دل کے سوال

جب میں کوئی نیکی کرتا ہوں اور بدلے میں کچھ نہیں چاہتا، لیکن سامنے والا اسے مانتا تک نہیں، تو مجھے جو ناراضی محسوس ہوتی ہے وہ میری اپنی نیت پر شک کیوں پیدا کر دیتی ہے؟

Neki ki nashukri par dil dukhna

آپ نے نیکی کی، بدلے میں کچھ نہ چاہا، اور جب سامنے والے نے شکریہ تک نہ کہا تو دل میں ایک ہلکی سی خلش اٹھی۔ اب آپ اُسی خلش کو دیکھ کر سوچ رہے ہیں کہ شاید نیت ہی صاف نہ تھی۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ خلش نفس کا اپنا حق مانگنا ہے، اور آپ کا اِس پر بے چین ہونا اِسی بات کی علامت ہے کہ دل نفس کی یہ بات ماننے پر تیار نہیں۔

شکریے کی خواہش بجائے خود کوئی گناہ نہیں۔ یہ نفس کی پرانی عادت ہے، اور کسی نہ کسی درجے میں ہم سب کے اندر موجود ہے۔ کام اِس عادت سے نفرت کرنا نہیں، بلکہ نظر اِس سے آگے اُس ذات کی طرف اٹھانا ہے جس کا دیکھنا کبھی نہیں چوکتا۔ اللہ نے اپنے نیک بندوں کا ذکر فرمایا کہ اُنہوں نے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلایا اور دل ہی دل میں کہا

”ہم تو صرف اللہ کی رضا کے لیے تمہیں کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔“

قرآن، سورۃ الانسان ۷۶:۹ · مفہوم

اُنہوں نے دروازے پر کھڑے ہو کر شکریے کا انتظار نہیں کیا، کیونکہ اجر تو اُنہیں اُسی وقت مل چکا تھا جس نے تنہائی میں دیکھا تھا۔ نیکی کا رخ جب صرف اللہ کی طرف ہو تو بندوں کی خاموشی اُس میں سے کچھ کم نہیں کر سکتی، کہ اجر پہلے بھی اُن کے ہاتھ میں نہ تھا۔ ناراضی دراصل اِس بات کا پتہ دیتی ہے کہ دل نے ایک لمحے کے لیے اپنا حساب غلط جگہ پیش کر دیا تھا۔

اور اللہ نے یہ بھی صاف بتا دیا کہ نیکی کو خطرہ کہاں سے ہے۔ خطرہ سامنے والے کے بھول جانے سے نہیں، ہمارے اپنے یاد رکھنے اور جتلانے سے ہے۔ فرمایا

”اے ایمان والو، اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو۔“

قرآن، سورۃ البقرۃ ۲:۲۶۴ · مفہوم

غور کیجیے، نیکی اُس لمحے ضائع نہیں ہوتی جب دل میں خلش اٹھتی ہے۔ نقصان اُس وقت ہوتا ہے جب یہ خلش باہر نکل کر سامنے والے تک پہنچ جائے، کسی طعنے کی صورت میں، احسان جتلانے کی صورت میں، یا دل میں پالے ہوئے گلے کی صورت میں۔ جب تک بات اندر رہ کر سبق بنی رہے، آپ کی نیکی محفوظ ہے۔ اِسے موسم کی طرح آنے دیجیے اور گزر جانے دیجیے۔

نقشبندی مجدّدی طریقت میں اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ نیکی کرو اور بھول جاؤ، جیسے دائیں ہاتھ نے دیا اور بائیں ہاتھ کو خبر بھی نہ ہوئی۔ جو بات یاد ہی نہ رہے، اُس پر گلہ کہاں سے پیدا ہو گا۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار کوئی نیکی کریں تو اُسی وقت دل میں کہہ لیں، ”یا اللہ، اِس کا شکریہ تجھ سے چاہتا ہوں، بندوں سے نہیں“، اور پھر اُس نیکی کا ذکر اپنے دل میں بھی نہ دہرائیں۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔