When I finally do turn back after months of running away, I feel too ashamed to even lift my hands to pray. Won’t Allah be angry that I only come when I’m desperate?جب مہینوں بھاگنے کے بعد میں آخرکار لوٹتا ہوں تو مجھے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ کیا اللہ ناراض نہیں ہوگا کہ میں صرف تب آتا ہوں جب میں بےبس ہو جاتا ہوں؟
The hands that will not lift, I know that heaviness. You are afraid that after months away, and coming only when you are desperate, what waits for you is anger. That fear is not coming from Allah. It is coming from a picture of Him that we build ourselves, and the picture is not true.
He has told us plainly that He meets a servant according to what that servant thinks of Him. If you come expecting rejection, you have put on Him a coldness that is not His. Listen:
“I am as My servant thinks of Me, and I am with him when he remembers Me.”
Hadith Qudsi, Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 7405 / Muslim 2675a) · meaning
So think well of Him. That good thought is itself the first step of the return. And as for coming “only when desperate,” understand this: He is not waiting for the servant with the clean record and the flawless motive. Night and day, His hand is already open, before you have even decided to turn.
“Allah stretches out His hand by night so that the one who sinned by day may repent, and stretches out His hand by day so that the one who sinned by night may repent.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2759a) · meaning
Notice who is doing the reaching. You are not knocking on a locked door; the door was already open. That your knees bend only when life presses hard is how the human heart is made, and He is the One who made it. The shame you feel is not a wall He built to keep you out. It is a sign that the heart is still alive to Him.
So let your hands rise, even shaking. He is not angry that you came late. He is glad you came at all.
One small step: Right now, wherever you are, lift both hands for ten seconds. Do not hunt for the perfect words. Let that small raising be your whole return.
ہاتھ اُٹھاتے ہوئے جو جھجک محسوس ہوتی ہے، وہ سمجھ میں آتی ہے۔ ڈر یہ ہے کہ مہینوں کے فاصلے کے بعد، اور وہ بھی صرف بےبسی کے وقت، سامنے جائیں گے تو ناراضی ملے گی۔ یہ ڈر اللہ کی طرف سے نہیں آ رہا۔ یہ اُس تصویر سے آ رہا ہے جو ہم خود اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں، اور وہ تصویر سچی نہیں۔
بات صاف ہے۔ بندہ اپنے رب کے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے، معاملہ اُس کے ساتھ ویسا ہی ہوتا ہے۔ مایوسی لے کر جائیں گے تو اُس پر وہ سختی تھوپ دیں گے جو اُس میں نہیں ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
”میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اُس کے ساتھ ہوتا ہوں۔“
حدیثِ قدسی، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۷۴۰۵ / مسلم ۲۶۷۵a) · مفہوم
سو گمان اچھا رکھیے۔ یہی اچھا گمان لوٹنے کی پہلی سیڑھی ہے۔ اور یہ جو خیال ہے کہ ”میں تو تنگی میں ہی آتا ہوں“، تو سنیے، وہ کسی صاف ستھرے ریکارڈ اور بےعیب نیت والے بندے کا انتظار نہیں کر رہا۔ رات ہو یا دن، آپ کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی اُس کا ہاتھ پھیلا ہوا ہوتا ہے:
”اللہ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے، اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۷۵۹a) · مفہوم
دیکھیے، ہاتھ کون بڑھا رہا ہے۔ آپ کسی بند دروازے پر دستک نہیں دے رہے، دروازہ پہلے سے کھلا ہے۔ گھٹنے تب ٹیکنا جب زندگی بھینچ لے، یہ انسان کی بنت ہے، اور یہ بنت اُسی کی ہے۔ ماں کو دیکھیے، بچہ ٹھوکر کھا کر روتے ہوئے ہی گود میں آئے تو بھی وہ سینے سے لگا لیتی ہے، یہ نہیں کہتی کہ کھیلتے وقت یاد نہ آئی تھی۔ اللہ کی رحمت ماں کی ممتا سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور جو شرم محسوس ہو رہی ہے، وہ کوئی دیوار نہیں جو اُس نے آپ کو روکنے کے لیے کھڑی کی ہو، وہ اِس کی نشانی ہے کہ دل ابھی اُس کی طرف زندہ ہے۔
سو ہاتھ اُٹھا لیجیے، کانپتے ہوئے ہی اُٹھا لیجیے۔ دیر سے آنے پر وہ ناراض نہیں ہے۔ اُسے یہ خوشی ہے کہ آپ آ گئے۔
ایک چھوٹا قدم: ابھی، جہاں بیٹھے ہیں، دس سیکنڈ کے لیے دونوں ہاتھ اُٹھا لیں۔ کوئی خوبصورت جملہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ بس اِتنا اُٹھا لینا ہی آپ کی پوری واپسی ہے۔
