When I do something good but it feels good to be seen doing it, is my whole deed ruined?جب میں کوئی نیکی کرتا ہوں اور لوگوں کے دیکھنے سے دل کو اچھا لگتا ہے، تو کیا میری ساری نیکی برباد ہو جاتی ہے؟
The short answer is no. A good deed is not undone because a pleasant feeling passed through you while you were doing it.
Everything here turns on what the heart intended when the hand began to move. The Prophet gave us the principle on which the whole of religion rests.
“Actions are but by intentions, and every person shall have only that which he intended.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari (1) · meaning
Notice that he did not say a deed is judged by who happened to be watching. It is judged by the intention you set out with. If you stood to pray, or gave charity, or helped someone because Allah was your aim, then the root is sound, even if a warm feeling of being seen brushes over the heart afterwards. A breeze that passes over a tree does not uproot it. What is asked of us is simple.
“And they were commanded only to worship Allah, being sincere to Him in devotion.”
Qur’an, Al-Bayyinah 98:5 · meaning
The deed that is genuinely ruined is a different thing altogether. The warning the Prophet gave concerns the deed built from its very foundation for the eyes of people, with no thought of Allah in it at all.
“…and a man who acquired knowledge and taught it and recited the Qur’an. He will say: I acquired knowledge and taught it, and I recited the Qur’an for Your sake. Allah will say: You have lied. You acquired knowledge so that it would be said, ‘He is a scholar’, and you recited the Qur’an so that it would be said, ‘He is a reciter’. And so it was said. Then it will be ordered concerning him, and he will be dragged upon his face until he is cast into the Fire. …”
The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (1905a) · meaning
Look at the difference. That was a heart whose aim, from the first breath to the last, was the applause of people. Your case is not that. You served your Lord, and only afterwards did you notice yourself. One more thing is worth knowing. Those who study the human mind describe what they call the spotlight effect, the way we imagine people are watching us far more closely than they actually are. Much of what we anxiously name showing off is only our own self-consciousness, a private matter between us and our own reflection, not the sin we fear it is. So do not let a passing thought grow into a storm. Turn the heart back, and carry on.
One small step: Before your next good deed, however small, pause for one breath and say silently in your heart, “O Allah, this is for You,” then let the deed unfold without watching yourself do it.
مختصر جواب یہ ہے کہ نہیں۔ نیکی کرتے ہوئے دل میں ذرا سی خوشی آ جانا اُس نیکی کو مٹا نہیں دیتا۔ یہ انسان کی فطری کمزوری ہے، کوئی جرم نہیں، اور ایک گزرتے ہوئے خیال سے نیکیوں کا خزانہ لُٹ نہیں جاتا۔
اصل بات یہ ہے کہ ہاتھ بڑھانے سے پہلے دل میں کیا تھا۔ دین کی ساری عمارت اسی ایک بنیاد پر کھڑی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اصول ان لفظوں میں بیان فرمایا:
”اعمال کا دار و مدار تو نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحیح بخاری (1) · مفہوم
غور کیجیے، یہ نہیں فرمایا کہ عمل کا فیصلہ اس پر ہوگا کہ اُس وقت کون دیکھ رہا تھا۔ فیصلہ اُس ارادے پر ہے جس کے ساتھ آپ اٹھے تھے۔ نماز کے لیے، صدقے کے لیے، یا کسی کی مدد کے لیے اٹھنا اگر اللہ کی رضا کے لیے تھا، تو بنیاد درست ہے، چاہے بیچ میں لوگوں کی نظر پڑنے سے دل کو ذرا اچھا لگ گیا ہو۔ ہوا کا ایک جھونکا درخت کو جڑ سے نہیں اکھاڑتا۔ ہم سے مانگا بھی یہی گیا ہے کہ دل اسی کے لیے خالص رہے:
”اور انہیں تو بس یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔“
قرآن، سورۃ البینہ ۹۸:۵ · مفہوم
ہاں، جو عمل واقعی ضائع ہو جاتا ہے وہ بالکل الگ چیز ہے۔ تنبیہ اُس عمل پر ہے جس کی بنیاد ہی سرے سے لوگوں کو دکھانے پر رکھی گئی ہو، اور جس میں اللہ کا خیال کہیں نہ ہو:
”…اور وہ شخص جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قرآن پڑھا۔ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لیے قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تُو نے جھوٹ کہا۔ تُو نے علم اس لیے سیکھا تاکہ کہا جائے کہ یہ عالم ہے، اور قرآن اس لیے پڑھا تاکہ کہا جائے کہ یہ قاری ہے، سو کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ …“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحیح مسلم (۱۹۰۵a) · مفہوم
فرق دیکھیے، کتنا کھلا ہوا ہے۔ وہ دل تھا جس کا مقصود پہلے سانس سے آخری سانس تک لوگوں کی واہ واہ تھی۔ آپ کا معاملہ یہ نہیں۔ آپ نے کام اپنے رب کے لیے کیا، اور بعد میں دھیان اپنی طرف چلا گیا۔ ایک بات اور جان لیجیے۔ انسانی نفسیات کے جاننے والے بتاتے ہیں کہ آدمی عام طور پر یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ لوگوں کی نظریں اُس پر جمی ہوئی ہیں، حالانکہ لوگ اتنا دھیان دیتے ہی نہیں۔ چنانچہ جسے ہم گھبرا کر دکھاوا کہہ دیتے ہیں، وہ اکثر ہماری اپنی خود آگاہی ہوتی ہے، اپنے اور اپنے عکس کے درمیان کی ایک نجی بات، نہ کہ وہ بڑا گناہ جس کا ڈر ہمیں بیٹھا رہتا ہے۔ وسوسے کو اتنا نہ بڑھنے دیجیے کہ ہلکا سا جھونکا طوفان دکھائی دینے لگے۔ دل کو نرمی سے پھیر لیجیے اور اپنا کام جاری رکھیے۔
ایک چھوٹا قدم: آج ایک نیکی ایسی چن لیجیے، چند روپے کا صدقہ ہو یا دو نفل، جو آپ بالکل چھپا کر کریں گے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو، صرف آپ اور آپ کا رب۔
