Does Allah actually love someone who keeps messing up and coming back, or does He just tolerate us out of obligation?کیا اللہ واقعی اُس شخص سے محبت کرتا ہے جو بار بار غلطی کرتا اور لوٹ آتا ہے، یا وہ صرف مجبوراً ہمیں برداشت کر لیتا ہے؟
The picture you are carrying is of a weary master who puts up with you and sighs each time you come back. That picture is not Allah. It is the tiredness of our own hearts painted onto the sky. What He has told us about Himself is something else entirely.
He does not describe grudging patience toward the one who returns. He describes love, chosen and stated plainly:
“Indeed, Allah loves those who turn to Him in repentance.”
Qur’an, Al-Baqarah 2:222 · meaning
Notice that He does not say He loves those who never fall. He names the returners themselves. Coming back, again and again, is not something He merely puts up with; it is the very thing He loves. Your returning is not a nuisance to Him.
And in case we still imagine the welcome as cool and formal, the Prophet, peace be upon him, gave us an image. A traveller in the desert loses his camel, and with it his water and his provision, so he lies down to die. Then the camel is standing in front of him.
“Allah is more joyful at the repentance of His servant than one of you who loses his camel in a desolate land and then finds it again.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 6309 / Muslim 2747a) · meaning
That shout a rescued man cannot hold back is closer to how your Lord receives you than any sense of duty. Much of what we become is shaped by whether we believed someone was glad of us, and here is the One who made you, glad at your return. So come back as often as you slip. Each homecoming is met with joy, not a frown.
One small step: Tonight, before sleep, say once, “Ya Allah, here I am, turning back to You,” and let yourself believe He is glad to hear it.
آپ کے سوال میں جو تصویر بنی ہوئی ہے وہ ایک تھکے ہوئے آقا کی ہے، جو ہر بار آپ کو دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھرتا ہے اور بادلِ نخواستہ برداشت کر لیتا ہے۔ یہ تصویر اللہ کی نہیں، یہ ہمارے اپنے تھکے ہوئے دلوں کا عکس ہے جو ہم آسمان پر ڈال دیتے ہیں۔ اللہ نے اپنے بارے میں جو بتایا ہے، وہ اِس سے بالکل مختلف ہے۔
لوٹ آنے والوں کے لیے قرآن میں کوئی سرد سی رضامندی نہیں، صاف لفظوں میں محبت کا اعلان ہے:
”بے شک اللہ بار بار توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے اور پاک رہنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔“
قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۲۲۲ · مفہوم
غور کریں، یہ نہیں فرمایا کہ مجھے وہ محبوب ہے جو کبھی نہ گرے۔ لفظ ”توّابین“ آیا ہے، یعنی وہ لوگ جو ایک بار نہیں، بار بار پلٹتے ہیں۔ تو بار بار لوٹنا وہ چیز نہیں جسے اللہ بس جھیل لیتا ہے، یہی وہ چیز ہے جو اُسے پسند ہے۔ آپ کا پلٹنا اُس پر بوجھ نہیں۔
اور کہیں ہم اِس قبولیت کو رسمی اور ٹھنڈی نہ سمجھ بیٹھیں، اِس لیے نبی کریم ﷺ نے ایک منظر سامنے رکھ دیا۔ ایک مسافر بیابان میں ہے، اُس کی سواری گم ہو جاتی ہے اور اُس کے ساتھ کھانا پانی بھی۔ وہ ہار کر لیٹ جاتا ہے کہ اب بچنا نہیں۔ پھر اچانک وہی سواری سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔
”اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اُس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری بیابان میں گم ہو گئی ہو اور پھر اچانک اُسے مل جائے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۳۰۹ / مسلم ۲۷۴۷a) · مفہوم
سوچیے، اُس مسافر کے منہ سے بےساختہ جو آواز نکلی ہوگی، اُس میں فرض نبھانے کا کوئی رنگ نہیں، خالص خوشی ہے۔ برداشت میں تو ایک ٹھنڈا سا احسان ہوتا ہے، یہاں خوشی ہے۔ جو مالک آپ کے ایک قدم پلٹنے پر اِتنا خوش ہوتا ہو، وہ آپ کو مجبوراً کیسے سہے گا۔ سو جتنی بار قدم پھسلے، اُتنی بار لوٹ آئیے۔ ہر بار استقبال خوشی سے ہوگا، تیوری چڑھا کر نہیں۔
ایک چھوٹا قدم: آج اگلی نماز کے لیے کھڑے ہوں تو یہ سوچ کر کھڑے ہوں کہ آپ اُس کے سامنے جا رہے ہیں جو آپ کے آنے پر خوش ہے، اور نیّت باندھتے وقت دل میں ایک بار کہہ لیجیے، ”یا اللہ، میں لوٹ آیا ہوں۔“
