After years of worship I feel I have earned a certain standing with Allah. Is it dangerous to feel I am owed anything for my deeds?برسوں کی عبادت کے بعد مجھے لگتا ہے کہ میں نے اللہ کے ہاں ایک مقام کما لیا ہے۔ کیا یہ محسوس کرنا خطرناک ہے کہ میرے اعمال کے بدلے مجھے کچھ ملنا چاہیے؟
That thought visits many people who have worshipped for a long time, and it arrives quietly. Years of prayer, fasting and remembrance leave the heart settled, and somewhere in that settling a notion takes root: all of this must have purchased something. It is worth looking at plainly, because what you find sets a person free rather than frightening him.
The Messenger of Allah, peace be upon him, said,
“No one’s deeds will admit him to Paradise.” They asked, “Not even you, O Messenger of Allah?” He said, “Not even I, unless Allah covers me with His grace and mercy.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 5673 / Muslim 2816a) · meaning
Consider what that means. If the most beloved of all creation entered by mercy and not by reckoning, then mercy is not a small clause at the end of our religion, it is the whole sky we walk under. Leaning on mercy is not thinking little of your deeds. It is putting them where they are safest, in the hands of the Most Generous, rather than on a ledger where the count would go against us.
And ask where the ability to worship came from. The taste for prayer, the wish to draw near, the strength to rise before dawn, each of these was His gift before it was ever your effort.
“And had it not been for the grace of Allah upon you and His mercy, not one of you would ever have been pure.”
Qur’an, An-Nur 24:21 · meaning
So the sense of being owed is mostly forgetfulness, the way a child forgets that the hand which set the food before him is the same hand that grew the wheat. Remember, and the weight lifts. You are no longer a creditor waiting to be paid, you are a guest at a table you did not lay, and the guest of the Generous is never sent away empty.
The masters of our path say the safest heart is the one that sees its worship as a favour received rather than a debt collected. Gratitude keeps the door of nearness open. Entitlement closes it quietly.
One small step: After your next prayer, before you rise, say quietly, “O Allah, this too was Your gift to me, and I thank You for it,” and let that one sentence settle the heart.
برسوں کی عبادت کے بعد یہ خیال بہت لوگوں کے دل میں آتا ہے، اور آتا بھی چپکے سے ہے۔ نمازیں، روزے، ذکر و اذکار، ایک عمر اِنہی میں گزر جائے تو دل ایک طرح کے اطمینان میں آ جاتا ہے، اور اِسی اطمینان کے کسی گوشے میں یہ گمان بیٹھ جاتا ہے کہ اِتنی محنت کے بدلے کچھ نہ کچھ ضرور بن گیا ہو گا۔ اِس بات کو کھلی آنکھ سے دیکھ لینا چاہیے، اِس لیے نہیں کہ دل ڈرے، بلکہ اِس لیے کہ دل آزاد ہو جائے۔
حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے
”تم میں سے کسی کو اُس کے اعمال جنت میں داخل نہ کریں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا، آپ کو بھی نہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا، ”مجھے بھی نہیں، سوائے یہ کہ اللہ مجھے اپنے فضل و رحمت سے ڈھانپ لے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۵۶۷۳ / مسلم ۲۸۱۶a) · مفہوم
ذرا اِس پر غور کیجیے۔ جب تمام مخلوق میں سب سے محبوب ہستی بھی حساب کے بل پر نہیں، رحمت کے سہارے داخل ہوں، تو رحمت اِس دین کا کوئی حاشیہ نہیں، وہ پورا آسمان ہے جس کے نیچے ہم چل رہے ہیں۔ رحمت پر تکیہ کرنا اپنے اعمال کو حقیر جاننا نہیں، بلکہ اُنہیں سب سے محفوظ جگہ رکھ دینا ہے، یعنی کریم مالک کے ہاتھ میں، اُس بہی کھاتے پر نہیں جہاں گنتی ہمارے خلاف ہی نکلے گی۔
پھر یہ بھی دیکھیے کہ عبادت کی طاقت آئی کہاں سے۔ نماز کا ذوق، قرب کی طلب، رات کے آخری پہر اٹھنے کا حوصلہ، یہ سب آپ کی کوشش سے پہلے اُس کی عطا تھے۔ اللہ تعالیٰ خود یاد دلاتا ہے
”اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہو سکتا۔“
قرآن، سورۃ النور ۲۴:۲۱ · مفہوم
تو یہ احساس کہ “میں نے کچھ کما لیا”، دراصل ایک بھول ہے، جیسے بچہ بھول جائے کہ جس ہاتھ نے اُس کے سامنے کھانا رکھا، گندم بھی اُسی ہاتھ نے اگائی تھی۔ یاد آ جائے تو بوجھ اُسی وقت اتر جاتا ہے۔ پھر بندہ قرض خواہ بن کر نہیں کھڑا ہوتا کہ میرا حساب چکایا جائے، بلکہ اُس دسترخوان کا مہمان بن کر بیٹھتا ہے جو اُس نے خود نہیں بچھایا، اور کریم کا مہمان کبھی خالی نہیں لوٹتا۔
نقشبندی مجدّدی مشائخ فرماتے ہیں کہ سالک کا اصل سرمایہ عجز ہے، یہ احساس کہ میرا اپنا کچھ نہیں، جو ہے سب مولا کا ہے۔ یہ عاجزی دل میں بیٹھ جائے تو ہر نیکی محبت کا نذرانہ بن جاتی ہے، سودے کی رسید نہیں۔ شکر قرب کا دروازہ کھلا رکھتا ہے، اور حق جتانا اُسے چپکے سے بند کر دیتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج کسی ایک نماز کے بعد اٹھنے سے پہلے صرف اِتنا کہہ لیجیے، “یا اللہ، یہ سجدہ بھی تیری توفیق تھی، اپنے کرم سے قبول فرما لے، میرے عمل کے بدلے نہیں”، اور دیکھیے دل کیسے ہلکا ہوتا ہے۔
