When I do a good deed and expect nothing back, but the person doesn’t even acknowledge it, why does the resentment I feel make me doubt my own sincerity?جب میں کوئی نیکی کرتا ہوں اور بدلے میں کچھ نہیں چاہتا، لیکن سامنے والا اسے مانتا تک نہیں، تو مجھے جو ناراضی محسوس ہوتی ہے وہ میری اپنی نیت پر شک کیوں پیدا کر دیتی ہے؟
You gave something and wanted nothing back, and when no word of thanks came a small ache rose, and now you are asking whether that ache proves your intention was never clean. It does not. The ache is the self asking for its due, and the fact that it troubles you is your heart refusing to let the self have its way.
The wish to be acknowledged is not wickedness. It is ordinary, and all of us carry some of it. The work is not to hate the feeling but to move our gaze past it, to the One whose seeing never fails. Allah tells us of the righteous who fed the hungry and said in their hearts,
“We feed you only for the Face of Allah. We wish no reward from you, nor thanks.”
Qur’an, Al-Insan 76:9 · meaning
They did not stand waiting at the door for gratitude, because they had already been paid by the One who saw them in private. When a deed is done for His Face, another person’s silence cannot take anything out of it, for the reward was never in their hands. Resentment is simply the sound of a heart that, for a moment, sent its bill to the wrong address.
And Allah has told us plainly where the real danger to a good deed lies. Not in the receiver’s forgetting, but in our own remembering and reminding. He says,
“Do not nullify your charity with reminders of your generosity or with injury.”
Qur’an, Al-Baqarah 2:264 · meaning
So the deed is not undone the moment you feel a pang. It is harmed when the pang leaks out onto the person, as a reminder of what you did for them, a wounding word, or a grudge held quietly over their head. Keep it inside as a lesson and it costs you nothing. Let it pass like weather.
Think of a mother awake all night for a child who will never remember it. His forgetting takes nothing from her, because her love was never a trade. Give in that direction, and resentment finds no ground to stand on.
One small step: Before your next quiet kindness, say silently, “This is for the Face of Allah, and I have already been thanked.” Then no human silence can collect a debt you never lent.
آپ نے نیکی کی، بدلے میں کچھ نہ چاہا، اور جب سامنے والے نے شکریہ تک نہ کہا تو دل میں ایک ہلکی سی خلش اٹھی۔ اب آپ اُسی خلش کو دیکھ کر سوچ رہے ہیں کہ شاید نیت ہی صاف نہ تھی۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ خلش نفس کا اپنا حق مانگنا ہے، اور آپ کا اِس پر بے چین ہونا اِسی بات کی علامت ہے کہ دل نفس کی یہ بات ماننے پر تیار نہیں۔
شکریے کی خواہش بجائے خود کوئی گناہ نہیں۔ یہ نفس کی پرانی عادت ہے، اور کسی نہ کسی درجے میں ہم سب کے اندر موجود ہے۔ کام اِس عادت سے نفرت کرنا نہیں، بلکہ نظر اِس سے آگے اُس ذات کی طرف اٹھانا ہے جس کا دیکھنا کبھی نہیں چوکتا۔ اللہ نے اپنے نیک بندوں کا ذکر فرمایا کہ اُنہوں نے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلایا اور دل ہی دل میں کہا
”ہم تو صرف اللہ کی رضا کے لیے تمہیں کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔“
قرآن، سورۃ الانسان ۷۶:۹ · مفہوم
اُنہوں نے دروازے پر کھڑے ہو کر شکریے کا انتظار نہیں کیا، کیونکہ اجر تو اُنہیں اُسی وقت مل چکا تھا جس نے تنہائی میں دیکھا تھا۔ نیکی کا رخ جب صرف اللہ کی طرف ہو تو بندوں کی خاموشی اُس میں سے کچھ کم نہیں کر سکتی، کہ اجر پہلے بھی اُن کے ہاتھ میں نہ تھا۔ ناراضی دراصل اِس بات کا پتہ دیتی ہے کہ دل نے ایک لمحے کے لیے اپنا حساب غلط جگہ پیش کر دیا تھا۔
اور اللہ نے یہ بھی صاف بتا دیا کہ نیکی کو خطرہ کہاں سے ہے۔ خطرہ سامنے والے کے بھول جانے سے نہیں، ہمارے اپنے یاد رکھنے اور جتلانے سے ہے۔ فرمایا
”اے ایمان والو، اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو۔“
قرآن، سورۃ البقرۃ ۲:۲۶۴ · مفہوم
غور کیجیے، نیکی اُس لمحے ضائع نہیں ہوتی جب دل میں خلش اٹھتی ہے۔ نقصان اُس وقت ہوتا ہے جب یہ خلش باہر نکل کر سامنے والے تک پہنچ جائے، کسی طعنے کی صورت میں، احسان جتلانے کی صورت میں، یا دل میں پالے ہوئے گلے کی صورت میں۔ جب تک بات اندر رہ کر سبق بنی رہے، آپ کی نیکی محفوظ ہے۔ اِسے موسم کی طرح آنے دیجیے اور گزر جانے دیجیے۔
نقشبندی مجدّدی طریقت میں اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ نیکی کرو اور بھول جاؤ، جیسے دائیں ہاتھ نے دیا اور بائیں ہاتھ کو خبر بھی نہ ہوئی۔ جو بات یاد ہی نہ رہے، اُس پر گلہ کہاں سے پیدا ہو گا۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی بار کوئی نیکی کریں تو اُسی وقت دل میں کہہ لیں، ”یا اللہ، اِس کا شکریہ تجھ سے چاہتا ہوں، بندوں سے نہیں“، اور پھر اُس نیکی کا ذکر اپنے دل میں بھی نہ دہرائیں۔
