The people I hurt while I was sinning have moved on or won’t speak to me. Can my tawbah be complete if I can’t make things right with them?جن لوگوں کو میں نے اپنے گناہ کے دوران دکھ پہنچایا وہ آگے بڑھ چکے ہیں یا مجھ سے بات نہیں کرتے۔ کیا میری توبہ مکمل ہو سکتی ہے جب میں ان کے ساتھ معاملہ درست نہیں کر سکتا؟
The short answer is yes. Your tawbah is not held hostage by another person’s silence.
The rights of people are a serious matter, and where we can set them right, we must. That is why the Prophet, peace be upon him, told us to settle these things here, while settling is still possible.
“Whoever has wronged his brother should seek his pardon before the Day when there will be no dinar and no dirham.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari (2449) · meaning
Look at what this asks of you: to seek pardon, to reach, to try. It does not say the other person must answer, or that the door must open. Where someone has moved on, or will not speak, or where reopening the matter would only cause fresh harm, the duty on you is the sincere attempt itself. You lower your side of the bridge. You are not asked to force the crossing, and Allah does not ask of anyone what is beyond his reach.
For the door that stays shut, our scholars have left you a way. To the one who cannot reach the person he wronged, or cannot even name him, they say: keep the intention alive to find him and return what is owed if a way ever opens, estimate what is on you and give it in charity on his behalf, and pray for him often, that Allah make him content with you and pay him from His own treasury on the Day when accounts are settled with deeds and not with dinars. All of that is in your hands tonight.
And when you pray for him, pray generously. The Qur’an praises the one who was wronged and chooses to pardon and reconcile rather than take back the like of what he suffered, and it places his reward with Allah Himself.
“So whoever pardons and makes reconciliation, his reward is with Allah.”
Qur’an, Ash-Shura 42:40 · meaning
So ask for him exactly that: that Allah move his heart to pardon, and then reward him for it far beyond anything your apology could have given him. And clear your own heart while you are about it, of whatever resentment you may still be carrying against anyone.
What is left after that is not yours to carry. You do what is in your hand, you soften what you can, and the rest you hand to the One who saw every intention you could not deliver. He does not lose a sincere effort made for His sake.
One small step: Choose one person you could not make things right with, and tonight quietly make a short du’a for their good and give even a small charity with them in mind.
سیدھی بات یہ ہے کہ آپ کی توبہ کسی دوسرے کی خاموشی کی محتاج نہیں۔ ہاں، بندوں کے حقوق کا معاملہ ہلکا نہیں، اور جہاں تک بس چلے، اُنہیں چکانا ہی چاہیے۔ اِسی لیے نبی کریم ﷺ نے تاکید فرمائی کہ جب تک موقع ہاتھ میں ہے، یہیں دنیا میں معاملہ صاف کر لو۔
”جس نے اپنے بھائی پر کوئی زیادتی کی ہو، وہ آج ہی اُس سے معافی مانگ لے، اُس دن سے پہلے جب نہ دینار ہوگا نہ درہم۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۲۴۴۹) · مفہوم
اب دیکھیے، اِس میں مطالبہ کس بات کا ہے۔ معافی مانگنے کا، ہاتھ بڑھانے کا، کوشش کرنے کا۔ یہ نہیں فرمایا گیا کہ دوسرا جواب بھی دے، یا دروازہ کھل بھی جائے۔ جو آگے بڑھ گیا، یا بات کرنے پر تیار نہیں، یا جہاں بات دوبارہ چھیڑنے میں نئی تکلیف ہی ہو، وہاں آپ کے ذمے وہی سچی کوشش رہ جاتی ہے۔ اپنی طرف سے پُل ڈال دینا آپ کا کام ہے، دوسرے کو گزرنے پر مجبور کرنا آپ کے بس میں نہیں، اور اللہ کسی سے اُس کے بس سے باہر کا مطالبہ نہیں کرتا۔
جہاں دروازہ بند ہی رہے، وہاں علماء نے راستہ بتا دیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ جس تک پہنچنا ممکن نہ رہے، یا جس کا نام و پتہ ہی یاد نہ ہو، اُس کے بارے میں تلاش اور تلافی کی نیت باقی رکھیے کہ راستہ کھلے تو حق ادا کر دیں گے، جو مال یا حق ذمے ہے اُس کا اندازہ لگا کر اُن کی طرف سے صدقہ کر دیجیے، اور اُن کے حق میں کثرت سے دعا کیجیے کہ اللہ اُنہیں آپ سے راضی فرما دے اور اُس دن اُن کا حق اپنے خزانے سے پورا فرما دے، جب حساب دینار و درہم سے نہیں، اعمال سے چکتا ہے۔ اِتنا آج رات آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اور دعا کیجیے تو دل کھول کر کیجیے۔ قرآن نے اُس شخص کی تعریف فرمائی ہے جس پر زیادتی ہوئی اور اُس نے بدلہ لینے کے بجائے معاف کر دیا اور صلح کر لی، اور اُس کا اجر اللہ نے اپنے ذمے رکھا ہے۔
”پس جو معاف کر دے اور صلح کر لے، تو اُس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔“
قرآن، سورۃ الشوریٰ ۴۲:۴۰ · مفہوم
تو اُس کے لیے یہی مانگیے کہ اللہ اُس کے دل میں معاف کر دینے کی توفیق ڈال دے، اور پھر اُسے وہ اجر عطا فرمائے جو آپ کی معافی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور اپنا دل بھی صاف رکھیے، کسی کے لیے کوئی گرہ باقی نہ رہے۔
اِس کے بعد جو معاملہ آپ کے ہاتھ سے سیدھا نہیں ہو سکتا، وہ اُس ذات کے سپرد کر دیجیے جس کے قبضے میں سب دل ہیں۔ جو کوشش اُس کی رضا کے لیے کی گئی، وہ ضائع نہیں ہوتی، چاہے دوسرے تک پہنچ ہی نہ سکی ہو۔
ایک چھوٹا قدم: آج ایک ایسے شخص کا نام دل میں لائیے جس سے معاملہ درست کرنا مشکل ہو گیا ہے، اور اُس کی طرف سے تھوڑا سا صدقہ (جتنا بھی ممکن ہو) دے کر اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کی طرف سے اُس کا دل راضی فرما دے۔
