When I do a good deed or a fair dealing, I feel a strong urge to let people know about it. Does wanting the credit ruin the good I did?جب میں کوئی نیکی یا انصاف کا معاملہ کرتا ہوں تو مجھے شدید خواہش ہوتی ہے کہ لوگوں کو اس کا علم ہو۔ کیا کریڈٹ کی چاہت میری کی ہوئی نیکی کو ضائع کر دیتی ہے؟
The wish to be seen doing good is one of the oldest habits of the human soul. Noticing it in yourself does not mean something has gone wrong; it is what happens when a man starts watching his own heart. The good deed itself does not turn bad. What happens is that a second, quieter hunger comes to feed from the same plate, the hunger to be admired. Allah warns us plainly of what that second hunger can do:
“Do not nullify your charities with reminders of your generosity and by causing hurt.”
Qur’an, Al-Baqarah 2:264 · meaning
See how much He values your good deed. He does not want it wasted. It is like being told not to trample the seed you have only just planted. When we announce our kindness in order to gather praise, we quietly dig the deed up and hand it to people, keeping the applause and losing the reward that was waiting with Allah. Those who study human behaviour have noticed a curious pattern as well: once we have done a good deed, or simply dwelt on it, we begin to feel we have earned a little credit to spend, and we grant ourselves permission to slip a little later. Saying the deed aloud only feeds that feeling further. Hidden goodness has no such side door; it keeps the heart clean and honest.
Against this, the Prophet, peace be upon him, pointed to a higher kind of giving, one so private that it hides even from itself:
“…and a man who gives in charity so secretly that his left hand does not know what his right hand has given.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 660 / Muslim 1031) · meaning
He named such a man among the seven whom Allah will shade on a day when there is no shade but His. A coolness prepared for a soul precisely because it kept its good deeds between itself and its Lord. The credit you were tempted to collect from people is small change beside that shade.
Beyond this is the station of those who want nothing at all in return, not even a word of thanks. Allah records their intention in their own words:
“We feed you only for the sake of Allah. We wish from you no reward, nor thanks.”
Qur’an, Al-Insan 76:9 · meaning
So the good you did is not ruined. The urge for credit is a habit, and quiet giving will slowly starve it out. Let a few of your deeds become secrets between you and Allah, and you will taste a joy richer than any praise, the joy of being seen by the only One whose seeing truly matters.
One small step: This week, do one good deed, a gift, a kindness, a hand offered, and tell no one about it at all. Keep it between you and your Lord.
نیکی کرنے کے بعد یہ خواہش جاگ اٹھنا کہ لوگوں کو بھی خبر ہو جائے، نفس کی بہت پرانی عادت ہے۔ نیکی خود خراب نہیں ہو جاتی، بات صرف اِتنی ہے کہ اُسی تھالی میں ایک دوسری بھوک بھی شریک ہو جاتی ہے، تعریف سننے کی بھوک۔ اِسی پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں صاف صاف متوجہ کیا ہے کہ صدقہ دے کر احسان جتانا اور دل دُکھانا خود اُس صدقے کو ضائع کر دیتا ہے۔
”اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر باطل مت کرو۔“
قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۲۶۴ · مفہوم
ذرا دیکھیے، اللہ کو آپ کی نیکی کِس قدر عزیز ہے کہ وہ خود اُسے ضائع ہونے سے بچا رہا ہے۔ بات ایسی ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ جو بیج ابھی بویا ہے، اُسے اپنے ہی پاؤں سے نہ روند ڈالو۔ جب ہم اپنی بھلائی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں تو دراصل عمل کو زمین سے نکال کر لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں، تالیاں اپنے حصے میں آ جاتی ہیں اور جو اجر اللہ کے ہاں رکھا تھا وہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ انسانی مزاج پر نظر رکھنے والوں نے ایک عجیب بات بھی دیکھی ہے: ایک نیکی کر لینے کے بعد، یا محض اُسے دل میں دہرانے کے بعد، آدمی کو لگنے لگتا ہے کہ اب میرے کھاتے میں کچھ جمع ہو گیا ہے، اور وہ خود کو تھوڑی سی ڈھیل کا اجازت نامہ دے دیتا ہے۔ اور زبان سے نیکی کا ذکر اِس احساس کو مزید ہوا دیتا ہے۔ چھپی ہوئی نیکی میں یہ پچھلا دروازہ نہیں ہوتا، وہ دل کو صاف اور سچا رکھتی ہے۔
اِس کے مقابل نبی کریم ﷺ نے دینے کا ایک بلند تر انداز دکھایا، اِس قدر پوشیدہ کہ خود اپنے آپ سے بھی چھپا رہے۔
”اور وہ شخص جس نے اتنے پوشیدہ طور پر صدقہ کیا کہ اُس کے بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہوا کہ اُس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۶۰ / مسلم ۱۰۳۱) · مفہوم
ایسے شخص کو آپ ﷺ نے اُن سات خوش نصیبوں میں شمار کیا جنہیں قیامت کے دن اللہ اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن سائے کا اور کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ جو بندہ اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو چھپا لے، اُس کی نگاہ صرف ایک ہی ذات پر ہوتی ہے، اپنے مالک پر۔ ہمارے نقشبندی مجددی مسلک کا ذوق بھی یہی ہے کہ عمل بندے اور اُس کے رب کے درمیان ایک راز بن جائے، اُس میں کسی تیسرے کی نگاہ نہ آئے۔ لوگوں سے جو کریڈٹ لینے کو دل چاہتا ہے، وہ اُس سائے کے مقابلے میں ریزگاری سے زیادہ نہیں۔
اِس سے آگے کا مقام وہ ہے جہاں بندہ بدلے میں کچھ نہیں چاہتا، شکریہ بھی نہیں۔ اللہ نے اپنے ایسے بندوں کی زبانی یہ نقشہ کھینچا ہے۔
”ہم تو تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔“
قرآن، سورۃ الانسان ۷۶:۹ · مفہوم
تو جو نیکی آپ نے کی، وہ ضائع نہیں ہوئی۔ کریڈٹ کی چاہت بس ایک عادت ہے، اور خاموش نیکی اِس عادت کی خوراک آہستہ آہستہ بند کر دیتی ہے۔ اپنی چند نیکیوں کو اپنے اور اللہ کے درمیان راز بنا لیجیے، پھر جو مٹھاس دل میں اترے گی وہ ہزار تعریفوں سے بڑھ کر ہو گی۔ لوگوں کی نگاہ ایک لمحے کی داد دیتی ہے، اللہ کی نگاہ ہمیشہ کے لیے قبول کر لیتی ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اِس ہفتے ایک نیکی چن لیجیے، کوئی چھوٹی سی خیرات یا کسی کی خاموش مدد، اور اُس کا ذکر کسی سے بھی نہ کیجیے۔ اُسے اپنے اور اللہ کے درمیان راز ہی رہنے دیجیے۔
