جب میرا بچہ یا چھوٹا بہن بھائی بار بار وہی غلطی دہراتا ہے تو میرا صبر جواب دے جاتا ہے۔ مجھے حقیقت میں کتنی بار درگزر اور معافی دینی چاہیے؟
Baar baar ghalti par darguzar
صبر جواب دے جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ محبت کم ہو گئی ہے۔ مطلب عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ آدمی دیتا بہت دیر سے چلا آ رہا ہے اور اب تھک چکا ہے۔ تھکن عیب نہیں، اور اس کا علاج خود کو ملامت کرنا بھی نہیں۔ رہا یہ سوال کہ کتنی بار درگزر کیا جائے، تو یہی بات ایک صحابی نے حضور ﷺ سے پوچھی تھی۔ اپنے خادم کی خطاؤں کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ خاموش رہے، دوبارہ پوچھا تو ارشاد فرمایا:
”اسے ہر روز ستّر بار معاف کر دیا کرو۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ابو داؤد (۵۱۶۴) · مفہوم
ستّر بار روز، عمر بھر میں نہیں۔ اور مقصود گنتی بتانا بھی نہیں تھا۔ کہنا یہ تھا کہ معافی کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ اب سوچیے، جب ایک خادم کے بارے میں یہ بات ہے تو اپنا بچہ، اپنا چھوٹا بہن بھائی، اس نرمی کا کتنا زیادہ حق دار ہے۔ ایک ہی غلطی بار بار دہرانا سرکشی نہیں، سیکھنے کی عمر کا فطری انداز ہے۔ بچہ گرتا ہے، اٹھتا ہے، پھر گرتا ہے، اور اسی طرح چلنا سیکھ جاتا ہے۔
قرآن نے یہی بات ایک مکمل طریقے کی صورت میں سکھا دی ہے۔
”درگزر کو اختیار کیجیے، بھلائی کا حکم دیجیے، اور جاہلوں سے منہ پھیر لیجیے۔“
قرآن، سورۃ الاعراف ۷:۱۹۹ · مفہوم
ترتیب پر غور کیجیے۔ پہلے درگزر، کیونکہ اس سے اپنا دل ٹھکانے آتا ہے۔ اس کے بعد بھلائی کی طرف رہنمائی، جو ٹھنڈے دل ہی سے اثر کرتی ہے۔ اور آخر میں منہ پھیر لینا، یعنی جہاں بات بڑھ رہی ہو وہاں کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹ جانا۔ یہ ہار ماننا نہیں، اپنے مزاج کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے۔
اور جو کام سختی سے نہیں ہوتا، وہ نرمی سے کیوں ہو جاتا ہے۔ اس کی جڑ یہ ہے۔
”بے شک اللہ نرم ہے اور ہر معاملے میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۹۲۷ / مسلم ۲۵۹۳) · مفہوم
سختی سے بات وقتی طور پر مان بھی لی جائے تو دل نہیں بدلتا، اور جو تربیت دل تک نہ پہنچے وہ ٹھہرتی نہیں۔ نرمی دل کھولتی ہے، اور وہیں سے اصل تبدیلی شروع ہوتی ہے۔ عادتوں پر کام کرنے والے بھی یہی دیکھتے ہیں کہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بار بار سمجھانا سیکھنے والے کو وہ اطمینان دیتا ہے جس میں پرانی عادت چھوٹنے لگتی ہے، اور بڑھتی ہوئی سزا زیادہ تر چھپانا سکھا دیتی ہے۔ تو آپ کا صبر ضائع نہیں جا رہا، وہی زمین تیار کر رہا ہے جس میں تبدیلی اگتی ہے۔ اور جب اپنا حوصلہ کم پڑنے لگے تو اُسی سے مانگ لیجیے جسے نرمی پسند ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی بار وہی غلطی سامنے آئے تو بولنے سے پہلے ایک سانس لیجیے، اور اسی سانس میں دل ہی دل میں کہیے، ”اے اللہ، اس معاملے میں مجھے نرم کر دے۔“
