کیا خالص اللہ کے لیے کیا گیا ایک چھوٹا سا عمل واقعی سو بڑے دکھاوے کے اعمال سے زیادہ قیمتی ہے؟
Chota amal ikhlaas ke saath
جواب صاف ہے۔ خالص اللہ کے لیے کیا گیا ایک ننھا سا عمل دکھاوے کے سو بڑے بڑے کاموں سے کہیں بھاری ہے۔ اللہ کے ہاں اعمال گنے نہیں جاتے، پرکھے جاتے ہیں، اور کسوٹی ایک ہی ہے، نیّت کا کھرا پن۔
یہی بات ہے جو حضور ﷺ نے دین کے دروازے پر ہی رکھ دی:
”اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اُس نے نیت کی۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۱ / مسلم ۱۹۰۷a) · مفہوم
جب پیمانہ نیّت ہوا تو ظاہر کی بڑائی خود بخود بےمعنی ہو گئی۔ جو کام دیکھنے میں بہت شاندار ہے مگر اندر سے لوگوں کی نظروں کے لیے ہے، وہ سونے کا ایسا چراغ ہے جس میں لَو نہیں، دیکھنے میں بھلا، مگر روشنی سے خالی۔ اور جو چھوٹا سا کام چپکے سے، صرف رب کی رضا کے لیے ہو، وہ مٹی کا وہ دیا ہے جو جل رہا ہے اور سارا کمرہ روشن کیے ہوئے ہے۔ رب کریم برتن کا حجم نہیں دیکھتا، وہ یہ دیکھتا ہے کہ اندر روشنی ہے یا نہیں۔
اور دیکھیے، خود قرآن نے زندگی اور موت کا مقصد کن لفظوں میں بیان کیا۔ یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا تاکہ دیکھیں کون سب سے زیادہ ڈھیر لگاتا ہے:
”وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل کے اعتبار سے سب سے اچھا کون ہے۔“
قرآن، سورۃ الملک ۶۷:۲ · مفہوم
ایک لفظ پر ٹھہریے۔ فرمایا ”سب سے اچھے عمل والا“، یہ نہیں فرمایا ”سب سے زیادہ عمل والا“۔ مطلوب کثرت نہیں، حُسن ہے، اور عمل کا حُسن اُسی اخلاص سے پیدا ہوتا ہے جو اُسے صرف اللہ کے لیے کر دے۔ اسی لیے مصروف زندگی اور خاموش زندگی، دونوں اُس کے ہاں برابر ہیں، اور جس کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں مگر دل کھرا ہے، وہ اُس سے آگے نکل سکتا ہے جس کے اعمال دنیا کی آنکھوں میں سمائے ہوئے ہیں۔ سب کچھ کرنا لازم نہیں، ایک کام کھرا کر لینا کافی ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج کوئی ایک چھوٹی سی نیکی ایسی کیجیے جس کا کسی کو پتا نہ چلے، کسی کو پانی پلا دینا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا، یا چپکے سے کچھ دے دینا، اور کرتے وقت دل میں صرف اتنا کہیے، ”یا اللہ، یہ فقط تیرے لیے ہے۔“
