میں بار بار سنتا ہوں کہ جو رحم میں دوسروں پر کرتا ہوں وہی رحم مجھے اللہ سے ملے گا۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے، اور کیا رحم کرنا میری اپنی تقدیر بدل سکتا ہے؟
Doosron par reham aur Allah ka reham
ہاں، بات واقعی ایسی ہی ہے۔ جو نرمی ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، وہ ضائع نہیں ہوتی، پلٹ کر ہمارے ہی حصے میں آتی ہے۔ اور دین میں جو بات سب سے زیادہ حوصلہ دیتی ہے، وہ یہی ہے کہ اللہ کی جس رحمت کے ہم طلب گار ہیں، اُس کا ایک سرا ہمارے اپنے ہاتھ میں رکھ دیا گیا ہے۔
آقا ﷺ نے یہ اصول بالکل صاف لفظوں میں بیان فرما دیا:
”رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔“
نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی و ابو داؤد (ترمذی ۱۹۲۴ / ابی داؤد ۴۹۴۱) · مفہوم
دیکھیے، بات کتنی سیدھی ہے۔ رحم آپ سے مخلوق کی طرف جاتا ہے اور اوپر سے رحمت آپ پر اُترتی ہے۔ یہ کسی بند دروازے پر دستک نہیں، ایک راستہ کھولنا ہے۔
اور ایک چھوٹے سے عمل کی پہنچ کہاں تک ہے، یہ بھی سن لیجیے۔ آپ ﷺ نے ایک ایسی عورت کا ذکر فرمایا جسے دنیا نے کسی گنتی میں نہ رکھا تھا، اور پانی کے ایک گھونٹ نے اُس کا انجام بدل دیا:
”ایک بدکار عورت کی اِسی وجہ سے بخشش کر دی گئی کہ اُس نے ایک پیاس سے مرتے ہوئے کتے کو پانی پلا دیا۔“
نبی کریم ﷺ · صحیح بخاری (۳۳۲۱) · مفہوم
اور ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ نے اِسی دروازے کا دوسرا رخ سامنے رکھ دیا:
”ایک عورت ایک بلی کے سبب آگ میں داخل ہوئی، جسے اُس نے باندھے رکھا، نہ خود اُسے کھلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔“
نبی کریم ﷺ · صحیح بخاری (۳۳۱۸) · مفہوم
تو معاملہ کسی بڑے کارنامے کا نہیں تھا۔ ایک بے زبان جانور پر ترس کے ایک لمحے نے پلڑا بدل دیا، اور وہ بھی اُس ہستی کا جسے لوگ سب سے کم تر سمجھتے تھے۔ اِس لیے اپنی چھوٹی نیکی کو کبھی کم نہ جانیے، اور کسی زندگی کو ختم شدہ نہ سمجھیے۔ اللہ کے ہاں رحم کا کوئی عمل معمولی نہیں، اور کوئی بھی عام سا لمحہ فیصلے کا رخ موڑ سکتا ہے۔
پھر یہ رحم جو ہمارے دلوں میں ہے، ہمارا اپنا بھی نہیں۔ یہ ایک سمندر سے آئی ہوئی ایک کرن ہے:
”اللہ کے پاس رحمت کے سو حصے ہیں، اُن میں سے صرف ایک حصہ اُس نے مخلوق میں اُتارا، جس کے سبب وہ آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۷۵۲a) · مفہوم
یعنی ماں کی مامتا، دوستوں کی مہربانی، اجنبیوں کا اجنبیوں پر ترس، یہ سب مل کر بھی اُسی ایک حصے میں سے ہے، اور باقی ننانوے حصے اللہ نے اپنے پاس رکھے ہیں۔ سو جب آپ کسی پر نرمی کرتے ہیں تو اُسی ایک حصے کو اپنے ہاتھوں سے آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں، اور دل اللہ کی ایک صفت کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک بات ہم اپنے اندر بھی محسوس کرتے ہیں کہ رحم کرنے والا خود ہلکا ہو جاتا ہے، جو رحمت اُس کے ہاتھ سے گزرتی ہے، کچھ اثر اُس پر بھی چھوڑ جاتی ہے۔ باقی رحمت کہاں اور کس صورت میں لوٹے گی، یہ اللہ کے سپرد رہنے دیجیے، وہ کسی نیکی کو نظر انداز نہیں کرتا۔ ہاں، رحم تقدیر کو نرم کرتا ہے، کیونکہ یہ اُس ذات کی رحمت کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے جس کے ہاتھ میں سب تقدیریں ہیں۔
ایک چھوٹا قدم: آج کسی ایک کمزور یا بے آواز کے ساتھ ایک چھوٹا سا رحم کیجیے، پرندوں کے لیے تھوڑا پانی رکھ دیجیے، یا کسی تھکے ہوئے کا بوجھ ذرا ہلکا کر دیجیے، اور اِس کا بدلہ خاموشی سے اللہ کے سپرد کر دیجیے۔
