دل کے سوال

جب میں سکرول کرتا ہوں اور دوسروں کے بڑے گھر اور بہتر زندگیاں دیکھتا ہوں تو لگتا ہے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ میں یہ موازنہ کرنا کیسے چھوڑوں؟

Doosron ki zindagi se moqabla karna

جو کیفیت آپ بیان کر رہے ہیں، وہ آج ہر دوسرے شخص کی کیفیت ہے۔ انگلی کی ایک جنبش پر سینکڑوں زندگیاں آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی ہیں، اور ہر جھلک کسی کے سب سے روشن اور سب سے سجے ہوئے لمحے کی ہوتی ہے۔ سکرین کسی کی پوری زندگی نہیں دکھاتی، صرف اُس کا چمکتا ہوا رخ دکھاتی ہے۔ پیچھے رہ جانے کا احساس اِسی دھوکے سے پیدا ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اِس کا علاج ایک ہی جملے میں بتا دیا، اور وہ نگاہ کا رخ بدلنے کا نسخہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

”اُس شخص کو دیکھو جو تم سے کمتر حال میں ہے، اور اُس کو مت دیکھو جو تم سے بڑھ کر ہے، یہ زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ جانو۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۹۶۳c) · مفہوم

نگاہ نیچے کی طرف پھرے تو دل شکر سے بھر جاتا ہے، اوپر کی طرف اٹھے تو خالی پن بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے بھی فرمائی، تاکہ کوئی چمکتی ہوئی چیز نگاہِ مبارک کو نہ کھینچ لے:

”اور اپنی آنکھیں اُس چیز کی طرف نہ پھیلائیں جو ہم نے اُن میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہے تاکہ اُنہیں اُس میں آزمائیں، اور آپ کے رب کا رزق کہیں بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔“

قرآن، سورۃ طٰہٰ ۲۰:۱۳۱ · مفہوم

اللہ تعالیٰ اِسے دنیاوی زندگی کی رونق کہہ رہا ہے، یعنی وہ پھول جو صبح کھلتا ہے اور شام کو مرجھا جاتا ہے۔ اور جو رزق آپ کے رب نے آپ کے لیے مقرر کیا ہے، وہ اِس سے بہتر بھی ہے اور دیرپا بھی۔ نگاہ کی یہی حفاظت ایک اور مقام پر بھی بیان ہوئی ہے:

”آپ اپنی نگاہیں اُس چیز کی طرف ہرگز نہ پھیلائیں جس سے ہم نے اُن میں سے کئی گروہوں کو بہرہ ور کیا ہے، اور اُن پر غم نہ کریں، اور اپنے (شفقت کے) بازو اہلِ ایمان کے لیے جھکائے رکھیں۔“

قرآن، سورۃ الحجر ۱۵:۸۸ · مفہوم

ایک بات کھول کر عرض کر دوں، کیونکہ سچ بولنا بھی تسلی کا حصہ ہے۔ اِس آیت میں غم نہ کرنے کا حکم، جیسا کہ مفسرین نے واضح کیا ہے، اُن لوگوں کی رُوگردانی پر رنجیدہ نہ ہونے کے بارے میں ہے، اُن کے مال و متاع پر حسرت کے بارے میں نہیں، اور میں آیت کو اُس سے آگے نہیں لے جاؤں گا جہاں تک وہ خود جاتی ہے۔ مگر آیت کا پہلا حصہ سیدھا ہم سے مخاطب ہے، کہ نگاہ اُس چیز کی طرف نہ پھیلائیں جو کسی اور کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے۔ جب سب سے پاکیزہ نگاہ کے لیے یہ نرمی رکھی گئی، تو دن بھر سکرول کرتی ہوئی آپ کی تھکی آنکھیں بھی اِسی رحمت کی حق دار ہیں۔ اور آیت کے آخر میں شفقت کے بازو جھکانے کا جو ذکر ہے، وہ نرمی اپنے ارد گرد کے اہلِ ایمان پر بھی کیجیے اور اپنے دل پر بھی۔

آج کے ماہرین بھی اِسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جو لوگ اپنا وقت اوپر کی چمک دیکھنے میں گزارتے ہیں، اُن میں حسد بڑھتا ہے اور اطمینان کم ہوتا ہے، اور جو اپنی نعمتیں گننے کی عادت ڈال لیتے ہیں، اُن کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے۔ آپ پیچھے نہیں رہ گئے، آپ کا رخ غلط کھڑکی کی طرف تھا۔ جس گھر کو آپ چھوٹا سمجھ رہے ہیں، ممکن ہے وہی کسی اور کی دعاؤں کا حاصل ہو۔ نگاہ شکر کے ساتھ نیچے کی طرف رکھیے، اور اٹھائیے تو صرف اپنے رب کی طرف۔ دوڑ خود ہی ختم ہو جائے گی۔

ایک چھوٹا قدم: آج جب بھی موبائل کھولیں، سکرول شروع کرنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر دل میں کہیے، “الحمدللہ”، اور اپنی زندگی کی صرف ایک نعمت کا نام لے کر اُس پر رب کا شکر ادا کر لیجیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔