میرے ایک رشتہ دار نے برسوں مجھ سے بدسلوکی کی، اس لیے میں نے خاموشی سے تعلق توڑ لیا۔ کیا میں اپنے حق میں ہوں، یا رشتہ توڑنے کا کوئی ایسا بوجھ ہے جسے میں نے سمجھا نہیں؟
Rishtaydar se taluq torna gunah
برسوں کی بدسلوکی، اور وہ بھی اپنے ہی کسی عزیز کی طرف سے، سہنا آسان نہیں۔ آپ نے کسی ایک دن بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ تعلق توڑ دینا ہے۔ جیسے ہاتھ آگ سے خود بخود پیچھے ہٹ جاتا ہے، ایسے ہی آپ آہستہ آہستہ الگ ہوتے گئے تاکہ تکلیف کم ہو۔ دل کا تھک جانا فطری بات ہے۔ لیکن آپ خود پوچھ رہے ہیں کہ کہیں کوئی ایسا بوجھ بھی ہے جو اب تک نظر نہیں آیا، تو آئیے دیکھ لیں کہ دین اِس نازک معاملے میں کیا راستہ دکھاتا ہے۔
رشتہ داری اللہ کے ہاں کوئی معمولی چیز نہیں۔ حضور ﷺ نے رشتہ کاٹنے کے بارے میں جو بات ارشاد فرمائی، وہ ہم پر سختی کے لیے نہیں، ایک بڑے نقصان سے بچانے کے لیے ہے:
”رشتہ کاٹنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۵۹۸۴ / مسلم ۲۵۵۶a) · مفہوم
یہ الفاظ آپ کو مجرم ٹھہرانے کے لیے نہیں، بلکہ یہ بتانے کے لیے ہیں کہ یہ تعلق آپ کے رب کے نزدیک کس قدر قیمتی ہے اور وہ اِسے کس قدر جڑا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ اور رشتہ داری کا مقام تو اللہ نے یہاں تک بیان فرمایا:
”رشتہ داری (رحم) عرش کے ساتھ معلق ہے، وہ کہتی ہے، جس نے مجھے جوڑا اللہ اُسے جوڑے گا، اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اُسے کاٹ دے گا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۵۵) · مفہوم
یعنی رشتے کی طرف بڑھایا ہوا ایک قدم بھی گویا اُس ڈور کو تھامنا ہے جو سیدھی عرش سے بندھی ہوئی ہے۔ اب ایک باریک بات سمجھ لیجیے، جس سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔ رشتہ جوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود کو دوبارہ اُسی تکلیف کے سامنے لا کھڑا کریں، یا بدسلوکی چپ چاپ سہتے رہیں۔ ہمارے علماء نے، اور نقشبندی مجددی سلوک نے بھی، ہمیشہ یہ فرق سکھایا ہے کہ تعلق کاٹ دینا ایک چیز ہے اور اپنی حفاظت کے لیے مناسب فاصلہ رکھنا دوسری چیز۔ رشتہ جوڑنا یہ ہے کہ دل میں اُس کے لیے بغض نہ ہو، کبھی کبھار خیریت پوچھ لی جائے، مشکل وقت میں مدد سے ہاتھ نہ روکا جائے، اور اُس کی ہدایت کی دعا ہوتی رہے۔ یہ سب فاصلے سے، اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے بھی ہو سکتا ہے۔ دین کو ناپسند دل کا مکمل کٹ جانا اور بغض پال لینا ہے، زخم سے بچنے کی احتیاط نہیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے رشتے کاٹنے کا ذکر زمین میں فساد کے ساتھ ملا کر فرمایا، تاکہ معلوم ہو جائے کہ اِس میں نقصان صرف دو افراد کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے:
”تو کیا تم سے یہ بعید ہے کہ اگر تمہیں اختیار ملے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے ناطے کاٹ ڈالو؟“
قرآن، سورۃ محمد ۴۷:۲۲ · مفہوم
تو اپنی حفاظت کا حق آپ سے کوئی نہیں چھینتا۔ جو بوجھ اب تک نظر سے اوجھل تھا، وہ صرف اِتنا ہے کہ دل کا دروازہ بالکل بند اور بغض سے بھرا نہ رہے۔ کنڈی لگا لیجیے، تالا نہ ڈالیے۔ اِتنا سا فرق آپ کو اُس دھاگے سے جڑا رہنے دے گا جو عرش سے بندھا ہوا ہے، اور جوڑنے کا اصل کام اللہ خود کر دے گا۔
ایک چھوٹا قدم: ابھی ملنے یا بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ آج ایک بار، دل میں یا سجدے میں، اُس رشتہ دار کے لیے صرف یہ دعا کر دیجیے، ”اے اللہ، اِسے ہدایت اور بھلائی عطا فرما۔“ یہ ایک دعا دل کے دروازے سے تالا اتار دے گی، اور آپ کو کسی تکلیف کے سامنے کھڑا بھی نہیں کرے گی۔
