Questions of the Heartدل کے سوال
Repentance & the Returnتوبہ اور واپسی

Is there really a difference between falling down on the path and falling off it altogether? Because when I slip, it feels like I’ve left the road completely.کیا واقعی راستے پر گر جانے اور راستے سے بالکل ہٹ جانے میں کوئی فرق ہے؟ کیونکہ جب میں پھسلتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں سڑک سے بالکل نکل گیا ہوں۔

Yes, there is a difference, and it is not a small one. Stumbling on the road and leaving the road are two different things, and Shaytan works hard to make them look like one.

Think of a traveller walking a long road toward a city he loves. Sometimes his foot catches on a stone and he falls. But falling is not the same as turning around and walking back the way he came. The one who has fallen is still facing the city. He is still a traveller. He has only to rise and take the next step. And notice how the Prophet spoke of this weakness in us:

“By Him in Whose Hand is my soul, if you were not to commit sin, Allah would take you away and would bring a people who commit sin, then seek forgiveness from Allah, and He would forgive them.”

The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2749) · meaning

He was not making light of sin. He was telling us something about how we are made and how Allah deals with us. Slipping and then turning back is part of being human, and Allah’s forgiving is placed right beside it. So a slip does not prove that you have left the road. It proves that you are made of clay, and the One who shaped that clay knew this about you long before you did. The stumble is human. The rising is where your worth lies.

And look at how Allah describes the one who returns:

“And those who, when they do a shameful deed or wrong themselves, remember Allah and seek forgiveness for their sins.”

Qur’an, Al-Imran 3:135 · meaning

These are not people who never fall. These are people for whom the fall itself becomes a door. The moment of the slip is the moment they remember Him. Handled that way, a slip turns you back toward Him instead of away. The road did not disappear from under you. You tripped on it, and the hand that helps you up was there the whole time.

So when the feeling comes, “I have left the road completely,” know what it is: a heavy feeling, not a fact. The fact is that you are still a traveller, still facing the city.

One small step: The next time you slip, before any long guilt has a chance to settle, simply whisper “astaghfirullah” once and take one small good deed straightaway, even a single sujud. Let the very moment of falling become your turning back.

فرق ہے، اور بڑا فرق ہے۔ راستے پر ٹھوکر کھا کر گر جانا ایک بات ہے اور راستہ چھوڑ دینا دوسری بات۔ شیطان کی ساری کوشش یہی ہوتی ہے کہ یہ دونوں تمہیں ایک ہی دکھائی دیں، ایک لغزش ہوئی اور دل میں یہ بیٹھ جائے کہ اب سب ختم ہو گیا۔

ایک مسافر کو دیکھو جو اپنے شہر کی طرف چلا جا رہا ہے۔ پاؤں پتھر سے ٹکرایا اور وہ گر پڑا۔ مگر گر جانا اور پلٹ کر اُلٹی سمت چل دینا، دونوں ایک نہیں۔ جو گرا ہے اُس کا رخ اب بھی شہر ہی کی طرف ہے، وہ اب بھی مسافر ہے، اُسے صرف اٹھ کر اگلا قدم رکھنا ہے۔ اور دیکھو، نبی کریم ﷺ نے ہماری اسی کمزوری کا ذکر کس انداز میں فرمایا۔

”اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں لے جائے اور ایسے لوگ لے آئے جو گناہ کریں، پھر اللہ سے مغفرت مانگیں، اور وہ اُنہیں بخش دے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۷۴۹) · مفہوم

حضور ﷺ گناہ کو ہلکا نہیں کر رہے۔ وہ یہ بتا رہے ہیں کہ ہمارے خمیر میں کیا رکھا گیا ہے اور اللہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ فرماتا ہے۔ خطا کر بیٹھنا اور پھر پلٹ آنا انسان کی سرشت میں رکھ دیا گیا ہے، اور اللہ کا بخش دینا اُسی کے ساتھ ہی رکھ دیا گیا ہے۔ تو ایک لغزش اِس کا ثبوت نہیں کہ تم راستے سے نکل گئے، بلکہ اِس کا ثبوت ہے کہ تم انسان ہو۔ اور جس نے یہ مٹی گوندھی ہے، وہ تمہاری اس کمزوری کو تم سے پہلے جانتا تھا۔ گرنا انسان کا حصہ ہے، اٹھنا اُس کی عزت ہے۔

اور اللہ نے پلٹنے والوں کا نقشہ کس طرح کھینچا ہے، ذرا اسے دھیان سے پڑھو۔

”اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کا کام کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔“

قرآن، سورۃ آلِ عمران ۳:۱۳۵ · مفہوم

غور کرو، یہ وہ لوگ نہیں جن سے خطا ہی نہیں ہوتی، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے خطا ہی دروازہ بن جاتی ہے۔ جس لمحے پھسلے، اُسی لمحے رب یاد آ گیا۔ اس طرح سنبھالی جائے تو لغزش تمہیں اللہ سے دور نہیں کرتی، اُسی کی طرف موڑ دیتی ہے۔ راستہ تمہارے قدموں کے نیچے سے غائب نہیں ہوا، تم نے اُسی پر ٹھوکر کھائی ہے، اور جو ہاتھ اٹھانے کے لیے بڑھتا ہے وہ پہلے سے موجود تھا۔

اس لیے جب یہ خیال آئے کہ ”میں تو راستے سے بالکل نکل گیا ہوں“، تو جان لو کہ یہ ایک بھاری احساس ہے، حقیقت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تم اب بھی مسافر ہو اور تمہارا رخ اب بھی منزل ہی کی طرف ہے۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار لغزش ہو تو پچھتاوے میں بیٹھنے سے پہلے ہی، دل ہی دل میں تین بار “اَستغفِرُ اللہ” کہو اور فوراً کوئی ایک نیک کام کر لو، ایک سجدہ ہی کر لو، تاکہ گرنے کا وہی لمحہ پلٹنے کا لمحہ بن جائے۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔