میں صدقہ کرتا ہوں پھر بھی اپنے پیسے سے دل کا لگاؤ محسوس کرتا ہوں۔ دولت کی جو گرفت میرے دل پر ہے، اُسے میں کیسے ڈھیلا کروں؟
Sadqa ke bawajood paise se lagao
مال سے دل کا لگاؤ کوئی عیب نہیں، یہ انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔ ہاتھ کھولنا نسبتاً آسان ہے، مٹھی کے ساتھ دل کو کھولنے میں وقت لگتا ہے۔ اور یہ کام ایک ہی جھٹکے میں نہیں ہوتا، تھوڑا تھوڑا ہوتا ہے۔
دین نے ہم سے یہ نہیں کہا کہ مال سے نفرت کرو یا اُسے پھینک دو۔ بات صرف اتنی ہے کہ مال ہاتھ میں رہے، دل میں نہ اترے۔ قرآن نے وہ جگہ بتا دی ہے جہاں یہ گرہ کھلتی ہے۔
”تم ہرگز نیکی کو نہ پہنچو گے جب تک اُس چیز میں سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے۔“
قرآن، سورۃ آل عمران ۳:۹۲ · مفہوم
غور کیجیے، محبت کو دل سے نکال دینے کا حکم نہیں دیا گیا، فرمایا یہ گیا کہ محبوب چیز میں سے کچھ راہِ خدا میں دے دو۔ فاضل رقم، جس کے جانے کا احساس بھی نہیں ہوتا، دل کو وہیں رکھتی ہے جہاں وہ پہلے تھا۔ تربیت اُس وقت ہوتی ہے جب آدمی اپنی پسند کی چیز میں سے دیتا ہے، کیونکہ تب دل کو یہ سبق ملتا ہے کہ میں اپنے سامان سے بڑی چیز ہوں۔ اور جو خدشہ بہت سے ہاتھ روک لیتا ہے، اُسے نبی کریم ﷺ نے یوں دور فرما دیا۔
”کوئی صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۸۸) · مفہوم
ظاہری آنکھ اتنا ہی دیکھتی ہے کہ ہاتھ سے کچھ نکل گیا، حساب اِس سے آگے کا ہے۔ جو دیا گیا، اُس کے بدلے برکت، سکون اور بقا رکھ دی جاتی ہے۔ آج کے ماہرینِ نفسیات نے بھی ایک دلچسپ بات نوٹ کی ہے کہ دینے کے وقت دماغ کے وہی حصے حرکت میں آتے ہیں جو کچھ ملنے پر آتے ہیں، اور جب دینا اپنی مرضی سے ہو تو یہ اثر زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ کھلا ہاتھ جو ہلکا پن محسوس کرتا ہے، بند مٹھی اُس سے واقف ہی نہیں۔ یعنی دل دینے سے نرم پڑتا ہے، دانت پیس کر لگاؤ کم کرنے کی کوشش سے نہیں۔ لگاؤ زور سے نہیں جاتا، بہنے سے جاتا ہے۔
پھر یہ بھی سامنے رہے کہ مال بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا، وہ امانت ہے اور پرچہ بھی۔
”بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔“
قرآن، سورۃ التغابن ۶۴:۱۶ · مفہوم
جب یہ بات دل میں اتر جاتی ہے کہ یہ سب عارضی طور پر میرے سپرد ہوا ہے اور دیکھا یہ جا رہا ہے کہ میں اِسے کیسے برتتا ہوں، تو مٹھی خود ہی ڈھیلی پڑنے لگتی ہے۔ ہمارے بزرگ مال کو دل پر نہیں، ہاتھ پر رکھتے تھے۔ آپ بھی جلدی نہ کیجیے، اپنے دل پر سختی بھی نہ کیجیے۔ ہر بار جب محبت کے باوجود دیا جاتا ہے، ایک کڑی ٹوٹتی ہے، اور ایک دن آدمی خود کو آزاد اور سبک محسوس کرتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اِس ہفتے کوئی ایک ایسی چیز چُنیے جو آپ کو واقعی پسند ہو، فاضل ریزگاری نہیں، اور خاموشی سے، بغیر کسی کو بتائے، کسی ضرورت مند کے لیے راہِ خدا میں دے دیجیے۔ دیتے وقت دل میں یہ کہیے، ”یا اللہ، یہ تیرا ہی تھا۔“ پھر دیکھیے ہاتھ کتنا ہلکا لگتا ہے۔
