When I am hurt, my instinct is to answer sharpness with sharpness and coldness with coldness. How do I break this cycle and respond to bad treatment with something better?جب مجھے تکلیف پہنچتی ہے تو میری فطرت یہ ہے کہ تلخی کا جواب تلخی سے اور سرد مہری کا جواب سرد مہری سے دوں۔ میں اس چکر کو کیسے توڑوں اور بُرے سلوک کا جواب کسی بہتر چیز سے کیسے دوں؟
The instinct you describe, meeting sharpness with sharpness and cold with cold, sits in almost every chest. It is not a sin to be scolded away. It is a habit, and a better habit can take its place. You are not fighting your nature, you are raising it.
Allah offers a way out of this exhausting cycle, and He attaches a great reward to it.
“Repel evil with that which is better, and then the one between you and whom was enmity will become as though he were a devoted friend. And none is granted this except those who are patient, and none is granted it except one of great fortune.”
Qur’an, Fussilat 41:34-35 · meaning
Notice where the key is placed: in your hand, not theirs. The very person whose harshness stings you can soften into a friend, and answering better is called here the mark of great fortune. So on the day you manage it, know that Heaven counts you among the fortunate.
And we are not left to imagine this on our own. We have the living picture of our Prophet, peace be upon him. A bedouin once pulled his cloak so roughly that its coarse border left a mark on his blessed neck, then demanded, “O Muhammad, give me from the wealth of Allah that is with you.”
“The Prophet, peace be upon him, turned to the man, smiled, and ordered that he be given a gift.”
Reported by Anas (may Allah be pleased with him), Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 3149 / Muslim 1057a) · meaning
He bore the harshness with patience, and then he gave. Where anger had every right to answer, there was a smile. Where a debt of harshness could have been repaid, there was a gift. That is the heart we are being invited to grow, a heart so full that another’s rudeness cannot empty it.
This is why Allah describes His closest servants with words of peace upon their lips.
“And the servants of the Most Merciful are those who walk upon the earth in humility, and when the ignorant address them, they say words of peace.”
Qur’an, Al-Furqan 25:63 · meaning
And there is something we quietly notice in ourselves. When hostility is met with an unexpected calm, the quarrel loses its heat, because the other person has no fuel left to burn. Your gentleness is not you losing the exchange. It is you ending the fire.
One small step: The next time someone speaks to you sharply, pause, take one slow breath, and let your first words be soft ones, even a simple “peace, let us talk calmly.” Just once, and watch what it does.
جو بات آپ نے لکھی ہے، تلخی کے جواب میں تلخی اور سردی کے بدلے سردی، یہ کسی ایک آدمی کا عیب نہیں۔ یہ عادت کم و بیش ہر دل میں بیٹھی ہوئی ہے۔ اور عادت جس طرح پڑتی ہے، اسی طرح بدل بھی جاتی ہے۔ آپ اپنی فطرت سے لڑ نہیں رہے، اسے اوپر لے جا رہے ہیں۔
قرآنِ کریم نے اس تھکا دینے والے چکر سے نکلنے کا راستہ بھی بتا دیا اور اس راستے پر چلنے والوں کا اجر بھی:
”بُرائی کو اُس چیز سے دور کرو جو بہترین ہو، تو جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی وہ ایسا ہو جائے گا جیسے گہرا دوست۔ اور یہ مقام صرف اُنہی کو ملتا ہے جو صبر کرتے ہیں، اور یہ صرف اُسی کو نصیب ہوتا ہے جو بڑے نصیب والا ہو۔“
قرآن، سورۃ فصلت ۴۱:۳۴-۳۵ · مفہوم
غور کیجیے، کنجی سامنے والے کے ہاتھ میں نہیں، آپ کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے۔ جس کی سختی آج چبھتی ہے، وہی کل گہرا دوست بن سکتا ہے۔ اور بھلائی سے جواب دینے کو اللہ تعالیٰ نے کمزوری نہیں، بڑے نصیب کی علامت کہا ہے۔ تو جس دن یہ کام آپ سے ہو جائے، سمجھ لیجیے آپ کا نام نصیب والوں میں لکھا گیا۔
یہ بات ہمیں صرف سوچنی نہیں پڑتی، اس کا جیتا جاگتا نمونہ سامنے موجود ہے۔ ایک دیہاتی نے نبی کریم ﷺ کی چادر اِتنے زور سے کھینچی کہ اُس کے کھردرے کنارے کا نشان گردنِ مبارک پر پڑ گیا، اور پھر بڑی سختی سے کہنے لگا کہ اے محمد، اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے، اُس میں سے مجھے دیجیے۔
”پس نبی کریم ﷺ اُس کی طرف متوجہ ہوئے، مسکرا دیے، اور اُسے عطیہ دینے کا حکم فرمایا۔“
روایت: انس رضی اللہ عنہ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۳۱۴۹ / مسلم ۱۰۵۷a) · مفہوم
سختی پر صبر، اور پھر عطا۔ جہاں غصہ کرنے کا پورا حق تھا، وہاں مسکراہٹ تھی۔ جہاں سختی کا بدلہ چکایا جا سکتا تھا، وہاں تحفہ تھا۔ دل کو اسی سانچے میں ڈھالنے کی دعوت دی جا رہی ہے، ایسا دل جو اِتنا بھرا ہوا ہو کہ کسی کی بدتمیزی اُسے خالی نہ کر سکے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں کی پہچان یہ بتائی کہ اُن کی زبان پر سلام رہتا ہے:
”اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، اور جب جاہل اُن سے (اُلجھ کر) بات کریں تو وہ کہہ دیتے ہیں سلام۔“
قرآن، سورۃ الفرقان ۲۵:۶۳ · مفہوم
سلام کہہ کر آگے بڑھ جانا بزدلی نہیں۔ ہم اپنے تجربے سے جانتے ہیں کہ جھگڑا اُسی وقت ٹھنڈا پڑتا ہے جب سامنے سے گرمی کے بجائے نرمی ملے، کیونکہ پھر جلانے کے لیے ایندھن ہی باقی نہیں رہتا۔ آپ کی نرمی آپ کی ہار نہیں، آگ کا بجھ جانا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی بار کوئی سخت بات کہے تو جواب دینے سے پہلے ایک لمحہ ٹھہریے، ایک گہرا سانس لیجیے، اور پہلا لفظ نرم رکھیے، اِتنا ہی کہ “سلام، بات ٹھنڈے دل سے کر لیں۔” ایک بار کر کے دیکھیے، پھر خود اندازہ ہو جائے گا۔
