Questions of the Heartدل کے سوال
Tasawwuf & the Naqshbandi Pathتصوف اور نقشبندی راہ

When I see mureeds showing so much love and reverence for their Shaykh, kissing his hand and honoring him deeply, a fear grips me: isn’t this dangerously close to shirk?جب میں مریدوں کو اپنے شیخ سے اتنی محبت اور تعظیم کرتے دیکھتا ہوں، اُن کے ہاتھ چومتے اور دل سے ادب کرتے، تو مجھے ایک خوف آ گھیرتا ہے: کیا یہ شرک کے خطرناک حد تک قریب نہیں؟

That fear deserves a straight answer, so let us look carefully at what is actually happening when a mureed lowers his head before his guide.

There is a love that Allah Himself plants in the believing heart, a love that does not stop at the creature but passes through him toward the Creator. The Prophet, peace be upon him, told us plainly what such love does to a person.

“A man will be with those he loves.”

The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 6168 / Muslim 2640a) · meaning

And among the seven whom Allah will shade on the Day when there is no shade but His, He named two who loved one another for His sake.

“…two men who loved one another for Allah’s sake, coming together upon that and parting upon it…”

The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 660 / Muslim 1031a) · meaning

So love for the sake of Allah is not a doorway to shirk. It is a branch of faith, something Allah shelters and rewards.

The matter is settled by intention. A student who kisses the hand of the teacher who taught him the Qur’an is not worshipping that hand; he is honoring the knowledge that flowed through it, and the honor runs back to Allah. Worship is to bow the innermost heart in servitude, to hope and fear from a being as one hopes and fears from the Lord. To revere a guide precisely because he keeps pointing you away from himself and toward Allah is the opposite of that. The scholars put it simply: reverence for the righteous is reverence for the One who made them righteous.

“a people He loves and who love Him…”

Qur’an, Al-Ma’ida 5:54 · meaning

Notice that Allah describes these people by love, given and received. A true Shaykh is uncomfortable at being honored and turns every drop of that love upward, saying in effect, “Do not stop at me, I am only a signpost.” A signpost that is loved because it shows the road home has committed no crime against the road. Keep your caution, it is useful, but do not be suspicious of love that is given for Allah’s sake.

One small step: The next time your heart feels love for a righteous person, quietly add in your heart, “O Allah, I love him for Your sake; carry this love up to You,” and notice how the fear settles.

یہ ڈر بے سبب نہیں، اور اِسے دبانے کی ضرورت بھی نہیں۔ جس دل میں توحید بیٹھی ہو، وہ فطرتاً چوکنا رہتا ہے کہ کہیں کوئی محبت اللہ کی جگہ نہ لے لے۔ آئیے، سیدھی بات دیکھ لیتے ہیں کہ جب ایک مرید اپنے شیخ کے سامنے سر جھکاتا ہے تو ہو کیا رہا ہے۔

شرک یہ ہے کہ کسی مخلوق کو اللہ کے برابر ٹھہرا لیا جائے، اُس سے وہ اُمید اور وہ ڈر رکھا جائے جو صرف اللہ کا حق ہے، یا اُس کی عبادت کی جائے۔ مرید جب اپنے شیخ کا ہاتھ چومتا اور اُس کا ادب کرتا ہے تو وہ اُسے معبود نہیں مانتا، ایک استاد اور اللہ تک پہنچانے کا ذریعہ مانتا ہے۔ محبت شیخ پر ٹھہرتی نہیں، اُس کے واسطے سے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ تک جاتی ہے۔ کوئی چاند کی طرف اُنگلی اُٹھائے تو دیکھنے والے کی نظر اُنگلی پر نہیں، چاند پر جاتی ہے۔

اللہ کے لیے کسی سے محبت رکھنا تو خود دین کا ایک شعبہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا

”آدمی (قیامت کے دن) اُسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۱۶۸ / مسلم ۲۶۴۰a) · مفہوم

اور قیامت کے دن جن سات خوش نصیبوں کو اللہ اپنے سائے میں جگہ دے گا، اُن میں دو یہ ہیں

”دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کے لیے آپس میں محبت کی، اِسی محبت پر جمع ہوئے اور اِسی پر جدا ہوئے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۶۰ / مسلم ۱۰۳۱a) · مفہوم

یعنی یہ محبت شرک کا دروازہ نہیں، عرش کے سائے کا راستہ ہے۔ رہی یہ بات کہ محبت آتی کہاں سے ہے، اللہ خود اپنے ایسے بندوں کا ذکر اِن لفظوں میں کرتا ہے

”اللہ اُن سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔“

قرآن، سورۃ المائدہ ۵:۵۴ · مفہوم

محبت پہلے اللہ کی طرف سے بندے کے دل میں اُترتی ہے، پھر بندہ اُسی محبت کے ساتھ اللہ کی طرف پلٹتا ہے۔ نقشبندی مجدّدی راہ میں شیخ کی محبت اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، منزل نہیں، بلکہ اللہ کی محبت دل میں جگانے کا وسیلہ۔ سچا شیخ اپنی تعظیم پر خوش نہیں ہوتا، وہ ہر بار مرید کا رُخ اپنی ذات سے ہٹا کر اللہ کی طرف کر دیتا ہے۔ اِس لیے اپنا یہ پہرہ قائم رکھیے، کام آئے گا، مگر جہاں محبت اللہ ہی کے لیے ہو، وہاں سے بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں۔

ایک چھوٹا قدم: آج جب کسی نیک ہستی، اپنے کسی استاد یا بزرگ سے محبت محسوس ہو، ایک لمحہ ٹھہر کر دل میں کہیے: “یا اللہ، میں اِن سے تیرے لیے محبت کرتا ہوں، اور یہ محبت مجھے تجھ تک پہنچائے۔” اِس ایک جملے سے آپ کی ہر محبت توحید کی طرف رُخ کر لے گی۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔