Questions of the Heartدل کے سوال
Repentance & the Returnتوبہ اور واپسی

I keep committing the same sin, then repenting, then falling into it again. Doesn’t my tawbah become a joke to Allah after the hundredth time?میں بار بار وہی گناہ کرتا ہوں، پھر توبہ کرتا ہوں، پھر اسی میں جا گرتا ہوں۔ کیا سویں بار کے بعد میری توبہ اللہ کے نزدیک ایک مذاق بن کر نہیں رہ جاتی؟

No, it does not. You are imagining a ledger, and a Lord who by now has grown tired of you. But the Prophet, peace be upon him, was permitted to tell us of a servant who fell, repented, fell again, and repented again, more than once, and each time his Lord received him.

“A servant committed a sin and said: O Allah, forgive me my sin. Allah said: My servant has committed a sin and knew that he has a Lord who forgives sin and takes to account for sin. (This happened three times, and then Allah said:) Do what you wish, for I have forgiven you.”

Hadith Qudsi, Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 7507 / Muslim 2758b) · meaning

Notice what is actually being taught. Allah is not remarking on the sin. He is remarking on the heart that came back. Our scholars explain those closing words with care, and their explanation sits outside the narration itself: “do what you wish” is not a licence to sin, it means that so long as the servant keeps turning back, this door of forgiveness keeps opening for him. The one who keeps returning is the one who still knows he has a Lord, and it is that knowing which Allah is honouring here. Your hundredth tawbah is not a joke. It is evidence that faith in you is still alight.

There is a trap in this, and people who study human habits have even given it a name: one small slip makes a person think everything is ruined now, and so he abandons the whole effort. But the journey was never ended by the slip. It was ended by the despair that came after. A slip is a stumble. Despair is sitting down in the road and refusing to walk.

And against that sitting down, Allah Himself calls out:

“Say: O My servants who have transgressed against themselves, do not despair of the mercy of Allah. Indeed, Allah forgives all sins.”

Qur’an, Az-Zumar 39:53 · meaning

So the falling is not who you are. The rising is. Every time you turn back, you are doing the very thing your Lord invited you to do. Do not stop returning, and by His grace the habit itself will loosen its grip in time.

One small step: The next time you slip, before any other thought can settle, say once, “O my Lord, I have returned”, and do not let a single stumble argue you into stopping the walk.

آپ کے ذہن میں ایک حساب کی کتاب ہے اور یہ گمان ہے کہ اتنی بار لوٹنے کے بعد اب اللہ آپ سے بیزار ہو چکا ہو گا۔ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ توبہ مذاق تب بنتی جب واپسی کا دروازہ بند ہوتا، اور یہ دروازہ کبھی بند ہوا ہی نہیں۔

سنیے، رب اپنے گرتے سنبھلتے بندے کے ساتھ کیا معاملہ فرماتا ہے۔

”ایک بندے نے گناہ کیا، پھر کہا، اے میرے رب، مجھے میرا گناہ بخش دے۔ اللہ نے فرمایا، میرے بندے نے گناہ کیا، پھر اُس نے جان لیا کہ اُس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے۔ (یہ تین بار ہوا، پھر اللہ نے فرمایا،) اب تُو جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا۔“

حدیثِ قدسی، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۷۵۰۷ / مسلم ۲۷۵۸b) · مفہوم

غور کیجیے، بات گناہ کی گنتی کی نہیں ہو رہی، بات اُس دل کی ہو رہی ہے جو ہر بار پھر اسی دروازے پر آ گیا۔ اہلِ علم اس آخری جملے کی وضاحت بڑی احتیاط سے کرتے ہیں، اور یہ وضاحت حدیث کے الفاظ کا حصہ نہیں بلکہ اُن کی اپنی ہے، کہ ”جو چاہے کر“ گناہ کی اجازت نہیں، مطلب یہ ہے کہ جب تک بندہ لوٹ لوٹ کر توبہ کرتا رہے گا، بخشش کا یہ دروازہ اُس کے لیے کھلتا رہے گا۔ جو بار بار لوٹ آتا ہے، وہی جانتا ہے کہ اُس کا کوئی رب ہے، اور یہی جاننا اللہ کے ہاں قدر رکھتا ہے۔ سویں بار کی توبہ مذاق نہیں، اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان کا چراغ ابھی بجھا نہیں۔

ایک پھندا البتہ یہاں ضرور ہے، اور انسانی عادتوں پر کام کرنے والوں نے اسے نام بھی دیا ہے۔ ذرا سی پھسلن کے بعد آدمی سوچتا ہے کہ اب تو سب کچھ ضائع ہو گیا، اور پوری محنت چھوڑ بیٹھتا ہے۔ مگر سفر پھسلن سے نہیں ٹوٹا تھا، اُس مایوسی سے ٹوٹا جو بعد میں آئی۔ پھسلنا لڑکھڑانا ہے، اور مایوسی راستے میں بیٹھ جانا اور آگے چلنے سے انکار کر دینا ہے۔

اور اسی بیٹھ جانے سے بچانے کے لیے خود رب نے پکار کر فرمایا،

”کہہ دیجیے، اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر حد سے بڑھ کر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے کے سارے گناہ بخش دیتا ہے۔“

قرآن، سورۃ الزمر ۳۹:۵۳ · مفہوم

تو گرنا آپ کی پہچان نہیں، اُٹھنا آپ کی پہچان ہے۔ جب بھی آپ لوٹتے ہیں، وہی کرتے ہیں جس کی دعوت آپ کے رب نے خود دی ہے۔ لوٹنا نہ چھوڑیے، اور اللہ کے فضل سے ایک دن اس عادت کی گرفت خود ڈھیلی پڑ جائے گی۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار پھسلن ہو تو کوئی دوسرا خیال جمنے سے پہلے صرف ایک بار دل سے کہیے، “یا رب، میں لوٹ آیا ہوں”، اور ایک لڑکھڑانے کو یہ نہ کہنے دیجیے کہ اب چلنا ہی چھوڑ دو۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔