I feel guilty every time I spend on myself or my family. Is it wrong to enjoy the halal that Allah has given me?جب بھی میں اپنے یا اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہوں تو مجھے احساسِ جرم ہوتا ہے۔ کیا اللہ کے دیے ہوئے حلال سے لطف اٹھانا غلط ہے؟
The guilt you feel when you spend on yourself and your family is not something your Faith asks of you. Allah is more generous than the narrowness we sometimes imagine, and He invites us openly to enjoy what He has made lawful.
“O children of Adam, take your adornment at every place of prayer, and eat and drink, but be not excessive. Indeed, He does not like those who commit excess.”
Qur’an, Al-A’raf 7:31 · meaning
Look at where the boundary actually falls. Eat, drink, dress well, take your adornment; the command itself is an invitation, and only excess is set aside. To enjoy the halal is not a trespass. It is accepting a gift with open hands and a thankful face, which is what a grateful servant does.
There is more than permission here. The money you spend on those you love is written down as charity.
“When a Muslim spends on his family, seeking reward for it from Allah, it counts for him as charity.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (1002a) · meaning
So the very act that troubled your conscience, providing for your household, becomes worship through your intention. And the Qur’an warns plainly against the habit of forbidding to ourselves what Allah has made good.
“O you who believe, do not forbid the good things which Allah has made lawful to you, and do not transgress. Indeed, Allah does not like transgressors.”
Qur’an, Al-Ma’idah 5:87 · meaning
There are two edges to stay away from, then. Extravagance on one side, needless self-denial on the other. Gratitude sits between them. Let your enjoyment of the halal be a quiet thank-you rather than a debt you are repaying.
One small step: The next time you enjoy something halal, whether a meal, a rest, or a gift for your family, pause and say “Alhamdulillah,” turning the enjoyment itself into thanks.
اپنے اوپر یا گھر والوں پر خرچ کرتے ہوئے جو جھجک آپ کو محسوس ہوتی ہے، یہ بوجھ دین نے آپ پر نہیں رکھا۔ اللہ کے دیے ہوئے حلال سے پاکیزہ فائدہ اٹھانا جائز ہی نہیں، دین کا ادب بھی ہے۔ قرآن کا انداز دیکھیے، وہاں روک ٹوک نہیں، دعوت ہے:
”اے اولادِ آدم، ہر عبادت گاہ میں اپنی زینت اختیار کرو، اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
قرآن، سورۃ الاعراف ۷:۳۱ · مفہوم
غور کیجیے، پہلے کھانے پینے اور آراستہ ہونے کا حکم آیا، اور روکا صرف اسراف سے گیا۔ یعنی حلال سے فائدہ اٹھانا اصل ہے، اور بچنا اُس زیادتی سے ہے جو دل کو غافل اور ہاتھ کو بے پروا کر دے۔ آپ جو خرچ اپنے گھر پر کر رہے ہیں، وہ اسی دائرے کے اندر ہے، پھر جرم کا احساس کس بات کا؟
ایک بات اس سے آگے کی بھی ہے۔ گھر والوں پر کیا ہوا خرچ اللہ کے ہاں محض جائز خرچ نہیں، صدقہ لکھا جاتا ہے۔
”جب مسلمان اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے اور اُس میں ثواب کی نیت رکھتا ہے، تو وہ اُس کے لیے صدقہ ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۱۰۰۲a) · مفہوم
جس لقمے پر آپ خود کو مجرم سمجھ رہے تھے، نیت درست ہو جائے تو وہی لقمہ صدقے کے پلڑے میں تولا جاتا ہے۔ باپ بچوں کے لیے پھل لاتا ہے، بیوی کے لیے آسائش کا سامان کرتا ہے، یہ خودغرضی نہیں، یہ گھر کے آنگن میں بکھری ہوئی خیرات ہے۔
ہاں، ایک بات سے قرآن نے صاف منع کیا ہے، کہ آدمی حلال کو خود اپنے اوپر حرام نہ کر لے:
”اے ایمان والو، جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں، انہیں حرام نہ ٹھہراؤ اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
قرآن، سورۃ المائدہ ۵:۸۷ · مفہوم
تو اعتدال کے دو کنارے ہیں۔ ایک طرف اسراف، اور دوسری طرف بے جا محرومی، کہ آدمی نعمت سے خود کو ناحق روک لے۔ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے بزرگ بھی یہی سکھاتے ہیں کہ دنیا ہاتھ میں رہے، دل میں نہ اترے۔ اس لیے شکر کے ساتھ اللہ کے حلال سے فائدہ اٹھائیے، اور جرم کے احساس کو شکر کی کیفیت میں بدل لیجیے۔
ایک چھوٹا قدم: آج جب آپ اپنے یا گھر والوں پر کوئی حلال خرچ کریں، تو دل میں ایک لمحے کے لیے “الحمد للہ” اور یہ نیت دہرا لیجیے کہ “یہ میرے گھر والوں پر صدقہ ہے”، پھر دیکھیے وہی خرچ کیسے عبادت بن جاتا ہے۔
