میں نے یہ الزام سنا ہے کہ صوفی وجد اور ذکر میں اِس قدر کھو جاتے ہیں کہ پانچ وقت کی نماز اور ظاہری فرائض سے غافل ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ خوف بجا ہے؟
Sufi wajd aur namaz ki pabandi
جو خدشہ آپ نے سنا ہے، اس کی جڑ اِس راستے کی غلط سمجھ میں ہے۔ ہمارے اکابر کے طریقے میں ذکر نماز کا مقابل نہیں، نماز ہی کی خوشبو ہے۔ جسے ذکر کی مٹھاس نصیب ہو جائے، اُس کا جی نماز سے اور زیادہ لگتا ہے، کم نہیں ہوتا۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ہی سانس میں یوں جوڑ دیا
”اور نماز قائم کیجیے، بے شک نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔“
قرآنِ کریم، سورۃ العنکبوت ۲۹:۴۵ · مفہوم
یہاں نماز اور ذکر دو الگ الگ راستے نہیں۔ پہلے نماز کا حکم آیا، اور پھر اسی نماز کے اندر سب سے بڑا ذکر دکھا دیا گیا۔ تو نماز کوئی رسم نہیں جس سے سالک آگے نکل جائے، وہ خود سیڑھی ہے، اور اِس چڑھائی کا ہر زینہ پانچ وقتوں میں سے ایک وقت ہے۔ جس گھر میں یہ پانچ ستون نہ ہوں، وہ سجاوٹ کے باوجود کھڑا نہیں رہتا۔
اور حضرت موسیٰ کو خود رب کریم نے یہ بات سمجھائی کہ نماز ہی ذکر کا ظرف ہے
”اور میری یاد کے لیے نماز قائم کیجیے۔“
قرآنِ کریم، سورۃ طٰہٰ ۲۰:۱۴ · مفہوم
غور کیجیے، نماز کا مقصد ذکر بتایا گیا، اور ذکر کی معراج نماز کے اندر رکھ دی گئی۔ سچے تصوف میں پانچ نمازیں درخت کا تنا ہیں اور ذکر اُس میں دوڑنے والا رس، ایک کے بغیر دوسرے کا وجود نہیں۔ سچی نقشبندی راہ، جو حضرت شیخ شہزاد عارف صاحب کے فیض سے ہم تک پہنچی، اُس کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ جو ذکر شریعت کے آنگن سے باہر لے جائے، وہ ذکر نہیں۔ اگر کوئی حلقہ شریعت کی گرفت ڈھیلی کر کے یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ نماز سے آگے نکل گیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ راستے سے ہٹ گیا ہے، اوپر نہیں چڑھا۔ اِس راہ کے کامل لوگ تو نماز کی پابندی ہی کے سبب پہچانے جاتے تھے۔
ساری بات ایک سادہ ترازو میں رکھ لیجیے۔ پہلا کام درست عقیدہ اور سچی فرمانبرداری ہے، اور باقی سب کچھ اِس کے ساتھ ایک تحفہ ہے، اِس کی جگہ لینے والی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ عمل کے ساتھ ذوق اور کیفیت بھی عطا فرما دے تو شکر کیجیے، اور عمل عطا فرمائے مگر کیفیت نہ ملے تو بھی شکر کیجیے اور راضی رہیے، اِس لیے کہ جو چیز آدمی کو حقیقت میں منزل تک پہنچاتی ہے، وہ آپ کو مل چکی ہے۔ جو ذوق نماز کو پیچھے چھوڑ کر آئے، وہ بلندی نہیں، خالی ڈبے پر لپٹا ہوا خوبصورت کاغذ ہے۔
اِس لیے اِس الزام کو دل پر نہ لیجیے۔ دل جتنا اللہ کے قریب ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی نمازوں کے وقتوں کی نگہبانی کرتا ہے، کیونکہ عاشق کو محبوب سے ہر ملاقات کی تڑپ رہتی ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی نماز کے لیے دو منٹ پہلے مصلّے پر بیٹھ جائیے، اور تکبیر سے پہلے دل ہی دل میں آہستہ سے تین بار کہیے، “یا اللہ، یہ ملاقات میرے لیے آسان اور میٹھی کر دے۔”
