہے۔ اسے نفسِ امارہ کہتے ہیں۔
تو پیغام یہ ہے: گھر میں سکون لانا ہے تو جو بھی رول ہمارے پاس ہے، باپ، بیٹا، بہو، بیٹی، ساس، اس رول کو نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزاریں۔ اسی میں برکتیں ہیں، اسی میں سکون ہے۔
آج رات گھر کے دروازے پر ایک لمحہ رکیے، اور اندر جانے سے پہلے یہ نیت کیجیے: پہلے میں نے اپنی اصلاح کرنی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں سے پہلے اپنے آپ کو دیکھنے اور سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پوری ویڈیو:
https://youtu.be/PT4JUPRaI4c
یہ تحریر انگریزی میں:
https://falah.org/change-yourself-first-the-one-person-you-can-reform/
اگلی تحریر «نفس کی تین اقسام» میں نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ اور نفسِ مطمئنہ پر بات ہے:
https://falah.org/ur/%d9%86%d9%81%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%82%d8%b3%d8%a7%d9%85-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%d9%81%d8%b3-%da%a9%d8%b3-%d8%ad%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81/
واٹس ایپ چینل پر ہم سے جڑیں:
https://falah.org/newsletter
