جب میں کسی سودے میں زبان دے دوں اور پھر کہیں زیادہ بہتر پیشکش آ جائے، تو کیا میں اپنے پہلے وعدے کا پابند ہوں یا بہتر لینے میں آزاد ہوں؟
Zaban dene ke baad behtar sauda
زبان دے چکنے کے بعد جب اس سے بہتر پیشکش سامنے آ جائے تو دل ڈول جاتا ہے، اور یہ آزمائش کاروبار کرنے والے ہر شخص پر کبھی نہ کبھی آتی ہے۔ پہلے یہ طے کر لو کہ دی ہوئی زبان کی حیثیت کیا ہے، باقی بات خود ہی صاف ہو جائے گی۔
جب تم نے کسی کو زبان دی اور معاملہ طے کر لیا، تو اب یہ صرف دو آدمیوں کا لین دین نہیں رہا، اللہ کی ذات بھی اس پر گواہ ہو گئی۔ اہلِ ایمان کو معاملات کے باب میں سب سے پہلا حکم یہی دیا گیا۔
”اے ایمان والو! اپنے عہد اور معاہدے پورے کرو۔“
قرآن، سورۃ المائدہ ۵:۱ · مفہوم
غور کرو، پکارا اہلِ ایمان کہہ کر گیا اور بات عہد پورا کرنے کی ہوئی، گویا وعدے کی پاسداری ایمان ہی کا حصہ ہے۔ اور وعدہ کوئی ہلکا لفظ نہیں جو ہوا میں بہہ جائے، یہ ایک امانت ہے جس کے بارے میں کل باز پرس ہو گی۔
”اور وعدہ پورا کرو، بےشک وعدے کے بارے میں (قیامت کے دن) پوچھا جائے گا۔“
قرآن، سورۃ الاسراء ۱۷:۳۴ · مفہوم
جب یہ خیال دل میں بیٹھ جائے کہ ہر وعدے کا حساب دینا ہے، تو قدم خود جم جاتے ہیں۔ آج کے بہتر سودے میں جو چند سکے زیادہ ملتے ہیں، وہ اُس اطمینان کے آگے کچھ نہیں جو وعدہ نبھانے پر دل کو نصیب ہوتا ہے۔
حضور ﷺ نے معاملات کا ایک ایسا اصول عطا فرمایا ہے جس پر صدیوں سے سچے تاجروں کے قدم جمے ہوئے ہیں۔
”مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہوتے ہیں۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ابو داؤد (۳۵۹۴) · مفہوم
معاہدے میں لکھی ہوئی شرط ہو یا دروازے پر کھڑے کھڑے دی ہوئی زبان، مومن کا مزاج دونوں جگہ ایک ہی رہتا ہے، کہ جو ایک بار طے کر لیا، اسے نبھانا ہے۔ جس آدمی کے بارے میں لوگ جان لیں کہ اس نے ایک بار کہہ دیا تو اب پھرے گا نہیں، اسی کا اعتبار اس کا سب سے بڑا سرمایہ بن جاتا ہے۔ بار بار بات بدلنے والے سے دنیا کا بھروسہ اٹھ جاتا ہے، اور بھروسہ ایک بار ٹوٹے تو عمر بھر کی کمائی سے بھی واپس نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں وعدہ نبھانے والا وقتی طور پر تھوڑا کھو کر بھی دلوں کو ہمیشہ کے لیے جیت لیتا ہے۔
سو پہلا وعدہ ہی اصل آزادی ہے۔ آزادی یہ نہیں کہ آدمی جب چاہے اپنی بات سے پھر جائے، آزادی یہ ہے کہ اسے ہر نئی چمکتی پیشکش کے پیچھے دوڑنا نہ پڑے۔ بہتر پیشکش کو نرمی سے رخصت کر دو اور اپنے قول پر قائم رہو۔ جو رزق وعدے کی خاطر چھوڑا جاتا ہے، اللہ اسے کسی اور صاف راستے سے، زیادہ برکت کے ساتھ لوٹا دیتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج جہاں کہیں کسی کو زبان دے رکھی ہے، اسے یاد کرو، اور اگر دل میں اسے بدلنے یا ٹالنے کا خیال آ رہا ہے تو ابھی طے کر لو کہ بہتر پیشکش آئے یا نہ آئے، اپنا پہلا وعدہ پورا کرو گے۔ اور دل میں کہو، “یا اللہ، میری زبان کو میرے ایمان کا آئینہ بنا دے۔”
