I pray, but I secretly worry my salah is not accepted because of my other faults and sins. How can I stand before Allah when I feel so unworthy of Him?میں نماز پڑھتا ہوں، مگر دل ہی دل میں ڈرتا ہوں کہ میری دیگر کوتاہیوں اور گناہوں کی وجہ سے میری نماز قبول نہیں ہوتی۔ جب میں خود کو اس کے اتنا ناقابل محسوس کرتا ہوں تو اس کے سامنے کیسے کھڑا ہوں؟
That worry is not evidence against your salah. The man who never wonders whether his prayer is accepted is not the one asking this question; you are asking because you care, and that is a heart still awake. So let us look at what Allah Himself says to the one who feels he has fallen short.
Notice who He is addressing. Not the flawless.
“Say: O My servants who have wronged their own souls, do not despair of the mercy of Allah. Indeed, Allah forgives all sins. Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful.”
Qur’an, Az-Zumar 39:53 · meaning
He still calls you “My servant” even while naming the wrong, and He forbids one thing only: despair. Notice also on what basis the prayer was given to you. Not your worthiness, but His remembrance.
“Indeed, I am Allah. There is no god but Me, so worship Me and establish the prayer for My remembrance.”
Qur’an, Ta-Ha 20:14 · meaning
So the prayer mat is not a stage where only the perfect may stand. It is a washing place. The door opened because you knocked, not because your hands were already clean. And the Prophet, peace be upon him, told us that these same daily prayers keep clearing away the dust that gathers between them.
“The five daily prayers, Friday to Friday, and Ramadan to Ramadan, are an expiation for whatever is between them, so long as the major sins are avoided.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (233a) · meaning
So do not measure your standing by how worthy you feel. Feeling unworthy is not a verdict against you; it is what a soft heart feels. Come as you are. The One who invited you knew your state when the invitation was sent.
One small step: Before your next salah, pause for one breath and say quietly in your heart, “I have come because You called me,” and then begin, trusting the invitation more than your own worthiness.
جو خدشہ آپ کے دل میں ہے، وہ آپ کی نماز کے رد ہو جانے کی دلیل نہیں۔ جسے اپنی عبادت کی فکر ہی نہ ہو، وہ یہ سوال کرتا ہی نہیں۔ آپ پوچھ رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے دل جاگ رہا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ خود اُس بندے سے کیا فرماتا ہے جو اپنے آپ کو کوتاہیوں میں گھرا پاتا ہے۔
غور کیجیے کہ خطاب کن سے ہے۔ بے عیب لوگوں سے نہیں:
”کہہ دیجیے، اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
قرآنِ کریم، سورۃ الزمر ۳۹:۵۳ · مفہوم
زیادتی کا ذکر بھی ساتھ ہو رہا ہے اور پکار پھر بھی ”میرے بندو“ کی ہے۔ روکا صرف ایک بات سے گیا ہے، مایوسی سے۔ اور یہ بھی دیکھیے کہ نماز آپ کو کس بنیاد پر دی گئی۔ آپ کی لیاقت کی بنیاد پر نہیں، اپنے ذکر کی بنیاد پر:
”بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔“
قرآنِ کریم، سورۃ طٰہٰ ۲۰:۱۴ · مفہوم
یعنی جائے نماز کوئی ایسا مقام نہیں جہاں صرف کامل لوگ کھڑے ہو سکیں، یہ تو دھونے کی جگہ ہے۔ دروازہ اس لیے کھلا کہ آپ نے دستک دی، اس لیے نہیں کہ آپ کے ہاتھ پہلے سے صاف تھے۔ اور نبی کریم ﷺ نے تو یہ خبر دی ہے کہ یہی پانچ نمازیں درمیان کی گرد دھوتی چلی جاتی ہیں:
”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک، اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک، اُن کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۳۳a) · مفہوم
سو اپنی حیثیت کا اندازہ اِس سے نہ لگائیے کہ آپ اپنے آپ کو کتنا لائق سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو نااہل محسوس کرنا آپ کے خلاف فیصلہ نہیں، نرم دل کی علامت ہے۔ جیسے ہیں، ویسے ہی چلے آئیے۔ جس نے بلایا ہے، وہ بلانے سے پہلے آپ کا حال جانتا تھا۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی نماز میں ”اللہ اکبر“ کہنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر دل میں کہہ لیجیے، ”میں اپنی لیاقت کے بھروسے نہیں، تیرے بلانے پر حاضر ہوا ہوں۔“ پھر نماز شروع کر دیجیے۔
