ملامت کرنے والا نفس، نفسِ لوامہ کیا ہے؟

ہم سے کوئی غلطی ہو گئی۔ ہم نے کسی کو ڈانٹ دیا، کسی سے بدتمیزی کر لی، گھر میں، دوستوں میں، آفس میں۔ اس کے بعد ہمیں احساس ہو گیا: ہاں، میں نے غلطی کی ہے۔

اب ہم کسی کو فخر سے نہیں بتائیں گے کہ میں نے کسی کو بیوقوف بنایا یا کسی کے ساتھ زیادتی کی۔ بلکہ ہمیں ملامت ہو رہی ہوگی، دل ہی دل میں ہم شرمندہ ہو رہے ہوں گے۔ یہ نفسِ لوامہ ہے، اور یہ نفسِ امارہ سے بہتر حالت ہے۔

آج جس غلطی پر دل میں ملامت ہو، اس پر رکیں اور اللہ ﷻ سے معافی مانگیں۔

میثاق سیریز، دوسرا لیکچر، شیخ شہزاد عارف۔

آدھی سنت، شہزاد عارف آدھی سنت، پشتی سرورق

آدھی سنت · اردو ناول · شہزاد عارف

Share this with someone
WhatsApp Facebook X Telegram