How can my intention be pure when honestly my heart wants Paradise and fears the Fire? Isn’t that still working for a reward?میری نیت خالص کیسے ہو سکتی ہے جب سچ یہ ہے کہ میرا دل جنت چاہتا ہے اور جہنم سے ڈرتا ہے؟ کیا یہ بھی کسی انعام کے لیے کام کرنا نہیں؟
Set that worry down. Hope of the Garden and fear of the Fire do not stain your worship. Those two were placed in the hearts of Allah’s nearest servants, and He praised them for it.
Of His chosen ones, the prophets, He says:
“And they used to call upon Us in hope and fear.”
Qur’an, Al-Anbiya 21:90 · meaning
And of those whose sides forsake their beds at night to call upon their Lord:
“They call upon their Lord in fear and hope.”
Qur’an, As-Sajdah 32:16 · meaning
So this is not a lower path. Hope and fear are not wages you demand from Allah; they are the two hands with which you reach toward Him. A small child runs to a parent partly for the sweetness of the embrace and partly because of the dark room behind him, but either way he is running toward one face. He is not a mercenary. He is in love.
Look also at what hope and fear actually are underneath. Hope of Paradise is longing for His nearness and His pleasure. Fear of the Fire is dread of being turned away from His door. Both of them are about Him. As the heart matures, these two carry you higher, until you scarcely notice you are flying, so taken up will you be with the One you fly toward.
Those who study the heart in our own time have noticed one part of this: devotion carried mainly by fear and self-pressure tends to sit heavy on a person, while a heart that holds its Lord to be good carries the same worship more lightly. The pairing of hope with awe is no discovery of theirs, though. The Qur’an placed the two together long before.
One small step: Tonight, in a single supplication, ask Allah once for His Paradise and seek refuge once from His Fire, then add three words after them, “and I want only You.”
جنت کی آرزو اور جہنم کا خوف نیت پر کوئی داغ نہیں لگاتے۔ یہ دونوں کیفیتیں اللہ کے مقرب بندوں کے دلوں میں رہی ہیں، اور قرآن نے انہی کے حوالے سے ان کی تعریف کی ہے۔
انبیائے کرام کا ذکر انہی الفاظ میں ہوا:
”اور وہ ہمیں امید اور خوف کے ساتھ پکارا کرتے تھے، اور وہ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔“
قرآن، سورۃ الانبیاء ۲۱:۹۰ · مفہوم
جن ہستیوں کا مقام ہم سے بہت بلند ہے، اُن کے بارے میں بھی رب نے یہی امید اور خوف اُن کی خوبی کے طور پر بیان فرمایا۔ تو جو کیفیت آپ کے دل میں ہے، وہ پریشان ہونے کی بات نہیں۔
اور جو بندے رات کو بستر چھوڑ کر اپنے رب کو پکارتے ہیں، اُن کے بارے میں فرمایا:
”اُن کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں۔“
قرآن، سورۃ السجدہ ۳۲:۱۶ · مفہوم
اصل بات یہ ہے کہ خوف اور امید کوئی سودا نہیں کہ اِتنی عبادت دی اور بدلے میں جنت خرید لی۔ یہ تو محبت ہی کے دو بازو ہیں۔ چھوٹا بچہ اپنے باپ کی گود میں جانے کا شوق بھی رکھتا ہے اور اُس کی ناراضی سے ڈرتا بھی ہے، مگر دونوں صورتوں میں رخ ایک ہی چہرے کی طرف ہوتا ہے۔ یہ شوق اور یہ ڈر، دونوں اُسی ایک محبت سے پھوٹتے ہیں۔
ذرا اِن دونوں کے نیچے جھانک کر دیکھیے۔ جنت کی آرزو دراصل اللہ کے قرب اور اُس کی رضا کی آرزو ہے، اور جہنم کا خوف دراصل اُس کے دروازے سے دھتکارے جانے کا خوف ہے۔ دونوں کا رخ اُسی ایک ذات کی طرف ہے۔ دل جیسے جیسے پکتا جاتا ہے، یہی دو بازو اُسے اوپر لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اُڑنے کا احساس بھی باقی نہیں رہتا، سامنے صرف وہی رہ جاتا ہے جس کی طرف اُڑان ہے۔
سو آپ کی نیت میں خرابی نہیں۔ بس اپنی امید اور اپنے خوف کے پیچھے چھپی اُس محبت کو پہچانتے جائیے، کیفیت خود نکھرتی چلی جائے گی۔
ایک چھوٹا قدم: آج رات دعا میں ایک بار جنت مانگیں اور ایک بار جہنم سے پناہ، اور اُس کے بعد اِتنا کہہ دیں، “اور مجھے تو صرف تُو چاہیے۔”
