Whenever I decide to leave a sin, my old friends and environment pull me right back in. Is my tawbah doomed if I can’t change everyone around me?جب بھی میں کوئی گناہ چھوڑنے کا ارادہ کرتا ہوں، میرے پرانے دوست اور ماحول مجھے واپس کھینچ لیتے ہیں۔ کیا میری توبہ ناکام ہے اگر میں اپنے ارد گرد کے سب لوگوں کو نہیں بدل سکتا؟
What you describe is a real struggle, not a failing. You are trying to rise, and each time you rise the old current pulls at your feet. That is not a sign that your tawbah is doomed. Only the one who climbs ever feels the weight of the slope.
The Prophet (peace be upon him) told us of a man who had taken ninety-nine lives and then a hundredth, and who still wanted to return. The wise man he turned to did not tell him his past was too heavy. He told him something about his surroundings.
“Go to such and such a land, for there are people worshipping Allah there. Worship Allah with them, and do not return to your own land, for it is a land of evil.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2766a) · meaning
Notice what he was not told. He was not told to reform every person in his old town. He was told to change the soil he was planted in, to walk toward people who would water the good in him instead of trampling it. You are not asked to fix everyone around you. You are asked to lean, little by little, toward better company.
Company shapes us the way water shapes a stone, quietly, without our noticing, until one day the surface is different. That is why the Prophet gave us this instruction.
“A person is upon the religion of his close friend, so let each of you look at whom he befriends.”
The Prophet (peace be upon him), Sunan at-Tirmidhi (2378) and Sunan Abi Dawud (4833), also Musnad Ahmad · meaning
So do not measure your tawbah by whether the whole environment changes. Measure it by the drift of your heart toward light. Keep your old ties with kindness where you must, but let your closest companionship gather slowly around those who remind you of Allah. You do not need a hundred new friends. Even one sincere companion who pulls you upward can, by Allah’s leave, become the land of good people your soul has been looking for.
One small step: Reach out this week to one person whose company softens your heart toward Allah, and make a small plan to sit with them regularly, even if only for a short while.
جو شخص دریا کے بہاؤ کے مخالف تیرتا ہے وہ تھکتا ضرور ہے، مگر ڈوب نہیں رہا ہوتا۔ ہر بار پرانی صحبت آپ کو پیچھے کھینچ لیتی ہے، اِس کا مطلب یہ نہیں کہ توبہ ٹوٹ گئی۔ توبہ یہ نہیں کہ آپ ساری دنیا بدل دیں، توبہ یہ ہے کہ آپ اپنا رخ بدل لیں۔
نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کا واقعہ سنایا جس نے ننانوے جانیں لے لی تھیں، پھر ایک اور، یعنی پوری سو۔ اِس کے باوجود اُس کے دل میں لوٹنے کی طلب باقی تھی۔ اُس نے ایک عالِم سے پوچھا تو اُنہوں نے یہ نہ کہا کہ تیرا بوجھ بہت بھاری ہے، بلکہ اُس کے ماحول کے بارے میں ایک بات کہی:
”تم اپنی اُس بستی کو چھوڑ دو جو بُرائی کی جگہ ہے، اور فلاں بستی کی طرف چلے جاؤ جہاں نیک لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اور اُن کے ساتھ ہو کر اللہ کی بندگی کرو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۷۶۶a) · مفہوم
غور کیجیے، اُس سے یہ نہیں کہا گیا کہ اپنی بستی کے سب لوگوں کو سدھار دو۔ کہا یہ گیا کہ اپنی جگہ بدل لو، اپنے قدم اُن لوگوں کی طرف اٹھاؤ جو تمہارے اندر کی اچھائی کو سینچیں، نہ کہ روند دیں۔ آپ سے بھی یہ مطالبہ نہیں کہ ارد گرد کے سب لوگ ٹھیک کر دیں۔ صرف اِتنا کہا گیا ہے کہ اپنی صحبت چن لیں، اور یہ آپ کے اختیار میں ہے۔
صحبت انسان پر ایسے اثر کرتی ہے جیسے پانی پتھر پر · آہستہ آہستہ، بےخبری میں، اور ایک دن پتھر کی سطح بدل چکی ہوتی ہے۔ اِسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا:
”آدمی اپنے گہرے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس کو دوست بناتا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۲۳۷۸) اور سنن ابی داؤد (۴۸۳۳)، نیز مسند احمد · مفہوم
پرانے دوستوں سے دل میں کدورت رکھنے کی ضرورت نہیں، نہ کسی پر انگلی اٹھانی ہے۔ بس آہستہ آہستہ اپنا زیادہ وقت اُن مجلسوں میں لگائیے جہاں اللہ کا ذکر ہو اور بیٹھ کر دل ہلکا ہو جائے۔ اپنی توبہ کو اِس سے نہ ناپیے کہ سارا ماحول بدلا یا نہیں، اِس سے ناپیے کہ دل کا رخ روشنی کی طرف ہو رہا ہے یا نہیں۔ سو نئے دوست بنانے کی ضرورت نہیں۔ ایک سچا ساتھی بھی مل جائے تو اللہ کے حکم سے وہی آپ کے لیے نیک لوگوں کی بستی بن سکتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اِس ہفتے کسی ایک ایسے ساتھی سے رابطہ کیجیے جس کی صحبت میں دل اللہ کی طرف نرم ہوتا ہے، اور طے کر لیجیے کہ ہفتے میں کم از کم ایک بار اُس کے ساتھ کچھ وقت گزاریں گے، چند منٹ کی ملاقات یا کال بھی کافی ہے۔
