I often listen to and pass on gossip about public figures and neighbours, telling myself it is just harmless talk. Is this the same sin as backbiting a friend?میں اکثر مشہور شخصیات اور پڑوسیوں کے بارے میں گپ سنتا اور آگے پہنچاتا ہوں، خود کو یہ کہہ کر کہ یہ تو بے ضرر باتیں ہیں۔ کیا یہ کسی دوست کی غیبت جیسا ہی گناہ ہے؟
You call it harmless talk, and that is what most of us call it. Let us look at it plainly.
Allah gives us a discipline for news that reaches the ear: a pause, before we believe it and before we pass it on.
“If a corrupt person brings you news, verify it, lest you harm a people out of ignorance and then become regretful over what you did.”
Qur’an, Al-Hujurat 49:6 · meaning
Notice what the verse is guarding. Not your standing, but a people who may be harmed while you were only repeating what you heard, and a regret that arrives afterwards, when the harm is already done. Elsewhere Allah describes the man whose habit is to carry words about, and tells us not to walk behind him.
“And do not obey every worthless habitual swearer, a defamer, going about with malicious gossip.”
Qur’an, Al-Qalam 68:10-11 · meaning
Now to your actual question, whether talk about a public figure or a neighbour is the same as talk about a friend. Allah settles it in the same surah as the first verse, a few verses on, and He draws no line between the near and the far. To mention an absent person in a way he would dislike is ghibah, wherever he happens to be.
“And do not spy on one another, nor let some of you backbite others. Would one of you like to eat the flesh of his dead brother? You would detest it.”
Qur’an, Al-Hujurat 49:12 · meaning
So the answer is yes. Idle talk about someone who is absent is ghibah, whether he is a famous name, the neighbour across the wall, or the friend you love. And when such talk is not only heard but carried onward from one person to the next, a second thing joins it, namimah, tale-carrying, about which the Prophet, peace be upon him, spoke plainly.
“The one who spreads namimah, tale-carrying, will not enter Paradise.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 6056 / Muslim 105) · meaning
Take that as a warning, not a verdict on you. This is a custom of the air we all breathe, and what we picked up from the air can be set down again. And there is something worth noticing in ourselves: the easy talk we allow about strangers slowly wears down our care, until the same ease reaches the people closest to us. Guarding the far is how the near is protected.
There is a quiet dignity in being the one in whose company reputations are safe, the place where a rumour arrives and goes no further. Your own heart is lighter for it.
One small step: The next time news about someone reaches you, let it stop with you. Say nothing of it, and turn the talk to something good. Notice how clean that silence is.
ایسی باتوں کو ہم اکثر “بےضرر گپ شپ” کہہ کر ہلکا کر لیتے ہیں، اور بات آگے چل پڑتی ہے۔ ذرا اِسے سیدھی نظر سے دیکھ لو۔
سنی سنائی خبر کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ادب سکھایا ہے، یعنی ماننے سے پہلے اور آگے بڑھانے سے پہلے ایک لمحہ ٹھہر جانا۔
”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔“
قرآن، سورۃ الحجرات ۴۹:۶ · مفہوم
غور کرو کہ آیت کس چیز کی حفاظت کر رہی ہے۔ بات اپنی ساکھ کی نہیں، اُن لوگوں کی ہے جن کا نقصان نادانی میں ہو جاتا ہے، اور پھر پچھتاوا اُس وقت آتا ہے جب نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ ایک بےقصور کی عزت پر آنچ آ جاتی ہے اور کہنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ اور جسے باتیں اِدھر کی اُدھر کرنے کی عادت ہو، اُس کے بارے میں قرآن نے صاف کہہ دیا کہ ایسے شخص کے پیچھے نہ چلو۔
”اور تم ہر ایسے شخص کی بات نہ مانو جو بہت قسمیں کھانے والا، ذلیل، عیب لگانے والا، اور چغلیاں کھاتا پھرنے والا ہو۔“
قرآن، سورۃ القلم ۶۸:۱۰-۱۱ · مفہوم
اب اصل سوال کی طرف آؤ، کہ مشہور لوگوں اور پڑوسیوں کی باتیں کرنا بھی دوست کی غیبت جیسا ہی ہے یا نہیں۔ اِس کا جواب اُسی سورت میں، چند آیتیں آگے، خود اللہ نے دے دیا، اور دور اور نزدیک میں کوئی فرق نہیں رکھا۔ کسی غیر حاضر کا ایسا تذکرہ جو اُسے ناگوار ہو، وہ غیبت ہے، وہ شخص جہاں بھی ہو۔
”اور ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو، اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ تم تو اِس سے کراہت کرو گے۔“
قرآن، سورۃ الحجرات ۴۹:۱۲ · مفہوم
تو جواب ہاں ہی ہے۔ کسی غیر حاضر کے بارے میں بےمقصد باتیں غیبت ہیں، چاہے وہ کوئی مشہور نام ہو، دیوار کے اُس پار کا پڑوسی، یا وہ دوست جس سے دل لگا ہوا ہے۔ اور جب یہ باتیں صرف سنی نہ جائیں بلکہ ایک سے دوسرے تک پہنچائی جانے لگیں، تو اِن کے ساتھ ایک اور چیز شامل ہو جاتی ہے، یعنی چغلی، اور اِس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان بہت واضح ہے۔
”چغل خور (باتیں لگانے والا) جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۰۵۶ / مسلم ۱۰۵) · مفہوم
اِسے تنبیہ سمجھو، اپنے بارے میں فیصلہ نہیں۔ یہ عادت ہمارے ماحول کی ہے، اور جو چیز ماحول سے آتی ہے وہ اُتنی ہی آسانی سے چھوٹ بھی جاتی ہے۔ ایک بات اپنے دل میں ٹٹول کر دیکھو۔ دور کے لوگوں کے بارے میں جو ہلکی پھلکی باتیں ہم گوارا کر لیتے ہیں، وہ دھیرے دھیرے دل کی نرمی گھٹا دیتی ہیں، اور پھر وہی بےتکلفی اپنوں کے بارے میں بھی زبان پر آ جاتی ہے۔ دور والوں کی عزت کی حفاظت دراصل اپنوں کی حفاظت ہے۔
اور سوچو، کیا مقام ہے اُس شخص کا جس کی مجلس میں لوگوں کی عزت محفوظ رہتی ہے، جہاں بات پہنچ کر رک جاتی ہے، آگے نہیں جاتی۔ اپنا دل بھی اِسی میں ہلکا رہتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج جب کسی مشہور شخص یا پڑوسی کے بارے میں کوئی ایسی بات تم تک پہنچے جسے آگے بڑھانے کو دل کرے، تو ایک لمحہ رک کر خود سے پوچھو، “کیا یہ بات میں اُس کے سامنے بھی کہہ سکتا ہوں؟” جواب نہ ہو تو اُسے اپنے پاس ہی رہنے دو، اور دل میں کہو، “یا اللہ، میری زبان کو ایسی باتوں سے پاک رکھ جو کسی کا دل دکھائیں۔”
