Questions of the Heartدل کے سوال
Mercy & Relationshipsرحمت اور رشتے

I struggle to forgive myself for the harm I have caused others in the past. If Allah is so merciful, why do I still carry this heavy guilt?میں ماضی میں دوسروں کو پہنچائے گئے نقصان پر خود کو معاف نہیں کر پاتا۔ اگر اللہ اتنا رحیم ہے تو میں یہ بھاری بوجھِ ندامت اب تک کیوں اٹھائے پھرتا ہوں؟

The weight you are carrying is real, and I understand why you carry it. Somewhere inside, you feel that if you stop punishing yourself you are treating the harm lightly. But guilt was meant to be a doorway, not a dwelling. It knocked so that you would turn back and mend what could be mended. You heard the knock and you turned. Sitting on that doorstep now repairs nothing, not for them and not for you.

Hear how your Lord speaks to the very ones who believe they have gone too far:

“O My servants who have transgressed against themselves, do not despair of the mercy of Allah; indeed Allah forgives all sins.”

Qur’an, Az-Zumar 39:53 · meaning

Notice that the fault did not break the relationship. He still says “My servant”. And He does not say some sins; He says all. If He is willing to release you, then keeping yourself in a prison He has already unlocked is not humility. It is an old habit of the heart that has not yet been told it is free.

And the mercy itself is of this nature:

“Allah is more merciful to His servant than a mother is to her child.”

The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2754) · meaning

A mother does not wait for her stumbling child to become perfect before she opens her arms. She reaches for him in the falling. Those who sit with wounded hearts see the same thing: a person is not freed by endless self-punishment. He is freed by making honest amends where amends are still possible, and then finding the courage to accept mercy. So where you can still repair something with the people you hurt, repair it gently. Where that door is closed, pray for them. After that, the sorrow has finished its work and should step aside.

“My mercy encompasses all things.”

Qur’an, Al-A’raf 7:156 · meaning

All things. There is no corner of your past that this mercy has not already reached. You are not asking Allah to make an exception for you. You are only being asked to trust a mercy that was there long before your guilt was.

One small step: Tonight, place your hand over your heart and say once, slowly, “O Allah, I accept Your mercy over my past,” and let that be enough for today.

جو بوجھ آپ اٹھائے پھر رہے ہیں، وہ ہلکا نہیں، اور یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ آپ اسے کیوں اٹھائے ہوئے ہیں۔ دل کہیں یہ سمجھتا ہے کہ اگر خود کو کوسنا چھوڑ دیا تو گویا اُس نقصان کو معمولی جان لیا جو ہمارے ہاتھوں کسی کو پہنچا۔ مگر ندامت دروازہ ہوتی ہے، ٹھکانا نہیں۔ اس نے دستک اس لیے دی تھی کہ آدمی پلٹ آئے اور جو ٹوٹا ہے اسے جوڑنے کی کوشش کرے۔ دستک آپ نے سن لی اور پلٹ بھی آئے۔ اب اُسی دروازے پر بیٹھے رہنے سے نہ کسی کا نقصان پورا ہوتا ہے، نہ آپ کا۔

سنیے، اللہ اُن لوگوں سے کس طرح بات کرتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ بات اب حد سے گزر چکی ہے۔

”کہہ دیجیے، اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے کے سارے گناہ بخش دیتا ہے۔“

قرآن، سورۃ الزمر ۳۹:۵۳ · مفہوم

غور کیجیے، خطا کے بعد بھی نسبت نہیں توڑی، پھر بھی فرمایا ”میرے بندو“۔ اور یہ نہیں کہا کہ چھوٹے گناہ بخشتا ہوں، فرمایا سارے کے سارے۔ جب وہ چھوڑ دینے پر تیار ہے تو اُس قید میں بیٹھے رہنا، جس کا تالا وہ خود کھول چکا ہے، عاجزی نہیں۔ یہ دل کی پرانی عادت ہے جسے ابھی خبر نہیں ہوئی کہ رہائی مل گئی ہے۔

اور اُس رحمت کا حال یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔

”اللہ اپنے بندے پر اس ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی یہ ماں اپنے بچے پر مہربان ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۷۵۴) · مفہوم

ماں اپنے بچے کے سنبھلنے کا انتظار نہیں کرتی کہ پہلے ٹھیک ہو جائے، پھر گلے لگاؤں گی۔ وہ گرتے ہوئے ہی کو تھام لیتی ہے۔ جو لوگ ٹوٹے دلوں کے پاس بیٹھتے ہیں، وہ بھی یہی دیکھتے ہیں کہ آدمی خود کو سزا دیتے رہنے سے آزاد نہیں ہوتا۔ آزادی اُس وقت ملتی ہے جب جہاں تلافی ہو سکتی ہے وہ کر لی جائے، اور پھر رحمت کو قبول کرنے کا حوصلہ کیا جائے۔ سو جن لوگوں کو تکلیف پہنچی، اُن میں سے جن کی دلجوئی اب بھی ممکن ہے، نرمی سے کر لیجیے۔ جہاں یہ دروازہ بند ہو چکا، اُن کے لیے دعا کر دیجیے۔ اس کے بعد ندامت کا کام پورا ہو جاتا ہے، اب اسے راستے سے ہٹ جانا چاہیے۔

”اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔“

قرآن، سورۃ الاعراف ۷:۱۵۶ · مفہوم

ہر چیز کو۔ آپ کے ماضی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں یہ رحمت پہلے سے نہ پہنچی ہو۔ آپ اللہ سے اپنے لیے کوئی رعایت نہیں مانگ رہے۔ آپ سے صرف اتنا کہا جا رہا ہے کہ اُس رحمت پر بھروسا کیجیے جو آپ کی ندامت سے پہلے ہی موجود تھی۔ جو نرمی وہ آپ کے ساتھ کر چکا، وہی نرمی اپنے ساتھ بھی کیجیے۔

ایک چھوٹا قدم: آج رات سونے سے پہلے، تنہائی میں دونوں ہاتھ اٹھا کر صرف اتنا کہیے، ”اے اللہ، تو نے مجھے معاف فرما دیا، تو اب میں بھی خود کو معاف کرتا ہوں۔“ اور جس کو کبھی تکلیف پہنچی ہو، اس کے لیے ایک جملے کی دعا کر دیجیے۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔