My relative was unkind to me for years, so I quietly cut them off. Am I within my rights, or does cutting the tie of kinship carry a weight I have not realised?میرے ایک رشتہ دار نے برسوں مجھ سے بدسلوکی کی، اس لیے میں نے خاموشی سے تعلق توڑ لیا۔ کیا میں اپنے حق میں ہوں، یا رشتہ توڑنے کا کوئی ایسا بوجھ ہے جسے میں نے سمجھا نہیں؟
Years of unkindness from your own blood is a heavy thing to carry, and you did not sit down one morning and choose coldness. You withdrew slowly, the way a hand pulls back from a flame, simply to stop the pain. No one should blame you for wanting shelter. But you are asking whether there is a weight here you have not seen, so let me set out plainly what our tradition holds.
The tie of kinship, is no small thread in the eyes of Allah. The Prophet, peace be upon him, spoke of it with striking seriousness:
“The one who severs the ties of kinship will not enter Paradise.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 5984 / Muslim 2556a) · meaning
That is said not to condemn you but to show how precious this bond is to your Lord, and how much He wishes it kept. And He gave kinship a station almost beyond imagining:
“The womb (kinship) is suspended from the Throne, saying: whoever keeps me, Allah keeps him, and whoever cuts me off, Allah cuts him off.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2555) · meaning
Look at the exchange in it. To keep even a thin, one-sided thread to your relative is to have Allah Himself keep you close, within His own care. You are not being asked to pretend the years of coldness never happened, nor to stand again where you can be wounded. You are being asked to keep the thread unbroken in whatever small way you safely can, so that the Throne keeps its thread to you.
The Qur’an, too, warns against letting hearts harden into division:
“Would you then, if you were given authority, spread corruption in the land and cut off your ties of kinship?”
Qur’an, Muhammad 47:22 · meaning
Notice that Allah pairs the cutting of kinship with the loss of a merciful heart, as though the two grow from one root. To keep the tie, even faintly, is to keep your own heart soft. And there is a plain truth the world itself has come to notice: those who withdraw from family often feel relief at first, yet a long ache tends to remain, and it is most often eased not by more distance but by one small, one-sided kindness that asks nothing in return.
So no, I would not call this merely your right, to be spent as you wish. I would call it a door Allah has left open for you, with immense reward waiting just behind it. Keep the tie alive with the lightest touch, and leave the heavy work of healing to Him.
One small step: This week, send that relative one short, kind message on a blessed day, a simple greeting with no mention of the past and no demand for a reply, just so the thread from your side remains unbroken.
برسوں کی بدسلوکی، اور وہ بھی اپنے ہی کسی عزیز کی طرف سے، سہنا آسان نہیں۔ آپ نے کسی ایک دن بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ تعلق توڑ دینا ہے۔ جیسے ہاتھ آگ سے خود بخود پیچھے ہٹ جاتا ہے، ایسے ہی آپ آہستہ آہستہ الگ ہوتے گئے تاکہ تکلیف کم ہو۔ دل کا تھک جانا فطری بات ہے۔ لیکن آپ خود پوچھ رہے ہیں کہ کہیں کوئی ایسا بوجھ بھی ہے جو اب تک نظر نہیں آیا، تو آئیے دیکھ لیں کہ دین اِس نازک معاملے میں کیا راستہ دکھاتا ہے۔
رشتہ داری اللہ کے ہاں کوئی معمولی چیز نہیں۔ حضور ﷺ نے رشتہ کاٹنے کے بارے میں جو بات ارشاد فرمائی، وہ ہم پر سختی کے لیے نہیں، ایک بڑے نقصان سے بچانے کے لیے ہے:
”رشتہ کاٹنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۵۹۸۴ / مسلم ۲۵۵۶a) · مفہوم
یہ الفاظ آپ کو مجرم ٹھہرانے کے لیے نہیں، بلکہ یہ بتانے کے لیے ہیں کہ یہ تعلق آپ کے رب کے نزدیک کس قدر قیمتی ہے اور وہ اِسے کس قدر جڑا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ اور رشتہ داری کا مقام تو اللہ نے یہاں تک بیان فرمایا:
”رشتہ داری (رحم) عرش کے ساتھ معلق ہے، وہ کہتی ہے، جس نے مجھے جوڑا اللہ اُسے جوڑے گا، اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اُسے کاٹ دے گا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۵۵) · مفہوم
یعنی رشتے کی طرف بڑھایا ہوا ایک قدم بھی گویا اُس ڈور کو تھامنا ہے جو سیدھی عرش سے بندھی ہوئی ہے۔ اب ایک باریک بات سمجھ لیجیے، جس سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔ رشتہ جوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود کو دوبارہ اُسی تکلیف کے سامنے لا کھڑا کریں، یا بدسلوکی چپ چاپ سہتے رہیں۔ ہمارے علماء نے، اور نقشبندی مجددی سلوک نے بھی، ہمیشہ یہ فرق سکھایا ہے کہ تعلق کاٹ دینا ایک چیز ہے اور اپنی حفاظت کے لیے مناسب فاصلہ رکھنا دوسری چیز۔ رشتہ جوڑنا یہ ہے کہ دل میں اُس کے لیے بغض نہ ہو، کبھی کبھار خیریت پوچھ لی جائے، مشکل وقت میں مدد سے ہاتھ نہ روکا جائے، اور اُس کی ہدایت کی دعا ہوتی رہے۔ یہ سب فاصلے سے، اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے بھی ہو سکتا ہے۔ دین کو ناپسند دل کا مکمل کٹ جانا اور بغض پال لینا ہے، زخم سے بچنے کی احتیاط نہیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے رشتے کاٹنے کا ذکر زمین میں فساد کے ساتھ ملا کر فرمایا، تاکہ معلوم ہو جائے کہ اِس میں نقصان صرف دو افراد کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے:
”تو کیا تم سے یہ بعید ہے کہ اگر تمہیں اختیار ملے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے ناطے کاٹ ڈالو؟“
قرآن، سورۃ محمد ۴۷:۲۲ · مفہوم
تو اپنی حفاظت کا حق آپ سے کوئی نہیں چھینتا۔ جو بوجھ اب تک نظر سے اوجھل تھا، وہ صرف اِتنا ہے کہ دل کا دروازہ بالکل بند اور بغض سے بھرا نہ رہے۔ کنڈی لگا لیجیے، تالا نہ ڈالیے۔ اِتنا سا فرق آپ کو اُس دھاگے سے جڑا رہنے دے گا جو عرش سے بندھا ہوا ہے، اور جوڑنے کا اصل کام اللہ خود کر دے گا۔
ایک چھوٹا قدم: ابھی ملنے یا بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ آج ایک بار، دل میں یا سجدے میں، اُس رشتہ دار کے لیے صرف یہ دعا کر دیجیے، ”اے اللہ، اِسے ہدایت اور بھلائی عطا فرما۔“ یہ ایک دعا دل کے دروازے سے تالا اتار دے گی، اور آپ کو کسی تکلیف کے سامنے کھڑا بھی نہیں کرے گی۔
