دل کے سوال

کسی بہت اچھی نماز یا شبِ عبادت کے بعد مجھے دل میں خودپسندی کی ہلکی سی چمک محسوس ہوتی ہے۔ کیا میرے فخر نے ثواب مٹا دیا؟

Achi ibadat ke baad khudpasandi

اچھی نماز یا شبِ عبادت کے بعد دل میں جو ہلکی سی چمک اٹھتی ہے، وہ اتنی خوفناک چیز نہیں جتنی آپ نے سمجھ لی ہے۔ اکثر یہ عبادت کی وہی مٹھاس ہوتی ہے جو اللہ بندے کے دل میں رکھ دیتا ہے، قربت کا ایک ذائقہ۔ جیسے دھوپ میں کچھ دیر بیٹھ کر اٹھیں تو چہرہ دمکنے لگتا ہے، اسی طرح اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر دل بھی دمک جاتا ہے۔ عبادت میں لذت محسوس کرنا جرم نہیں۔

البتہ ایک باریک سی لکیر ہے۔ اللہ کی عطا پر خوش ہونا ایک بات ہے، اور اُس عطا کو چپکے سے اپنے نام لکھ لینا دوسری بات۔ اسی نازک مقام پر قرآن نے ہاتھ رکھا ہے،

”پس تم اپنی پاکیزگی خود بیان نہ کرو، وہی خوب جانتا ہے کہ کون پرہیزگار ہے۔“

قرآنِ کریم، سورۃ النجم ۵۳:۳۲ · مفہوم

غور کیجیے، یہ نہیں فرمایا گیا کہ تمہاری نماز ضائع ہو گئی۔ صرف اتنا فرمایا گیا کہ پاکیزگی کی سند اپنے ہاتھ سے نہ لکھو، یہ فیصلہ اُسی کے حوالے رہنے دو جو دل کے آخری کونے تک دیکھتا ہے۔ سو جب دل میں چمک اٹھے، آئینے کا رخ ذرا موڑ دیجیے کہ اپنی صورت کے بجائے اُس کا کرم اس میں جھلکنے لگے، ”یا اللہ، یہ سب تیری طرف سے تھا، تیری ہی توفیق سے۔“ اس ذرا سے رخ بدلنے میں خودپسندی شکر بن جاتی ہے، اور وہی گرمی دوبارہ عبادت ہو جاتی ہے۔

اب یہ سوال کہ تکبر نے ثواب مٹا دیا یا نہیں، تو یہاں جلدی نہ کیجیے۔ ایک گزرتی ہوئی جھلک، جسے آپ نے خود پہچانا اور خود ناپسند کیا، وہ اُس جمی ہوئی بڑائی جیسی نہیں جس سے حضور ﷺ نے ڈرایا،

”وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۹۱a) · مفہوم

حدیث کا لفظ ”تکبر“ ہے، یعنی وہ بڑائی جو دل میں جڑ پکڑ لے، دوسروں کو حقیر جانے اور حق کو ٹھکرا دے۔ آپ کی بات تو اس کے تقریباً برعکس ہے، آپ اپنے دل کی اسی سے حفاظت کر رہے ہیں۔ چمک آئی اور اس پر بےچینی ہوئی، تو یہ بندے کے اندر کا وہ خطرے کا گھنٹا ہے جو اپنا کام ٹھیک کر رہا ہے۔ گناہ چمک کے آنے میں نہیں، اُسے سینے سے لگا کر پالنے میں ہے۔

اس لیے اس ڈر کو ایک اچھی رات کا پھل نہ کھانے دیجیے۔ اجر اُس کے ہاں محفوظ ہے جس کا کرم ہمارے گمان سے بڑا ہے، اور وہ بےداغ دل نہیں مانگتا، پلٹ آنے والا دل مانگتا ہے۔ جب بھی چمک اپنی طرف جھکنے لگے، آہستہ سے اُس کی طرف جھکا دیجیے۔ کچھ عرصے میں یہ عادت بن جائے گی، مٹھاس باقی رہے گی اور خطرہ خود ہی سوکھ جائے گا۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار اچھی نماز کے بعد، جائے نماز سے اٹھنے سے پہلے ایک جملہ کہہ لیجیے، ”یا اللہ، یہ تیری توفیق تھی، میرا کمال نہیں۔“

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔