میرا کام حلال تو ہے مگر اخلاقی طور پر دھندلا سا ہے اور ماحول بہت سفاک ہے۔ ایک مقابلے بازی والی صنعت میں، میں ایماندار اور اللہ کے قریب کیسے رہوں؟
Muqable wale kaam mein imandari
جس فضا میں آپ کام کرتے ہیں وہ واقعی دھندلی ہے، اور یہ دھندلاہٹ آپ کو کھٹکتی ہے تو یہ کوئی کمزوری نہیں۔ جس کا ضمیر سو جائے، اُسے تو کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسے ماحول میں، جہاں دیانت کا کوئی انعام نہیں، آدمی اپنی دیانت پر قائم کیسے رہے۔ اِس کا جواب موجود ہے۔
ہمارے آقا ﷺ نے بازار کو کوئی گھٹیا جگہ نہیں کہا جہاں آدمی بس اپنی جان بچاتا ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ ایک ہی سودے میں برکت اُتر بھی سکتی ہے اور چپکے سے نکل بھی سکتی ہے، اور فرق صرف اِتنا ہے کہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے سے سچ بولا یا نہیں۔
”بیچنے والے اور خریدنے والے کو اُس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ پس اگر دونوں نے سچ بولا اور سامان کے عیب اور خوبیاں کھول کر بیان کر دیں تو اُن کے سودے میں برکت رکھ دی جاتی ہے، اور اگر اُنہوں نے جھوٹ بولا یا کوئی بات چھپا لی تو اُن کے سودے کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۲۰۷۹) و صحیح مسلم (۱۵۳۲a) · مفہوم
اِس بات کو ذرا ٹھہر کر دیکھیے۔ سفاک بازار سودے کو ایک ہی پیمانے پر ناپتا ہے، کہ اِس میں سے کتنا نکال لیا گیا۔ مگر اللہ اُس چیز کا ذکر فرماتا ہے جو کسی کھاتے میں لکھی نہیں جاتی، یعنی وہ برکت جو کمائی میں بیٹھ جاتی ہے یا اُس میں سے نکل جاتی ہے۔ دو آدمی ایک ہی دن ایک ہی رقم کا سودا کر لیں، مگر گھر تک باقی رہ جانے والی چیز اُن میں سے ایک ہی لے جاتا ہے۔ مقابلہ اپنی جگہ حقیقت ہے، لیکن ہو سکتا ہے آپ اور آپ کے حریف دو الگ ترازوؤں پر تول رہے ہوں، اور سچا ترازو آپ کے ہاتھ میں ہو۔
جس بات کو یہ ماحول ”ذرا سی رعایت“ کہتا ہے، یا پلڑا اپنی طرف ہلکا سا جھکا لینا سمجھتا ہے، قرآن اُسے بڑی سنجیدگی سے لیتا ہے، اور اِس لیے لیتا ہے کہ دیانت دار آدمی آہستہ آہستہ اِس دلدل میں اُترتا نہ چلا جائے۔
”تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو لوگوں سے لیتے وقت پورا پورا وصول کرتے ہیں، اور جب اُنہیں ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیتے ہیں۔“
قرآن، سورۃ المطففین ۸۳:۱-۳ · مفہوم
اِسے اپنی طرف اُٹھی ہوئی انگلی نہ سمجھیے، آپ تو وہی ہیں جو اِس سے نکلنا چاہ رہے ہیں۔ اِسے وہ چراغ سمجھیے جو اللہ نے کہر میں لٹکا دیا ہے، تاکہ جب چاروں طرف سے آواز آئے کہ پلڑا تو سب ہی ذرا سا جھکاتے ہیں، آپ کو لکیر صاف دکھائی دے اور آپ واپس اُس کے اِس طرف آ جائیں۔ اور پھر اللہ نے وہ حد بھی خود مقرر فرما دی جس کے اندر رہ کر ہر لین دین صاف رہتا ہے۔
”اے ایمان والو، ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ آپس کی رضامندی سے تجارت ہو۔“
قرآن، سورۃ النساء ۴:۲۹ · مفہوم
پورا قاعدہ اِسی ایک جملے میں آ گیا، آپس کی رضامندی کی تجارت، یعنی ایسا سودا جس میں دوسرا فریق سب کچھ جان لینے کے بعد بھی راضی رہے۔ یہی ایک کسوٹی سنبھال لیجیے، پھر سو مسئلے یاد رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اِس راستے میں دنیا کا فائدہ بھی ہے، کیونکہ دیانت کا نام سرمائے کی طرح بڑھتا رہتا ہے، اور لوگ برسوں بعد بھی اُسی کے پاس لوٹ کر آتے ہیں جس پر بھروسہ ہو۔ مگر یہ چھوٹا فائدہ ہے۔ بڑا فائدہ وہی برکت ہے جس کا ذکر اوپر ہوا، جو نہ کسی سہ ماہی حساب میں تلتی ہے اور نہ کسی چالاکی سے پیدا کی جا سکتی ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج اپنے کام میں ایک ایسا معاملہ چُن لیجیے جہاں آپ چاہتے تو ذرا سا فائدہ اُٹھا سکتے تھے، اور وہاں جان بوجھ کر سچ اور دیانت کا راستہ اختیار کیجیے، صرف اللہ کی رضا کے لیے۔
