ہم نے آخری بار کب گھر میں کسی پر آواز اونچی کی، اور بعد میں کچھ محسوس نہیں ہوا؟ یا شاید محسوس ہوا، رات کو دل میں ایک چبھن رہی کہ یہ میں نے غلط کیا۔ یہ دونوں باتیں چھوٹی لگتی ہیں، لیکن انہی سے پتا چلتا ہے کہ قرآنِ پاک میں بیان کی گئی نفس کی تین اقسام میں سے ہمارا نفس اس وقت کس حالت میں ہے۔ اور یہ جاننا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کامیابی کو اسی نفس سے جوڑ دیا ہے۔

نفس کیا ہے اور نفس کی تین اقسام کون سی ہیں؟

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآنِ پاک میں سات قسمیں کھا کر کہا ہے کہ جو اپنے نفس کو پاک کرے گا وہی کامیاب ہوگا (مفہوم: سورہ شمس 9)۔ اور بدقسمتی سے آج کی زندگی میں ہمیں نفس کی بنیادی تعریف ہی نہیں پتا۔ نفس کو عام طور پر ہم inner self بھی کہتے ہیں۔ علامہ اقبال رحمہ اللہ اس کو خودی کہتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے اس نفس کی تین حالتیں بتائی ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ ان تینوں کو اپنے گھر کے منظر میں دیکھیں، کسی کتاب کے صفحے پر نہیں۔

نفسِ امارہ: جب ضمیر سوتا ہے

سب سے بری حالت نفسِ امارہ ہے۔ اس کے بارے میں قرآنِ پاک میں ایک عظیم المرتبت نبی علیہ السلام کے الفاظ محفوظ ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تھا: اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کہتا، بے شک نفس تو برائی پر اُبھارنے والا ہے (مفہوم: سورہ یوسف 53)۔ انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہماری تربیت کے لیے یہ الفاظ قرآن میں رکھ دیے گئے، تاکہ قیامت تک ہر انسان سمجھ سکے کہ نفس کے بارے میں ایک نبی علیہ السلام کے الفاظ کیا ہیں۔ یعنی نفس کے بارے میں کوئی ضمانت نہیں لے سکتا۔

اور ہم؟ ہم کہتے ہیں کہ جو میں سوچ رہا ہوں، جو میں کہہ رہا ہوں، جو میں کر رہا ہوں، وہ صحیح ہے۔ بھائی مشورہ دے تو غلط، والدین دیں تو غلط، شوہر یا بیوی دے تو غلط۔ اور ہمارے پاس ہر بات کی دلیل ہوتی ہے: اس نے یہ کہا تھا، اس کی والدہ نے اس وقت یہ کہا تھا، اس لیے میں یہ کر رہا ہوں۔ کوئی بھی کام کر لیں اور ہمارے پاس اس کی دلیل ہو، لیکن اندر کوئی پریشانی نہ ہو کہ میں نے غلط کیا۔ یہ حالت نفسِ امارہ ہے۔

اسی کا دوسرا رنگ یہ ہے کہ ہم کوئی غلط کام کرتے ہیں اور پھر دوستوں میں فخر سے بتاتے ہیں: دیکھو میں نے اس کو کیسے بیوقوف بنایا، کیسے چکر دیا۔ گھر میں والدین کو، بہن بھائیوں کو بتاتے ہیں کہ دیکھیں میں نے معاملہ کیسے سنبھالا، کیسے ان کو پچھاڑ دیا۔ اپنے ایسے کام پر فخر جس سے کسی کو دکھ پہنچا، کسی کی دل آزاری ہوئی، یہ نفس کی بری ترین حالت ہے۔

گھر میں اس کا ایک آسان امتحان ہے۔ بحث کرتے ہوئے آواز اونچی کر لینا، کسی کی توہین کر دینا، جیتنے کے لیے پہلے سے تیاری کر کے بہت اچھی دلیل دینا، اور اندر سے پتا ہونا کہ یہ غلط ہے۔ اگر اس کا احساس بھی نہ ہو، تو یہ نفسِ امارہ ہے۔ جب تک مسجد میں اور گھر میں ایک جیسا انسان نہیں بنیں گے، گھر میں سکون نہیں آئے گا۔ کامیابی کے لیے سب سے پہلا کام یہی ہے کہ نفس کو اس حالت سے نکالا جائے۔

نفسِ لوامہ: ضمیر زندہ ہو گیا

دوسری حالت اس سے بہتر ہے۔ اس کو نفسِ لوامہ کہتے ہیں، ملامت کرنے والا نفس، اور اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں قسم کھا کر فرماتے ہیں: اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی (مفہوم: سورہ قیامہ 2)۔

ملامت کرنے والا نفس کیا ہے؟ ہم سے غلطی ہو گئی۔ ہم نے کسی کو ڈانٹ دیا، کسی سے بدتمیزی کر لی، گھر میں، دوستوں میں، آفس میں۔ اس کے بعد ہمیں احساس ہو گیا: ہاں، میں نے غلطی کی۔ اب ہم کسی کو فخر سے نہیں بتائیں گے کہ میں نے فلاں کے ساتھ زیادتی کی۔ بلکہ ہمیں ملامت ہو رہی ہوگی، دل ہی دل میں شرمندگی ہوگی۔ یہ ہمارا نفسِ لوامہ ہے۔

یوں سمجھیے کہ آپ صفر سے پچاس فیصد پر آ گئے۔ غلطی اب بھی ہوگی، کسی سے بدتمیزی، کسی سے زیادتی، لیکن ساتھ میں احساس بھی ہوگا کہ یہ میں غلط کر رہا ہوں، اور اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی فکر بھی ہوگی کہ اب میں ٹھیک کیسے ہوں، مجھے کوئی طریقہ ڈھونڈنا چاہیے۔ ہم اپنے معاشرے میں یہ الفاظ سنتے ہیں کہ تمہارا ضمیر سو گیا ہے، مر گیا ہے، زندہ ہے۔ یہ سب یہیں سے نکلتے ہیں۔ نفسِ امارہ میں ضمیر مردہ ہے۔ نفسِ لوامہ میں ضمیر زندہ ہو گیا۔

نفسِ مطمئنہ: جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہو جائے

تیسری حالت نفسِ مطمئنہ ہے۔ فجر کی نماز میں امام صاحب اکثر سورۃ الفجر کی وہ آیت تلاوت کرتے ہیں جس کا مفہوم ہے: اے اطمینان والے نفس، اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے (مفہوم: سورہ فجر 27-28)۔ یعنی ایسا نفس جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہو جائے۔ یہ ہے نفسِ مطمئنہ، اور یہی ہے وہ کامیابی۔

ذرا سوچیے، اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ اب تم کامیاب ہو گئے، میں تم سے خوش ہو گیا، تم میری طرف آ جاؤ۔ جیسے ایک محبوب اپنے محب کو بلاتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو بلا رہے ہیں۔ جو اپنے نفس کو نفسِ امارہ سے نفسِ لوامہ، اور نفسِ لوامہ سے ہوتے ہوئے نفسِ مطمئنہ بنا لے گا، اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتے ہیں، اس کا انتظار کرتے ہیں۔ یہی حالت ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔

آج ایک کام کیجیے۔ گھر میں بیٹھ کر اپنے نفس کا جائزہ لیجیے، کسی اور کے نفس کا نہیں۔ آج کی ایک غلطی یاد کیجیے اور دیکھیے: احساس ہوا یا نہیں؟ بس اتنا پتا چل جائے کہ میں کہاں کھڑا ہوں، تو سفر شروع ہو جاتا ہے۔ اور یہ سفر اسی بات کی طرف جاتا ہے جس سے ہم نے شروع کیا تھا: کامیابی نفس کو پاک کرنے میں ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کو پہچاننے اور اسے بہتر حالت کی طرف لے جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

پوری ویڈیو:
https://youtu.be/dm82WopHzBA

یہ تحریر انگریزی میں:
https://falah.org/?p=4033

واٹس ایپ چینل پر ہم سے جڑیں:
https://falah.org/newsletter

آدھی سنت، شہزاد عارف آدھی سنت، پشتی سرورق

آدھی سنت · اردو ناول · شہزاد عارف

Share this with someone
WhatsApp Facebook X Telegram