I started a good habit sincerely, but now people praise me for it and I’ve grown to love the praise. Should I stop the deed to protect my heart?میں نے ایک نیک عادت خلوص سے شروع کی تھی، لیکن اب لوگ اس پر تعریف کرتے ہیں اور مجھے تعریف سے محبت ہو گئی ہے۔ کیا مجھے دل بچانے کے لیے وہ عمل چھوڑ دینا چاہیے؟
No, do not stop it. The remedy for a little dust on a mirror is not to break the mirror. And the worry you feel is itself the sign that sincerity is still alive in you, so let us begin from there and not from fear.
The Messenger of Allah, peace be upon him, was asked about a man who does good deeds and whom people then praise for them. He said:
“That is the glad tidings of the believer given early.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2642a) · meaning
Notice what he did not say. He did not call the praise a defect in the deed, nor something that spoils what was done for Allah. He called it good news. So there is no need to abandon a good you began sincerely simply because kind words have reached you. Praise for a hidden good is not a trap. It is Allah drawing back a corner of the curtain so that you taste, here and now, something of the acceptance already written for you. It was never your aim, so it is not your sin. It came to you; you did not go looking for it.
The work, then, is not to kill the deed but to keep renewing its aim, because the purpose given to us is a simple one:
“And they were commanded only to worship Allah, being sincere to Him in devotion.”
Qur’an, Al-Bayyinah 98:5 · meaning
Liking the warmth of praise is not the same as doing the deed for praise. The first is human nature; the second is what needs watching. Our Naqshbandi way does not ask you to become cold, only to keep turning the heart back to Allah, quietly, again and again. Let praise come in the way sunlight comes through a window: welcome, but not the reason you rose. Hand it back with a whispered “this is from You,” and the praise you feared would empty your heart will keep it full instead.
One small step: The next time someone praises this habit, before you answer them say silently in your heart, “O Allah, this is Your gift, keep it for You,” and then continue the deed exactly as before.
نہیں، عمل ہرگز نہ چھوڑیے۔ آئینے پر ذرا سی گرد جم جائے تو آئینہ توڑا نہیں جاتا، صاف کیا جاتا ہے۔ اور جو فکر آپ کو لاحق ہوئی ہے، وہی اِس بات کی گواہی ہے کہ اخلاص ابھی زندہ ہے۔ سو بات ڈر سے نہیں، اِسی جگہ سے شروع کیجیے۔
حضور نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ اُس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو نیک کام کرے اور لوگ اُس پر اُس کی تعریف کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
”یہ تو مومن کے لیے پہلے سے مل جانے والی خوشخبری ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۶۴۲a) · مفہوم
غور کیجیے، تعریف کو نہ عمل کا عیب کہا گیا، نہ اُس چیز کا بگاڑ جو اللہ کے لیے کی گئی تھی، بلکہ اُسے خوشخبری کہا گیا۔ تو جو نیکی خلوص سے شروع کی گئی، محض چند اچھے کلمے کانوں تک پہنچ جانے پر اُسے چھوڑ دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ چھپی ہوئی نیکی پر لوگوں کی تعریف کوئی جال نہیں، یہ اللہ کا پردہ ذرا سا سرکا دینا ہے، تاکہ بندہ اُس قبولیت کا کچھ ذائقہ ابھی پا لے جو اُس کے لیے لکھی جا چکی ہے۔ یہ آپ کا مقصود تھی ہی نہیں، تو گناہ کیسے ہو۔ یہ خود آپ تک آئی ہے، آپ اِس کے پیچھے نہیں گئے۔
اصل کام عمل کو ختم کرنا نہیں، اصل کام نیت کو بار بار تازہ کرتے رہنا ہے، کیونکہ حکم تو ہمیں ایک ہی سادہ سی بات کا ملا ہے:
”اور انہیں تو بس یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔“
قرآن، سورۃ البینہ ۹۸:۵ · مفہوم
تعریف کا اچھا لگنا اور تعریف کے لیے عمل کرنا، یہ دو الگ باتیں ہیں۔ پہلی انسان کی فطرت ہے، دوسری وہ ہے جس پر نظر رکھنی چاہیے۔ ہمارا نقشبندی طریقہ آپ سے سنگدل ہونے کو نہیں کہتا، بس یہ کہتا ہے کہ دل کا رخ چپکے چپکے، بار بار اللہ کی طرف پھیرتے رہیں۔ تعریف کو ایسے آنے دیجیے جیسے کھڑکی سے دھوپ آتی ہے، بھلی لگتی ہے، مگر آپ اُٹھے اُس کے لیے نہ تھے۔ دل ہی دل میں کہہ دیجیے کہ “یہ تیری عطا ہے”، اور جس تعریف سے دل خالی ہو جانے کا ڈر تھا، وہی دل کو بھرا رکھے گی۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی بار کوئی آپ کی اِس عادت پر تعریف کرے تو جواب دینے سے پہلے دل میں کہہ لیجیے، “یا اللہ، یہ تیری عطا ہے، تیرے ہی لیے رہے۔” اور عمل کو بالکل اُسی طرح جاری رکھیے۔
