دل کے سوال

جب کوئی میرے منہ پر میری عبادت کی تعریف کرتا ہے تو جو خوشی محسوس ہوتی ہے وہ مجھے پریشان کر دیتی ہے۔ کیا صرف اس خوشی کو محسوس کرنا ریا میں شمار ہوتا ہے؟

Tareef par khushi kya riya hai

جو جذبہ بن بلائے دل میں آ جائے، وہ گناہ نہیں ہوتا۔ عبادت آپ نے کی، تعریف کسی نے کر دی، اور دل کو ایک لمحے کے لیے اچھا لگ گیا۔ اِسی پر آپ کو اپنے دل پر شک ہونے لگا۔ حالانکہ یہ خوشی آپ کے اختیار میں تھی ہی نہیں، اور جو چیز اختیار میں نہ ہو، اُس پر پکڑ بھی نہیں ہوتی۔ جیسے کسی کے پاس سے خوشبو گزر جائے تو سانس لینا قصور نہیں بن جاتا۔

ایک بار حضور نبی کریم ﷺ سے اُس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نیک کام کرے اور لوگ اُس کی تعریف کریں۔ ارشاد فرمایا:

”یہ تو مومن کے لیے پہلے سے مل جانے والی خوشخبری ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۶۴۲a) · مفہوم

یعنی تعریف کو داغ نہیں، بشارت کہا گیا۔ اور جب تعریف خود عمل پر داغ نہیں، تو کان تک پہنچنے پر دل میں اٹھنے والی بے ساختہ خوشی داغ کیونکر ہو؟ ریا اِس کا نام ہے کہ عبادت ہی دکھانے کے لیے کی جائے، یعنی نیت کے پہلے ہی قدم پر مخلوق شریک ہو جائے۔ آپ کا معاملہ اِس کے برعکس ہے۔ عبادت خالص اللہ کے لیے تھی، تنہائی میں تھی، اور تعریف بعد میں، بن مانگے، خود آ گئی۔ اُس پر دل کا خوش ہو جانا انسانی بات ہے۔ اندیشہ تب ہوتا ہے جب آدمی اِسی خوشی کے پیچھے چلنے لگے، اور آپ کی یہی فکر بتا رہی ہے کہ آپ اُس کے پیچھے نہیں چل رہے۔

ہاں، ایک بات کا دھیان رہے۔ خطرہ خوشی میں نہیں، اُس کے بعد بننے والے خیال میں ہے، کہ دل میں یہ گانٹھ نہ بندھ جائے کہ میں تو خاصا نیک ہوں۔ قرآن نے ٹھیک اِسی جگہ ہاتھ رکھا ہے:

”پس تم اپنی پاکیزگی کے دعوے نہ کرو، وہی خوب جانتا ہے کہ کون پرہیزگار ہے۔“

قرآن، سورۃ النجم ۵۳:۳۲ · مفہوم

اپنے دل کا فیصلہ خود کرنا آپ کے ذمے نہیں۔ ہر آنے جانے والے خیال کو تول کر یہ طے کرنا کہ میں پاک ہوں یا نہیں، یہ بوجھ آپ پر رکھا ہی نہیں گیا۔ یہ آیت اِس سوال کو ہمارے ہاتھ سے لے کر اُس ذات کے سامنے رکھ دیتی ہے جو دل کو ہم سے بہتر جانتی ہے۔ سو خوشی آئے تو آنے دیجیے، اور پھر اُسے اُسی کے حوالے کر دیجیے۔ پاک کرنا اُس کا کام ہے۔ راستہ یہی ہے کہ ہر جذبے کو دبایا نہ جائے، بس اُس کا رخ چپکے سے اُس کی طرف موڑ دیا جائے جس نے وہ جذبہ دیا۔

ایک چھوٹا قدم: تعریف پر دل خوش ہو تو اُس سے لڑیے نہیں۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر آہستہ سے کہہ دیجیے، “یا اللہ، میں اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا، تُو خود مجھے پاک کر دے۔” پھر بات وہیں چھوڑ دیجیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔