Questions of the Heartدل کے سوال
Dunya & Akhirahدنیا و آخرت

When I scroll and see others with bigger houses and better lives, I feel like I’m falling behind. How do I stop comparing?جب میں سکرول کرتا ہوں اور دوسروں کے بڑے گھر اور بہتر زندگیاں دیکھتا ہوں تو لگتا ہے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ میں یہ موازنہ کرنا کیسے چھوڑوں؟

What you are describing is not a flaw in your character. It is what happens to anyone placed in front of an endless, glowing window. That screen was built to show you the polished surface of a thousand lives at once, and no one was made to carry a thousand comparisons in a single afternoon.

Allah gave this same instruction to the Prophet himself, peace be upon him, which tells you that the feeling is human and the remedy is close at hand.

“And do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to some categories of them, the splendor of worldly life by which We test them. And the provision of your Lord is better and more enduring.”

Qur’an, Ta-Ha 20:131 · meaning

Notice what He calls it: the splendor of worldly life, a flower that opens bright in the morning and folds by evening. The same guard over the gaze is placed in another verse too.

“Do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to certain categories of them, and do not grieve over them, and lower your wing gently to the believers.”

Qur’an, Al-Hijr 15:88 · meaning

Let me be honest with you about this second verse, Because honesty is part of the comfort. The grief mentioned there, as the commentators before us explain, is the Prophet’s sorrow over the people who turned away from his message, not sorrow over what they owned, and I will not stretch a verse further than it was sent. But the first half speaks straight to you and to me: do not stretch your eyes toward what has been placed in another’s hands. If so gentle a guard was set over the purest gaze, your tired eyes at the end of a long scrolling day deserve that mercy too. And the wing of kindness the verse asks for at its close, you may fold that around your own heart as well as around the believers beside you.

Then the Prophet, peace be upon him, put a remedy in your hand simple enough for a child to hold, and it turns the whole comparison around.

“Look at those who are below you, and do not look at those who are above you, for it is more fitting that you should not belittle the favours of Allah upon you.”

The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2963c) · meaning

Those who study the human heart today have arrived near the same place: people who spend their hours looking upward at brighter lives report more envy and less contentment, while those who make a habit of counting what they already have often find the weight lifting. You were not falling behind. You were facing the wrong window. Turn the gaze downward in gratitude and upward only to your Lord, and the race dissolves, because the One whose opinion matters has already given you a great deal.

One small step: Tonight, before you sleep, name three quiet gifts you already hold that someone else is praying for, and thank Allah for each by name.

جو کیفیت آپ بیان کر رہے ہیں، وہ آج ہر دوسرے شخص کی کیفیت ہے۔ انگلی کی ایک جنبش پر سینکڑوں زندگیاں آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی ہیں، اور ہر جھلک کسی کے سب سے روشن اور سب سے سجے ہوئے لمحے کی ہوتی ہے۔ سکرین کسی کی پوری زندگی نہیں دکھاتی، صرف اُس کا چمکتا ہوا رخ دکھاتی ہے۔ پیچھے رہ جانے کا احساس اِسی دھوکے سے پیدا ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اِس کا علاج ایک ہی جملے میں بتا دیا، اور وہ نگاہ کا رخ بدلنے کا نسخہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

”اُس شخص کو دیکھو جو تم سے کمتر حال میں ہے، اور اُس کو مت دیکھو جو تم سے بڑھ کر ہے، یہ زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ جانو۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۹۶۳c) · مفہوم

نگاہ نیچے کی طرف پھرے تو دل شکر سے بھر جاتا ہے، اوپر کی طرف اٹھے تو خالی پن بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے بھی فرمائی، تاکہ کوئی چمکتی ہوئی چیز نگاہِ مبارک کو نہ کھینچ لے:

”اور اپنی آنکھیں اُس چیز کی طرف نہ پھیلائیں جو ہم نے اُن میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہے تاکہ اُنہیں اُس میں آزمائیں، اور آپ کے رب کا رزق کہیں بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔“

قرآن، سورۃ طٰہٰ ۲۰:۱۳۱ · مفہوم

اللہ تعالیٰ اِسے دنیاوی زندگی کی رونق کہہ رہا ہے، یعنی وہ پھول جو صبح کھلتا ہے اور شام کو مرجھا جاتا ہے۔ اور جو رزق آپ کے رب نے آپ کے لیے مقرر کیا ہے، وہ اِس سے بہتر بھی ہے اور دیرپا بھی۔ نگاہ کی یہی حفاظت ایک اور مقام پر بھی بیان ہوئی ہے:

”آپ اپنی نگاہیں اُس چیز کی طرف ہرگز نہ پھیلائیں جس سے ہم نے اُن میں سے کئی گروہوں کو بہرہ ور کیا ہے، اور اُن پر غم نہ کریں، اور اپنے (شفقت کے) بازو اہلِ ایمان کے لیے جھکائے رکھیں۔“

قرآن، سورۃ الحجر ۱۵:۸۸ · مفہوم

ایک بات کھول کر عرض کر دوں، کیونکہ سچ بولنا بھی تسلی کا حصہ ہے۔ اِس آیت میں غم نہ کرنے کا حکم، جیسا کہ مفسرین نے واضح کیا ہے، اُن لوگوں کی رُوگردانی پر رنجیدہ نہ ہونے کے بارے میں ہے، اُن کے مال و متاع پر حسرت کے بارے میں نہیں، اور میں آیت کو اُس سے آگے نہیں لے جاؤں گا جہاں تک وہ خود جاتی ہے۔ مگر آیت کا پہلا حصہ سیدھا ہم سے مخاطب ہے، کہ نگاہ اُس چیز کی طرف نہ پھیلائیں جو کسی اور کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے۔ جب سب سے پاکیزہ نگاہ کے لیے یہ نرمی رکھی گئی، تو دن بھر سکرول کرتی ہوئی آپ کی تھکی آنکھیں بھی اِسی رحمت کی حق دار ہیں۔ اور آیت کے آخر میں شفقت کے بازو جھکانے کا جو ذکر ہے، وہ نرمی اپنے ارد گرد کے اہلِ ایمان پر بھی کیجیے اور اپنے دل پر بھی۔

آج کے ماہرین بھی اِسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جو لوگ اپنا وقت اوپر کی چمک دیکھنے میں گزارتے ہیں، اُن میں حسد بڑھتا ہے اور اطمینان کم ہوتا ہے، اور جو اپنی نعمتیں گننے کی عادت ڈال لیتے ہیں، اُن کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے۔ آپ پیچھے نہیں رہ گئے، آپ کا رخ غلط کھڑکی کی طرف تھا۔ جس گھر کو آپ چھوٹا سمجھ رہے ہیں، ممکن ہے وہی کسی اور کی دعاؤں کا حاصل ہو۔ نگاہ شکر کے ساتھ نیچے کی طرف رکھیے، اور اٹھائیے تو صرف اپنے رب کی طرف۔ دوڑ خود ہی ختم ہو جائے گی۔

ایک چھوٹا قدم: آج جب بھی موبائل کھولیں، سکرول شروع کرنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر دل میں کہیے، “الحمدللہ”، اور اپنی زندگی کی صرف ایک نعمت کا نام لے کر اُس پر رب کا شکر ادا کر لیجیے۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔