Questions of the Heartدل کے سوال
Tasawwuf & the Naqshbandi Pathتصوف اور نقشبندی راہ

People tell stories of the awliya and their karamat, saints and miracles, and part of me dismisses it all as superstition. Are the ‘friends of Allah’ a real thing in Islam, or just folklore?لوگ اولیاء اور اُن کی کرامات کے قصے سناتے ہیں، اور میرا ایک حصہ اِن سب کو توہّم پرستی سمجھ کر رد کر دیتا ہے۔ کیا ''اللہ کے دوست'' اسلام میں کوئی حقیقت رکھتے ہیں، یا یہ محض داستانیں ہیں؟

The caution you feel is sound, and it is not a flaw. Stories do grow taller with each telling, and wanting to keep superstition out of your faith is a good instinct. But do not throw away the thing itself along with what people have added to it. The awliya, the friends of Allah, are real. The Qur’an speaks of them plainly, and it also tells us what actually marks them out.

“Behold, the friends of Allah, no fear shall be upon them, nor shall they grieve. Those who believe and are ever mindful of Him.”

Qur’an, Yunus 10:62-63 · meaning

Notice the definition. Not flying through the air, not marvels that dazzle a crowd, but two things: faith and taqwa, a living belief and a heart kept mindful of Allah. That is the whole measure. A wali is not a magician. He is someone whose attention has turned so fully towards Allah that fear and grief lose their grip on him. With this measure in hand you can accept the reality and still set folklore aside.

As for what such a servant means to Allah, He says it Himself.

“Whoever shows enmity to a friend of Mine, I declare war upon him. My servant draws near to Me with nothing more beloved to Me than what I have made obligatory upon him, and he keeps drawing near to Me with voluntary acts until I love him.”

Hadith Qudsi, The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari (6502) · meaning

Look at the road this describes. Friendship with Allah begins with the fard, the prayer, the fasting, the honest discharge of duties, and then comes what is offered voluntarily, out of love. There is nothing mysterious in it. It is a plain ladder, climbed one rung at a time. Karamat, where Allah grants them, are a gift along the way. They are never the goal, and never the proof that someone is a friend of Allah.

So keep your discernment. Simply point it in the right direction. Judge a person by his faith, his taqwa and his nearness to Allah through what Allah loves, not by the stories told about him. That way you honour the awliya as the Qur’an honours them, and you give up nothing of your care.

One small step: Choose one voluntary act you find easy to love, two rak’ahs of nafl or a few minutes of dhikr, and offer it today with the single intention of coming a little nearer to Allah.

آپ کے دل میں جو احتیاط ہے، وہ بےجا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہاتھوں ہاتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں، اور اپنے ایمان کو توہمات سے بچانا کوئی عیب نہیں۔ البتہ لوگوں نے جو کچھ اِس میں بڑھا دیا ہے، اُس کے ساتھ اصل چیز بھی رد نہ کر دیجیے۔ اولیاء اللہ ایک حقیقت ہیں۔ قرآن نے خود اِن کا ذکر کیا ہے، اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ اِن کی اصل پہچان کیا ہے۔

”سن لو! بےشک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔“

قرآن، سورۃ یونس ۱۰:۶۲-۶۳ · مفہوم

دیکھیے، ولی کی تعریف میں کسی کرشمے کا ذکر نہیں، دو ہی باتیں بیان ہوئیں، ایمان اور تقویٰ۔ یعنی دل میں اللہ کا زندہ یقین، اور ہر وقت یہ خیال کہ رب دیکھ رہا ہے۔ کسوٹی یہی ہے۔ ولی کوئی شعبدہ باز نہیں ہوتا، وہ ایسا بندہ ہوتا ہے جس کا رخ اللہ کی طرف اِس قدر ہو چکا ہو کہ خوف اور غم اُس پر قابو نہ پا سکیں۔ یہ پیمانہ ہاتھ میں ہو تو حقیقت بھی مان لی جاتی ہے اور قصے کہانیوں سے دامن بھی بچا رہتا ہے۔

اور یہ بندے اللہ کے ہاں کس مقام پر ہیں، یہ خود اُسی نے بتا دیا ہے:

”جو میرے کسی دوست سے دشمنی رکھے، میں اُس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ اور میرا بندہ میرے ہاں سب سے زیادہ محبوب اُس عمل کے ذریعے میرا قرب پاتا ہے جو میں نے اُس پر فرض کیا ہے، اور پھر وہ نوافل کے ذریعے مجھ سے قریب ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۵۰۲) · مفہوم

غور کیجیے کہ راستہ کون سا بتایا گیا۔ پہلے فرائض، نماز، روزہ اور جو ذمہ داریاں سر پر ہیں اُنہیں ایمانداری سے پورا کرنا۔ اِس کے بعد وہ نوافل جو محبت سے ادا کیے جاتے ہیں۔ اِس میں کوئی اسرار نہیں، سیدھی سی سیڑھی ہے، جو ایک ایک قدم چڑھی جاتی ہے۔ کرامت اگر اللہ کسی کو دے دے تو وہ راستے میں ملنے والا انعام ہے، نہ مقصد، نہ ولایت کا ثبوت۔ سچا ولی کرامت مانگتا بھی نہیں، اُسے تو اپنے رب کی رضا سے غرض ہوتی ہے۔

تو احتیاط قائم رکھیے، صرف اُس کا رخ درست کر لیجیے۔ کسی کو اُس کے بارے میں مشہور قصوں سے نہ ناپیے، بلکہ اُس کے ایمان، تقویٰ اور اللہ کے قرب سے۔ ہمارے نقشبندی مجددی سلسلے کا سارا زور بھی اِسی پہلی بات پر ہے، ایمان، تقویٰ، اور دل کو رب کی محبت سے آباد کرنا۔ اِس راہ پر خلوص سے چلتے رہیے، پھر یہ باتیں آپ کے لیے سنی سنائی نہیں رہیں گی، آپ خود اپنے دل میں اللہ کی قربت کی حلاوت محسوس کریں گے۔

ایک چھوٹا قدم: آج فرض نماز کے بعد صرف دو رکعت نفل ادا کیجیے، اور نیت یہ رکھیے کہ ”یہ میں اپنے رب کے قریب ہونے کے لیے پڑھ رہا ہوں۔” یہی چھوٹا سا قرب وقت کے ساتھ اللہ کی دوستی کا دروازہ بنتا ہے۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔