Questions of the Heartدل کے سوال
Home & Familyگھر اور خاندان

My wife works too, yet I feel that cooking, cleaning, and the children are simply her department. Is that division actually how Islam sees it?میری بیوی بھی نوکری کرتی ہے، پھر بھی مجھے لگتا ہے کہ کھانا پکانا، صفائی اور بچے بس اس کا شعبہ ہیں۔ کیا اسلام واقعی اسے اسی طرح دیکھتا ہے؟

Brother, this is a fair question, and the honest answer is that the division you describe is not what Islam laid down. You provide, you carry burdens outside the home, and none of that is small. But if we want to know how the work of a house is meant to be shared, the place to look is the house of the Prophet, peace be upon him.

Aisha, may Allah be pleased with her, was once asked what the Prophet did inside his home. She did not describe a man who considered the household beneath him. She said plainly:

“He was in the service of his family, and when the time for prayer came, he would go out to pray.”

Aisha (may Allah be pleased with her), Sahih al-Bukhari (676) · meaning

The most honoured man who ever walked the earth mended his own sandal, helped with the chores, and served those under his roof, and it took nothing from his dignity. If the hands that received revelation could serve the home, our hands are not lowered when they do the same.

The idea that the kitchen and the children are one person’s “department” is a custom we inherited from our surroundings, a habit of the times, not a ruling of our faith. And of the believers as a whole, in a verse whose own theme is how the faithful stand together, calling to what is good, holding up the prayer and giving in charity, Allah says:

“And the believing men and the believing women are protectors and helpers of one another.”

Qur’an, At-Tawbah 9:71 · meaning

Awliya of one another: a shared shelter and a shared load. Let me be open with you about how I am reading this verse. It speaks of the believing community at large, not of husband and wife in particular, so the lesson for your home is mine to draw, and I draw it without hesitation. If this is how Allah describes believers who meet one another in the street and the masjid, what shall we say of two believers who share one roof, one table and one set of children? That mutual care does not stop at the door of the home where it is needed most. When your wife carries a paid day as you do and then a second unseen shift at home, her strength quietly wears thin. Even those who study homes today notice that when the load feels fair to both, a husband and wife grow closer, while a share that one of them quietly feels is unfair slowly tires the heart. Our faith reached that truth long before any study, through the example of a Prophet who picked up a cloth and helped.

So think of it not as her department and yours, but as one home you are both building toward Jannah, where every dish you wash and every child you settle becomes, by your intention, an act that Allah records and rewards.

One small step: Pick one household task this week, the dishes after dinner or putting the children to bed, and quietly make it yours, following the one who served his own family.

بھائی، یہ بات پوچھنے ہی کی تھی، اور سچ یہ ہے کہ جو تقسیم آپ نے بیان کی ہے، وہ دین کی رکھی ہوئی نہیں۔ ہمارے گھروں میں چلن یہی بن گیا ہے کہ کمانا مرد کا کام اور گھر کی ہر ذمہ داری عورت کا شعبہ، اور اس عادت کو ہم نے کبھی ٹھہر کر پرکھا ہی نہیں۔ پھر جب بیوی خود بھی باہر کی مشقت میں شریک ہو، تو انصاف کا سوال اور کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ گھر کے کاموں کے بارے میں دین کیا کہتا ہے، اور اس کے لیے سب سے معتبر جگہ خود نبی کریم ﷺ کا گھر ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کسی ایسے آدمی کا نقشہ نہیں کھینچا جو گھر کے کام کو اپنے مرتبے سے کم تر سمجھتا ہو۔ سیدھا سا جواب دیا:

”آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے کام میں لگے رہتے تھے، پھر جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔“

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، صحیح بخاری (۶۷۶) · مفہوم

جو تمام جہانوں کے سردار ہیں، وہ اپنے ہاتھ سے کپڑا رفو کرتے، جوتا گانٹھتے اور گھر کے کام میں اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے تھے، اور اس سے ان کے وقار میں ذرہ برابر کمی نہ آئی۔ جس کام کو وحی اٹھانے والے ہاتھوں نے کیا، وہ ہمارے لیے کمتری کی بات کیسے ہو سکتا ہے۔

کھانا پکانا، صفائی اور بچے کسی ایک فرد کا ”شعبہ“ ہیں، یہ بات ہم نے اپنے ماحول سے سیکھی ہے، زمانے کا چلن ہے، دین کا حکم نہیں۔ اور اہلِ ایمان کے بارے میں، ایک ایسی آیت میں جس کا موضوع ہی یہ ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں مل کر نیکی کی دعوت دیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”اور مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔“

قرآن، سورۃ التوبہ ۹:۷۱ · مفہوم

ایک دوسرے کا رفیق و مددگار، یعنی سایہ بھی سانجھا اور بوجھ بھی سانجھا۔ ایک بات یہاں صاف کر دوں۔ یہ آیت پوری جماعتِ مومنین کے بارے میں ہے، خاص طور پر میاں بیوی کے کاموں کی تقسیم کے بارے میں نہیں، اِس لیے آپ کے گھر کا سبق میں خود اس سے نکال رہا ہوں، اور جھجک کے بغیر نکال رہا ہوں۔ جب اللہ اُن بندوں کو ایک دوسرے کا رفیق کہہ رہا ہے جو گلی اور مسجد میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تو اُن دو مومنوں کا معاملہ کیا ہونا چاہیے جن کی چھت ایک، دسترخوان ایک اور اولاد ایک ہے۔ یہ باہمی سہارا اُسی گھر کی دہلیز پر آ کر تو نہیں رک سکتا جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بیوی جب آپ ہی کی طرح باہر کا پورا دن کاٹ کر آئے اور پھر گھر میں دوسری، کسی کو دکھائی نہ دینے والی باری شروع کرے، تو اس کی طاقت چپکے چپکے گھٹتی رہتی ہے۔ آج گھروں پر تحقیق کرنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ جب بوجھ دونوں کو برابر لگے تو میاں بیوی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، اور جب کسی ایک کو اندر ہی اندر یہ لگے کہ زیادتی ہو رہی ہے تو دل آہستہ آہستہ تھکنے لگتا ہے۔ ہمارا دین اس بات تک کسی تحقیق سے بہت پہلے پہنچ چکا تھا، اُس نبی کے عمل سے جو خود کپڑا اٹھا کر گھر کے کام میں لگ جاتے تھے۔

تو اسے ”اس کا شعبہ اور میرا شعبہ“ نہ سمجھیے۔ یہ ایک ہی گھر ہے جو آپ دونوں مل کر جنت کی طرف لے جا رہے ہیں، اور یہاں جو برتن آپ دھوتے ہیں اور جس بچے کو آپ تھپک کر سلاتے ہیں، وہ آپ کی نیت سے ایسا عمل بن جاتا ہے جسے اللہ خود لکھتا اور جس کا اجر دیتا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: اس ہفتے گھر کا ایک کام چن لیجیے، رات کے کھانے کے بعد کے برتن یا بچوں کو سلانا، اور خاموشی سے اسے اپنے ذمے کر لیجیے، اُسی ہستی کے نقشِ قدم پر جو اپنے گھر والوں کے کام میں لگی رہتی تھی۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔