When I share my charity or good work online for a good cause, how do I know if it is riya or genuine encouragement to others?جب میں اپنا صدقہ یا نیک کام کسی اچھے مقصد کے لیے آن لائن شیئر کرتا ہوں، تو مجھے کیسے پتا چلے کہ یہ ریا ہے یا واقعی دوسروں کی حوصلہ افزائی؟
There is nothing shameful in a good deed being seen. The Qur’an mentions both ways of giving, and it condemns neither.
“If you disclose your charities, it is good; but if you conceal them and give them to the poor, that is better for you.”
Qur’an, Al-Baqarah 2:271 · meaning
Look at how carefully this is worded. The open hand is called good, and it truly is good, because others see it and are moved to give, and generosity stays alive in the world. The hidden hand is called better only because it is safer for you: no breeze of applause reaches it to cool the warmth of what you gave. Neither road is closed. You are simply shown the higher one for the times when you can take it.
So how do you read your own intention? The difference between riya and encouragement is not on the screen, it is somewhere inside, and nobody can see it better than you. Ask yourself two plain questions. First, if my name were taken off this post, would I still want to put it up? Second, if nobody praised it and nothing came back, would I be just as content? If the answer is yes, you are lighting a lamp, not displaying yourself. If the heart tightens a little, that is not a verdict against you. It is the habit of an age that trains everyone to look for a witness, and a habit can be corrected without harshness.
The Prophet, peace be upon him, mentioned seven whom Allah will shade on a day when there is no other shade, and among them,
“A man who gives in charity so secretly that his left hand does not know what his right hand has given.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari (1423) · meaning
Giving so quiet that even part of yourself is not told. This does not mean you must stop encouraging others in public; the world does need its lamps. Keep a private corner alongside it, gifts no eye will ever see, so your heart keeps the taste of giving for the One who needs no screen to know.
One small step: This week, alongside anything you share, give one small charity you will never tell anyone about, kept between you and your Lord.
پہلی بات یہ سمجھ لیجیے کہ نیکی لوگوں کے سامنے آ جائے تو یہ بجائے خود کوئی عیب نہیں۔ قرآنِ کریم نے دینے کی دونوں صورتوں کا ذکر کیا ہے اور کسی کو برا نہیں کہا۔
”اگر تم صدقات ظاہر کر کے دو تو یہ بھی اچھی بات ہے، اور اگر انہیں چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔“
قرآنِ کریم، سورۃ البقرہ ۲:۲۷۱ · مفہوم
الفاظ پر غور کیجیے،۔ کھلے صدقے کو ”اچھی بات“ فرمایا گیا، اور واقعی اچھی بات ہے، اس لیے کہ اسے دیکھ کر دوسروں کا جی بھی دینے کو چاہتا ہے اور سخاوت کا چلن دنیا میں قائم رہتا ہے۔ چھپے صدقے کو ”زیادہ بہتر“ کہا گیا، اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ آپ کے اپنے دل کے لیے زیادہ محفوظ ہے، تعریف کی ہوا وہاں تک نہیں پہنچتی جو دیے ہوئے کی گرمی ٹھنڈی کر دیتی ہے۔ راستہ کوئی بند نہیں کیا گیا، بس جہاں گنجائش ہو وہاں اونچا درجہ بتا دیا گیا ہے۔
اب اپنی نیت کیسے پڑھیں؟ ریا اور حوصلہ افزائی کا فرق اسکرین پر نہیں ہوتا، دل کے کسی گوشے میں ہوتا ہے، اور اسے آپ سے بہتر کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اپنے آپ سے دو سیدھے سوال کر لیجیے۔ ایک، اگر اس تحریر سے میرا نام ہٹا دیا جائے تو کیا پھر بھی میں اسے لگانا چاہوں گا؟ دوسرا، اگر کوئی تعریف نہ کرے اور کچھ لوٹ کر نہ آئے تو کیا دل کا اطمینان اتنا ہی رہے گا؟ جواب ہاں میں ہو تو یہ چراغ جلانا ہے، اپنی نمائش نہیں۔ اور دل ذرا سا سکڑے تو اسے اپنے خلاف فیصلہ نہ سمجھیے۔ یہ اس زمانے کی عادت ہے جو ہر ایک کو کوئی گواہ ڈھونڈنے پر لگا دیتا ہے، اور عادت سختی کے بغیر بھی سدھر جاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ان سات خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا جنہیں اُس دن سایہ نصیب ہوگا جب کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا، اور ان میں ایک وہ ہے،
”جس نے اتنے چھپا کر صدقہ دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوئی کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۱۴۲۳) · مفہوم
یعنی دینا ایسا خاموش کہ خود اپنے ایک ہاتھ کو بھی نہ بتایا جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھلی حوصلہ افزائی چھوڑ دیجیے، دنیا کو چراغوں کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ایک گوشہ ایسا بھی رکھیے جس کی کسی کو خبر نہ ہو، تاکہ دل کو خالص دینے کا مزہ یاد رہے، اُس کے لیے دینا جسے جاننے کے لیے کسی اسکرین کی حاجت نہیں۔
ایک چھوٹا قدم: اس ہفتے جو کچھ لوگوں کے سامنے کریں، اس کے ساتھ ایک صدقہ ایسا بھی کیجیے جس کا ذکر کبھی کسی سے نہ کریں، وہ صرف آپ اور آپ کے رب کے درمیان رہے۔
